بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 63 از 86
حدیث نمبر: 3078 مسند احمد
عربی حدیث ابھی نہیں ملی
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا، اب کیا حکم ہے؟ فرمایا: آپ ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3078]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2761، م: 1638
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2761، م: 1638
حدیث نمبر: 3079 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الْمُنْذِرِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَفْطَسِ ، وَهْبًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَفْطَسِ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْرُجُ مِنْ عَدَنِ أَبْيَنَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا، يَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، هُمْ خَيْرُ مَنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ" قَالَ لِي مَعْمَرٌ: اذْهَبْ فَاسْأَلْهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عدن سے بارہ ہزار آدمی اللہ اور اس کے رسول کی مدد کے لئے نکلیں گے، یہ لوگ میرے اور ان کے درمیان تمام لوگوں سے بہتر ہوں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3079]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 3080 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، يَعْلَى ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ: ابْنُ بَكْرٍ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ بِشَيْءٍ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطَ الْمَخْرَفِ صَدَقَةٌ عَلَيْهَا. وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: الْمِخْرَافِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس وقت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہوا، وہ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے، بعد میں انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری غیر موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو کیا اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں تو انہیں اس کا فائدہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا ایک باغ ہے، وہ میں نے ان کے نام پر صدقہ کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3080]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2756
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2756
حدیث نمبر: 3081 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، حَكِيمُ بْنُ حَكِيمٍ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ، فَصَلَّى بِي الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ، الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت جبرئیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے قریب ایک مرتبہ میری امامت کی، چنانچہ انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زوال شمس ہو گیا اور ایک تسمہ کے برابر وقت گزر گیا، عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو گیا، مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے، اور عشا کی نماز غروب شفق کے بعد پڑھائی، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار کے لئے کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔ پھر اگلے دن ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوگیا، اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا، مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے، عشا کی نماز رات کی پہلی تہائی میں پڑھائی، اور فجر کی نماز خوب روشنی کر کے پڑھائی اور میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ آپ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کا وقت رہا ہے، نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3081]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3082 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ
حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْفَجْرِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي:" لَا أَدْرِي أَيَّ شَيْءٍ، قَالَ"، وَقَالَ فِي الْعِشَاءِ:" صَلَّى بِي حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی معمولی اختلاف کے ساتھ مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3082]
حکم دارالسلام
إسناده حسن كسابقه
الحكم: إسناده حسن كسابقه
حدیث نمبر: 3083 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ ، وَهْبُ بْنُ مَانُوسَ الْعَدَنِيُّ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ مَانُوسَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاء، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3083]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3084 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسَ، غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اس سند سے ایک اور حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3084]
حکم دارالسلام
هذا ليس بحديث، بل هو إخبار من الإمام أحمد
الحكم: هذا ليس بحديث، بل هو إخبار من الإمام أحمد
حدیث نمبر: 3085 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ سُحْتًا، لَمْ يُعْطِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (بنو بیاضہ کے ایک غلام کو بلایا اس نے) سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے (ڈیڑھ مد گندم بطور) اجرت کے عطا فرمائی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3085]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3086 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْحَنْتَمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استعمال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گزر چکی ہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3086]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 53، م: 17
الحكم: إسناده صحيح، خ: 53، م: 17
حدیث نمبر: 3087 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، فَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3087]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1421
الحكم: حديث صحيح، م: 1421
حدیث نمبر: 3088 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ ، أَبَا الْحَسَنِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ ، عَنْ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ يَعْنِي أَبَا الْحَسَنِ ، قَالَ:" سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ بِطَلْقَتَيْنِ، ثُمَّ عَتَقَا، أَيَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: عَمَّنْ؟ قَالَ: أَفْتَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قال عبد الله: قال أبي: قِيلَ لِمَعْمَرٍ يَا أَبَا عُرْوَةَ، مَنْ أَبُو حَسَنٍ هَذَا؟ لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً!!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالحسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی غلام اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے یا نہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کر سکتا ہے، اس نے پوچھا کہ یہ بات آپ کس کی طرف سے نقل کر رہے ہیں؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی فتوی دیا ہے۔ عبداللہ اپنے والد امام احمد رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ کسی نے معمر سے پوچھا: اے ابوعروہ! یہ ابوالحسن کون ہے؟ اس نے تو بہت بڑی چٹان اٹھائی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3088]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وقد سلف الكلام عليه برقم: 2031
الحكم: إسناده ضعيف، وقد سلف الكلام عليه برقم: 2031
حدیث نمبر: 3089 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنَ الْمَدِينَةِ مَعَهُ عَشْرَةُ آلَافٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَذَلِكَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ، فَسَارَ بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَكَّةَ، يَصُومُ وَيَصُومُونَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ، وَهُوَ مَا بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ، أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، فَلَمْ يَصُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو یہ رمضان کا مہینہ تھا، ہمراہی میں دس ہزار مسلمان تھے اور مدینہ منورہ آئے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ساڑھے آٹھ سال گزر چکے تھے، روانگی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور تمام مسلمان روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3089]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1944، م : 1113
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1944، م : 1113
حدیث نمبر: 3090 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَعُمَرُ يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَمَضَى حَتَّى أَتَى الْبَيْتَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى بِهِ، فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ يُقَبِّلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَوْتَتَيْنِ، لَقَدْ مِتَّ الْمَوْتَةَ الَّتِي لَا تَمُوتُ بَعْدَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے بول رہے تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے اس کمرے میں پہنچے جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا تھا، یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مقدسہ میں، وہاں پہنچ کر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رخ زیبا سے دھاری دار چادر کو ہٹایا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ڈال دی گئی تھی، اور رخ انور کو دیکھتے ہی اس پر جھک کر اسے بوسے دینے لگے، پھر فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ آپ پر دو موتیں کبھی جمع نہیں کرے گا، آپ پر ایسی موت طاری ہوئی ہے جس کے بعد آپ پر کبھی موت نہ آئے گی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3090]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3091 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْمَسْجِدَ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3092 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ:" قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَقْرَأَ فِيهِ، وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَسْكُتَ فِيهِ، قَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"، وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا سورة مريم آية 64.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ظہر اور عصر میں قراءت نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ جن نمازوں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قراءت کا حکم دیا گیا، ان میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قراءت فرمائی اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا وہاں خاموش رہے، اور تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے، اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3092]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3093 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ، أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ، فَأَخْرَجَ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام، فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَاتَلَهُمْ اللَّهُ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اقْتَسَمَا بِهَا قَطُّ" قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ، فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ، وَخَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْبَيْتِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بتوں کی موجودگی میں بیت اللہ کے اندر داخل ہونے سے احتراز فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر وہاں سے سب چیزیں نکال لی گئیں، ان میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی مورتیاں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں پانسے کے تیر تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی مار ہو ان پر، یہ جانتے بھی تھے کہ ان دونوں حضرات نے کبھی ان تیروں سے کسی چیز کو تقسیم نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ میں داخل ہو کر اس کے کونوں میں اللہ کی کبریائی کا ترانہ بلند کیا اور باہر نکل آئے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز نہیں پڑھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3093]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4288
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4288
حدیث نمبر: 3094 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے سامان کے ساتھ رات ہی کو بھیج دیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3094]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1677، م: 1293
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1677، م: 1293
حدیث نمبر: 3095 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَرِهَ نَبِيذَ الْبُسْرِ وَحْدَهُ، وَقَالَ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الْقَيْسِ عَنِ الْمُزَّاءِ، فَأَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْبُسْرُ وَحْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما صرف کچی کھجور کھانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو عبدالقیس کے وفد کو «مُزَّاءِ» سے منع کیا ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس سے مراد کچی کھجور ہی نہ ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3095]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3096 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَزْرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ". قَالَ عَفَّانُ: ب الم تَنْزِيلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3097 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السَّمِيطِ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السَّمِيطِ ، قَالَ قَتَادَةُ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3097]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي