بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 41 از 86
حدیث نمبر: 2638 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، حَجَّاجٌ ، الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ذَبَحَ ثُمَّ حَلَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے قربانی کی، پھر حلق کروایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2638]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
حدیث نمبر: 2639 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، بن عباس
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدُمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمْ الْحُمَّى , قَالَ: فَأَطْلَعَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ،" فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا، وَقَعَدَ الْمُشْرِكُونَ نَاحِيَةَ الْحَجَرِ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِمْ، فَرَمَلُوا وَمَشَوْا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ"، قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَزْعُمُونَ أَنَّ الْحُمَّى وَهَنَتْهُمْ؟! هَؤُلَاءِ أَقْوَى مِنْ كَذَا وَكَذَا , ذَكَرُوا قَوْلَهُمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءٌ عَلَيْهِمْ" , وَقَدْ سَمِعْتُ حَمَّادًا يُحَدِّثُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عن بن عباس , وقد سمعت حماداً يذكره , عن ابن جبير , لَا شَكَّ فِيهِ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضا کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مدینہ منورہ کے بخار کی وجہ سے وہ لوگ کمزور ہو چکے تھے، مشرکین استہزاء کرنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آ رہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی اس بات کی اطلاع دے دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین حجر اسود والے کونے میں بیٹھے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے، جب مسلمانوں نے رمل کرنا اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان چلنا شروع کیا تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہی ہیں جن کے بارے تم یہ سمجھ رہے تھے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر کردیا ہے، یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ طاقتور معلوم ہو رہے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مشرکین کے دلوں میں اس افسوس کو مزید پختہ کرنے کے لئے ہی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پورے چکر میں رمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2639]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
حدیث نمبر: 2640 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، يُونُسُ ، عَمَّارٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ : كَمْ أَتَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ؟ قَالَ: مَا كُنْتُ أُرَى مِثْلَكَ فِي قَوْمِهِ، يَخْفَى عَلَيْكَ ذَلِكَ! قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ فَاخْتُلِفَ عَلَيَّ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَكَ فِيهِ , قَالَ: أَتَحْسِبُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: أَمْسِكْ:" أَرْبَعِينَ بُعِثَ لَهَا، وَخَمْسَ عَشْرَةَ أَقَامَ بِمَكَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ، وَعَشْرًا مُهَاجِرًا بِالْمَدِينَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمار - جو بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام تھے - کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ وصال مبارک کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر مبارک کیا تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ میرا خیال نہیں تھا کہ تم جیسے آدمی پر بھی یہ بات مخفی رہ سکتی ہے، میں نے عرض کیا کہ میں نے مختلف حضرات سے اس کے متعلق دریافت کیا ہے لیکن ان سب کا جواب ایک دوسرے سے مختلف تھا، اس لئے میں آپ کی رائے معلوم کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے پوچھا: کیا واقعی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: پھر یاد رکھو! چالیس سال کی عمر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا، پندرہ سال تک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے جہاں امن اور خوف کی ملی جلی کیفیت رہی اور دس سال ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2640]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:2353
الحكم: إسناده صحيح، م:2353
حدیث نمبر: 2641 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، رَجُلٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ , قَالَ: فَلُبِسَتْ الْقُمُصُ، وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ، وَنُكِحَتْ النِّسَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر چار ذی الحجہ کی صبح کو مکہ مکرمہ پہنچے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ بنا لیں، سوائے اس شخص کے جس کے پاس ہدی کا جانور ہو، چنانچہ عمرہ کے بعد قمیصیں پہن لی گئیں، انگیٹھیاں خوشبوئیں اڑانے لگیں اور عورتوں سے نکاح ہونے لگے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2641]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عنه أيوب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عنه أيوب
حدیث نمبر: 2642 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ ، ابْنَ شِهَابٍ ، أَبِي سِنَانٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ" , قَالَ: فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا، وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا، الْحَجُّ مَرَّةٌ، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے۔ یہ سن کر اقرع بن حابس کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2642]
حکم دارالسلام
صحيح، سليمان بن كثير فى روايته عن الزهري متكلم فيه، لكنه توبع
الحكم: صحيح، سليمان بن كثير فى روايته عن الزهري متكلم فيه، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2643 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ الْحَجَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ بِهِ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا، اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا، اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2643]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2644 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَ؟" , قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ , قَالَ: فَصَامَهُ مُوسَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ" , قَالَ: فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطا فرمائی تھی، جس پر حضرت موسی علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری نسبت موسی کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2644]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2004، م: 1130
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2004، م: 1130
حدیث نمبر: 2645 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: حِفْظِي ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: حِفْظِي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ حَبَلِ الْحَبَلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حاملہ جانور کے حمل کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2645]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2646 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ" , قَالَ قَتَادَةُ: وَلَا أَعْلَمُ الْقَيْءَ إِلَّا حَرَامًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2646]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
حدیث نمبر: 2647 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ، يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ، وَلَمْ نَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فِي ذَلِكَ مَثَلًا، حَتَّى حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2647]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، راجع ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 2648 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ , قَالَ: فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" لَا حَرَجَ" , وَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ , قَالَ: فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" لَا حَرَجَ" , قَالَ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ مِنَ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ، إِلَّا أَوْمَأَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" لَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں، اس دن تقدیم و تاخیر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا: کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2648]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307
الحكم: إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307
حدیث نمبر: 2649 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، أَبُو جَمْرَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا، فَقَالَ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: الْحُمَّى , قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوجمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لوگوں کے بےقابو ہجوم کو دور رکھتا تھا، لیکن کچھ عرصہ نہ جا سکا، بعد میں جب حاضر خدمت ہوا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اتنے دن نہ آنے کی وجہ پوچھی، میں نے عرض کیا کہ بخار ہو گیا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بخار جہنم کی گرمی کا اثر ہوتا ہے اس لئے اسے آب زمزم سے ٹھنڈا کیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2649]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3261
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3261
حدیث نمبر: 2650 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء، حنتم اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2650]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1995
الحكم: إسناده صحيح، م: 1995
حدیث نمبر: 2651 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو حَمْزَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كُنْتُ غُلَامًا أَسْعَى مَعَ الصِّبْيَانِ، قَالَ: فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفِي مُقْبِلًا، فَقُلْتُ: مَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِلَيَّ، قَالَ: فَسَعَيْتُ حَتَّى أَخْتَبِئَ وَرَاءَ بَابِ دَارٍ، قَالَ: فَلَمْ أَشْعُرْ حَتَّى تَنَاوَلَنِي، قَالَ: فَأَخَذَ بِقَفَايَ، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، قَالَ:" اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ" , وَكَانَ كَاتِبَهُ، قَالَ: فَسَعَيْتُ، فَقُلْتُ: أَجِبْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ عَلَى حَاجَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گزر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس انہیں بلانے کے لئے بھیج دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاتب تھے، میں دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلیے، انہیں آپ سے ایک کام ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2651]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2652 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا۔ اس لئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (بعد میں قضاء کر لے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2652]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1948، م: 1113
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1948، م: 1113
حدیث نمبر: 2653 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَمْرٌو ، يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، لم يسمعه منه:" أَنَّ جَدْيًا أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَجَعَلَ يَتَّقِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اس دوران ایک بکری کا بچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے بچنے لگے (اسے اپنے آگے سے گزرنے نہیں دیا)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2653]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، يحيي بن الجزار لم يسمعه من ابن عباس. وقد رواه البيهقي موصولا. فذكر بينهما صهيبا البصري أبا الصهباء، فإن ثبت هذا فالإسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، يحيي بن الجزار لم يسمعه من ابن عباس. وقد رواه البيهقي موصولا. فذكر بينهما صهيبا البصري أبا الصهباء، فإن ثبت هذا فالإسناد حسن
حدیث نمبر: 2654 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ، إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ، أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ، لَيْسَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، وَمَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت یحیی علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو، یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو، اور کسی شخص کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2654]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد ويوسف بن مهران لين الحديث. لكن قوله: وما ينبغي لأحد أن يقول : أنا خير من يونس بن متى صحيح
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد ويوسف بن مهران لين الحديث. لكن قوله: وما ينبغي لأحد أن يقول : أنا خير من يونس بن متى صحيح
حدیث نمبر: 2655 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ، فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ، يَعْنِي: نَبِيذَ السِّقَايَةِ، فَشَرِبَ مِنْهُ، وَقَالَ:" أَحْسَنْتُمْ , هَكَذَا فَاصْنَعُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے، اس وقت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، ہم نے انہیں یہی عام پانی پینے کے لئے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا اور آئندہ بھی اسی طرح کیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2655]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
حدیث نمبر: 2656 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِمَكَّةَ، فَكَبَّرَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ، فَكَبَّرَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً , قَالَ:" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادی بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں بائیس مرتبہ تکبیر کہی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں تجھے روئے، یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2656]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 788
الحكم: إسناده صحيح، خ: 788
حدیث نمبر: 2657 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو۔ (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے عصبہ کہتے ہیں)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2657]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6732، م: 1615
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6732، م: 1615