بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 15 از 86
حدیث نمبر: 2118 مسند احمد
يَزِيدُ ، حجاج ، الحكم ، مقسم ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حجاج ، عَنْ الحكم ، عَنْ مقسم ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ" طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى نَاقَتِه، يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ" , وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً: عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی فرمائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2118]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حجاج مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع.
الحكم: حديث صحيح، حجاج مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 2119 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ ، رَفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ، فَيَرْجِعَ فِيهَا، إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ، فَيَرْجِعُ فِيهَا، كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ , ثُمَّ رَجَعَ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر و سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی ہدیہ پیش کرے اور اس کے بعد اسے واپس مانگ لے، البتہ باپ اپنے بیٹے کو کچھ دے کر اگر واپس لیتا ہے تو وہ مستثنی ہے، جو شخص کسی کو کوئی ہدیہ دے اور پھر واپس مانگ لے، اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو کوئی چیز کھائے، جب اچھی طرح سیراب ہو جائے تو اسے قئی کر دے اور پھر اسی قئی کو چاٹنا شروع کر دے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2119]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 2120 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ لنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2120]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 2121 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ , أَنْ" يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ , أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2121]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفاً.
الحكم: صحيح موقوفاً.
حدیث نمبر: 2122 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ , وَرَوَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ , مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2122]
حکم دارالسلام
هو مكرر ماقبله
الحكم: هو مكرر ماقبله
حدیث نمبر: 2123 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاء، وَقَال:" أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ" , فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فُلَانًا , وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا کرو، خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ایسے شخص کو نکالا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نکالا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2123]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5886.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5886.
حدیث نمبر: 2124 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ: عَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا، وَعَلَى الْمُسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ، وَعَلَى الْخَائِفِ رَكْعَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2124]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 687.
الحكم: إسناده صحيح، م: 687.
حدیث نمبر: 2125 مسند احمد
يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ , حَتَّى ظَنَنْتُ أَوْ حَسِبْتُ أَنْ سَيَنْزِلُ عَلَيَّ فِيهِ قُرْآنٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے (اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2125]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول وشريك ابن عبداللذه سيئ الحفظ، ولكنه توبع.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول وشريك ابن عبداللذه سيئ الحفظ، ولكنه توبع.
حدیث نمبر: 2126 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَطَاءٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ، وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ، فَقَامَ عِنْدَ كُلِّ سَارِيَةٍ وَلَمْ يُصَلِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، خانہ کعبہ میں اس وقت چھ ستون تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر ستون کے پاس کھڑے ہوئے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1331.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1331.
حدیث نمبر: 2127 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، قَالَتْ امْرَأَةٌ: هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ , فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا نَظَرَ غَضْبَانَ، فَقَالَ:" وَمَا يُدْرِيكِ؟" , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" وَاللَّهِ , إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ , وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي" , فَأَشْفَقَ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ، فَلَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ , ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَقِي بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ" , فَبَكَتْ النِّسَاءُ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" مَهْلًا يَا عُمَرُ" , ثُمَّ قَالَ:" ابْكِينَ , وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ" , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ مَهْمَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ، فَمِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنْ الرَّحْمَةِ، وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَاللِّسَانِ، فَمِنْ الشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ایک خاتون کہنے لگی کہ عثمان! تمہیں جنت مبارک ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس خاتون کی طرف غصے بھری نگاہوں سے دیکھا اور فرمایا: تمہیں کیسے پتہ چلا؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کے شہسوار اور ساتھی تھے (اس لئے مرنے کے بعد جنت ہی میں جائیں گے)، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: واللہ! مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا، یہ سن کر لوگ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے ڈر گئے لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بڑی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے آگے جانے والے بہترین ساتھی عثمان بن مظعون سے جا ملو (جس سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہوگیا)۔ اس پر عورتیں رونے لگیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں کوڑوں سے مارنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: عمر! رک جاؤ، پھر خواتین سے فرمایا کہ تمہیں رونے کی اجازت ہے لیکن شیطان کی چیخ و پکار سے اپنے آپ کو بچاؤ، پھر فرمایا کہ جب تک یہ آنکھ اور دل کا معاملہ رہے تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور باعث رحمت ہوتا ہے اور جب ہاتھ اور زبان تک نوبت پہنچ جائے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2127]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، على بن زيد ضعيف، يوسف بن مهران، لين الحديث.
الحكم: إسناده ضعيف، على بن زيد ضعيف، يوسف بن مهران، لين الحديث.
حدیث نمبر: 2128 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَقَالَ:" هُنَّ وَقْتٌ لِأَهْلِهِنَّ وَلِمَنْ مَرَّ بِهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ مَنْزِلُهُ مِنْ وَرَاءِ الْمِيقَاتِ , فَإِهْلَالُهُ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُ , وَكَذَلِكَ فكذلك، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ إِهْلَالُهُمْ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذو الحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گزرنے والوں کے لئے بھی - جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں - اور جس کا گھر میقات سے پیچھے ہو تو وہ جہاں سے ابتدا کرے، وہیں سے احرام باندھ لے، حتی کہ اہل مکہ کا حرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتدا کریں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2128]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1526، م: 1181 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1526، م: 1181 .
حدیث نمبر: 2129 مسند احمد
يَزِيدُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، حِينَ أَتَاهُ، فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، قال:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ:" فَنِكْتَهَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا؟ یا تم نے اسے صرف چھوا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! تب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2129]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6824.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6824.
حدیث نمبر: 2130 مسند احمد
يَزِيدُ ، صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، فَجَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِهِ، فَقَالَ:" أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فجر کی نماز کے لئے اقامت ہوئی تو ایک آدمی دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کپڑے سے پکڑ کر کھینچا اور فرمایا: کیا تم فجر کی چار رکعتیں پڑھو گے؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2130]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 2131 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا سورة النور آية 4 , قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَهُوَ سَيِّدُ الْأَنْصَارِ: أَهَكَذَا نَزَلَتْ يَا رَسُولَ اللَّه؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ؟" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَلُمْهُ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ، وَاللَّهِ مَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا بِكْرًا، وَمَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ، فَاجْتَرَأَ رَجُلٌ مِنَّا عَلَى أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ , فَقَالَ سَعْدٌ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا حَقٌّ، وَأَنَّهَا مِنَ اللَّهِ تَعَالَى، وَلَكِنِّي قَدْ تَعَجَّبْتُ أَنِّي لَوْ وَجَدْتُ لَكَاعًا قد تَفَخَّذَهَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أَهِيجَهُ وَلَا أُحَرِّكَهُ، حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، فَوَاللَّهِ لَا آتِي بِهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ , قَالَ: فَمَا لَبِثُوا إِلَّا يَسِيرًا، حَتَّى جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ، وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، فَجَاءَ مِنْ أَرْضِهِ عِشَاءً، فَوَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ رَجُلًا، فَرَأَى بِعَيْنَيْهِ، وَسَمِعَ بِأُذُنَيْهِ، فَلَمْ يَهِجْهُ، حَتَّى أَصْبَحَ، فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُ أَهْلِي عِشَاءً، فَوَجَدْتُ عِنْدَهَا رَجُلًا، فَرَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ، وَسَمِعْتُ بِأُذُنَيَّ , فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ بِهِ، وَاشْتَدَّ عَلَيْه، وَاجْتَمَعَتْ الْأَنْصَارُ، فَقَالُوا: قَدْ ابْتُلِينَا بِمَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، الْآنَ يَضْرِبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَيُبْطِلُ شَهَادَتَهُ فِي الْمُسْلِمِينَ , فَقَالَ هِلَالٌ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِي مِنْهَا مَخْرَجًا، فَقَالَ هِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ أَرَى مَا اشْتَدَّ عَلَيْكَ مِمَّا جِئْتُ بِهِ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ , فوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَأْمُرَ بِضَرْبِهِ إِذْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ عَرَفُوا ذَلِكَ فِي تَرَبُّدِ جِلْدِهِ، يَعْنِي، فَأَمْسَكُوا عَنْهُ حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْوَحْي، فَنَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ سورة النور آية 6 , الْآيَةَ كلها، فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَبْشِرْ يَا هِلَالُ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا" , فَقَالَ هِلَالٌ: قَدْ كُنْتُ أَرْجُو ذَاكَ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْسِلُوا إِلَيْهَا" , فَأَرْسَلُوا إِلَيْهَا، فَجَاءَتْ، فتلاَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا، وَذَكَّرَهُمَا، وَأَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَذَابَ الْآخِرَةِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ الدُّنْيَا، فَقَالَ هِلَالٌ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ صَدَقْتُ عَلَيْهَا , فَقَالَتْ: كَذَبَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَاعِنُوا بَيْنَهُمَا" , فَقِيلَ لِهِلَالٍ: اشْهَدْ , فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ، فَلَمَّا كَانَ فِي الْخَامِسَةِ، قِيلَ: يَا هِلَالُ , اتَّقِ اللَّهَ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ , فَقَالَ: لا , وَاللَّهِ لَا يُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَيْهَا، كَمَا لَمْ يَجْلِدْنِي عَلَيْهَا , فَشَهِدَ فِي الْخَامِسَةِ، أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِين , ثُمَّ قِيلَ لَهَا: اشْهَدِي أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ، إِنَّهُ لَمِنْ الْكَاذِبِينَ , فَلَمَّا كَانَتْ الْخَامِسَةُ، قِيلَ لَهَا: اتَّقِ اللَّهَ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ , فَتَلَكَّأَتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي , فَشَهِدَتْ فِي الْخَامِسَةِ: أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَقَضَى أَنَّهُ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لِأَبٍ، وَلَا تُرْمَى هِيَ بِهِ وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا، وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا، فَعَلَيْهِ الْحَدُّ، وَقَضَى أَنْ لَا بَيْتَ لَهَا عَلَيْهِ، وَلَا قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ، وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا، وَقَالَ:" إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُصَيْهِبَ، أُرَيْسِحَ، حَمْشَ السَّاقَيْنِ، فَهُوَ لِهِلَالٍ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا، جُمَالِيًّا، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ" , فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ، جَعْدًا، جُمَالِيًّا، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا الْأَيْمَانُ، لَكَانَ لِي وَلَهَا شَانٌ" , قَالَ عِكْرِمَةُ: فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرٍ، وَكَانَ يُدْعَى لِأُمِّهِ، وَمَا يُدْعَى لِأَب.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا﴾ [النور: 4] » جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں اور اس پر چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو انہیں اسی کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو، تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ - جو انصار کے سردار تھے - کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا یہ حکم آپ پر اسی طرح نازل ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے گروہ انصار! سنتے ہو کہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کی بات کا برا نہ منائیے کیونکہ یہ بہت باغیرت آدمی ہیں، واللہ انہوں نے ہمیشہ صرف کنواری عورت سے ہی شادی کی ہے، اور جب کبھی انہوں نے اپنی کسی بیوی کو طلاق دی ہے تو کسی دوسرے آدمی کو ان کی اس مطلقہ بیوی سے بھی - ان کی شدت غیرت کی وجہ سے - شادی کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! مجھے اس بات کا یقین ہے کہ یہ حکم برحق ہے اور اللہ ہی کی طرف سے آیا ہے، لیکن مجھے اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ اگر میں کسی کمینی عورت کو اس حال میں دیکھوں کہ اسے کسی آدمی نے اپنی رانوں کے درمیان دبوچ رکھا ہو اور میں اس پر غصہ میں بھی نہ آؤں اور اسے چھیڑوں بھی نہیں، پہلے جا کر چار گواہ لے کر آؤں، واللہ! میں تو جب تک گواہ لے کر آؤں گا اس وقت تک وہ اپنا کام پورا کر چکا ہوگا۔ ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ تھوڑی دیر بعد سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آگئے، یہ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ ان تین میں سے ایک ہیں جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے اور بعد میں ان کی توبہ قبول ہو گئی تھی، یہ عشاء کے وقت اپنی زمین سے واپس آئے، تو اپنی بیوی کے پاس ایک اجنبی آدمی کو دیکھا، انہوں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں لیکن تحمل کا مظاہر کیا، صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں رات کو اپنی بیوی کے پاس آیا تو اس کے پاس ایک اجنبی آدمی کو پایا، میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ بات بڑی شاق گزری اور اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ناگواری کا اظہار فرمایا، انصار بھی اکٹھے ہو گئے اور کہنے لگے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے جو کہا تھا، ہم اسی میں مبتلا ہو گئے، اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سزا دیں گے اور مسلمانوں میں ان کی گواہی کو ناقابل اعتبار قرار دے دیں گے، لیکن سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ واللہ! مجھے امید ہے کہ اللہ میرے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ضرور بنائے گا، پھر سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں نے جو مسئلہ آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے، وہ آپ پر شاق گزرا ہے، اللہ جانتا ہے کہ میں اپنی بات میں سچا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان پر سزا جاری کرنے کا حکم دینے والے ہی تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوگیا، اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ متغیر ہونے سے اسے پہچان لیتے تھے، اور اپنے آپ کو روک لیتے تھے، تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وحی سے فراغت ہو جاتی، چنانچہ اس موقع پر یہ آیت لعان نازل ہوئی: « ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ . . .﴾ [النور: 6] » جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کا الزام لگائیں اور ان کے پاس سوائے ان کی اپنی ذات کے کوئی اور گواہ نہ ہو تو . . .۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سے نزول وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو فرمایا: ہلال! تمہیں خوشخبری ہو کہ اللہ نے تمہارے لئے کشادگی اور نکلنے کا راستہ پیدا فرما دیا، انہوں نے عرض کیا کہ مجھے اپنے پروردگار سے یہی امید تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کی بیوی کو بلاؤ، چنانچہ لوگ اسے بلا لائے، جب وہ آگئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کے سامنے مذکورہ آیات کی تلاوت فرمائی اور انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آخرت کا عذاب دنیا کی سزا سے زیادہ سخت ہے۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! میں اس پر الزام لگانے میں سچا ہوں، جبکہ ان کی بیوی نے تکذیب کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان لعان کرا دو (جس کا طریقہ یہ ہے کہ) سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ گواہی دیجئے، انہوں نے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دی کہ وہ اپنے دعوی میں سچے ہیں، جب پانچویں مرتبہ کہنے کی باری آئی تو ان سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈرو، دنیا کی سزا آخرت کی سزا سے ہلکی ہے اور یہ پانچویں مرتبہ کی قسم تم پر سزا کو ثابت کر سکتی ہے، انہوں نے کہا: اللہ نے جس طرح مجھے کوڑے نہیں پڑنے دیئے، وہ مجھے سزا بھی نہیں دے گا، اور انہوں نے پانچویں مرتبہ یہ قسم کھا لی کہ اگر وہ جھوٹے ہوں تو ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر ان کی بیوی سے اسی طرح چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر اس بات پر گواہی دینے کے لئے کہا گیا کہ ان کا شوہر اپنے الزام میں جھوٹا ہے، جب پانچویں قسم کی باری آئی تو اس سے کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو، دنیا کی سزا آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے اور یہ پانچویں مرتبہ کی قسم تجھ پر سزا بھی ثابت کر سکتی ہے، یہ سن کر وہ ایک لمحے کے لئے ہچکچائی، پھر کہنے لگی: واللہ! میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی، اور پانچویں مرتبہ یہ قسم کھا لی کہ اگر اس کا شوہر سچا ہو تو بیوی پر اللہ کا غضب نازل ہو، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور یہ فیصلہ فرما دیا کہ اس عورت کی اولاد کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے، نہ اس عورت کو اس کے شوہر کی طرف منسوب کیا جائے، اور نہ اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائی جائے، جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائے گا، اسے سزا دی جائے گی، نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ اس عورت کی رہائش بھی اس کے شوہر کے ذمے نہیں ہے اور نان نفقہ بھی، کیونکہ ان دونوں کے درمیان طلاق یا وفات کے بغیر جدائی ہوئی تھی، اور فرمایا کہ اگر اس عورت کے یہاں پیدا ہونے والا بچہ سرخ و سفید رنگ کا ہو، ہلکے سرین والا اور پتلی پنڈلیوں والا ہو تو وہ ہلال کا ہوگا، اور اگر گندمی رنگ کا ہو، گھنگھریالے بالوں والا، بھری ہوئی پنڈلیوں اور بھرے ہوئے سیرین والا ہو تو یہ اس شخص کا ہوگا جس کی طرف اس عورت کو متہم کیا گیا ہے، چنانچہ اس عورت کے یہاں جو بچہ پیدا ہوا اس کا رنگ گندمی، بال گھنگھریالے، بھری ہوئی پنڈلیاں اور بھرے ہوئے سیرین تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو فرمایا کہ اگر قسم کا پاس لحاظ نہ ہوتا تو میرا اور اس عورت کا معاملہ ہی دوسرا ہوتا۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ بعد میں بڑا ہو کر وہ بچہ مصر کا گورنر بنا، لیکن اسے اس کی ماں کی طرف ہی منسوب کیا جاتا تھا، باپ کی طرف نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2131]
حکم دارالسلام
حديث حسن، عباد بن منصور - وإن كان فيه ضعف من جهة حفظه - قد توبع على بعضه .
الحكم: حديث حسن، عباد بن منصور - وإن كان فيه ضعف من جهة حفظه - قد توبع على بعضه .
حدیث نمبر: 2132 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى أَعْوَادِ الْمِنْبَرِ:" لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قُلُوبِهِمْ، وَلَيُكْتَبَنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر و سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے: لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2132]
حکم دارالسلام
حديث صحيح. وإن كانت رواية يحيى بن أبى كثير عن أبى سلام من كتاب ، وقد توبع.
الحكم: حديث صحيح. وإن كانت رواية يحيى بن أبى كثير عن أبى سلام من كتاب ، وقد توبع.
حدیث نمبر: 2133 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِوَلَدِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِهِ لَمَمًا، وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ طَعَامِنَا، فَيُفْسِدُ عَلَيْنَا طَعَامَنَا , قَالَ:" فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ، وَدَعَا لَهُ" , فثَعَّ ثَعَّةً، فَخَرَجَ مِنْ فِيهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ، فَشُفِيَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اسے کوئی تکلیف ہے، کھانے کے دوران جب اسے وہ تکلیف ہوتی ہے تو یہ ہمارا سارا کھاناخراب کر دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا فرمائی، اچانک اس بچے کو قئی ہوئی اور اس کے منہ سے ایک کالے بلے جیسی کوئی چیز نکلی اور بھاگ گئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2133]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فرقد السبخي ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف، فرقد السبخي ضعيف.
حدیث نمبر: 2134 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، وَشَكَا إِلَيْهِ ضَعْفَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِك، فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہو گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی اس منت سے بےنیاز ہے، اسے چاہئے کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2134]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2135 مسند احمد
مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عِنْدَ زَمْزَمَ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ , قَالَ:" عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ؟" , قُلْتُ: عَنْ صَوْمِهِ، أَيّ يومٍ أصومُه؟ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعَةٍ، فَأَصْبِحْ مِنْهَا صَائِمًا" , قُلْتُ: أَكَذَاكَ كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ چاہ زمزم سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2135]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2136 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، لَيْثًا ، طَاوُسًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ لَيْثًا ، قال: سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" عَلِّمُوا، وَيَسِّرُوا، وَلَا تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کو علم سکھاؤ، آسانیاں پیدا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو، اور تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کرلینا چاہئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2136]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ليث بن أبى سليم رمي بالاختلاط، وقوله: «علموا ويسروا ولا تعسروا» ، صحيح لغيره .
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ليث بن أبى سليم رمي بالاختلاط، وقوله: «علموا ويسروا ولا تعسروا» ، صحيح لغيره .
حدیث نمبر: 2137 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ ، الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو ، سَعَيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنْ سَعَيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ، فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ , أَنْ يَشْفِيَكَ، إِلَّا عُوفِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے: «أَسْأَلُ اللّٰهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ» میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے، تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2137]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، يزيد أبو خالد وإن كان فيه كلام، قد توبع.
الحكم: حديث صحيح، يزيد أبو خالد وإن كان فيه كلام، قد توبع.