بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 35 از 86
حدیث نمبر: 2518 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو التَّيَّاحِ ، مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَجَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمَعَ سِنَانٍ بَدَنَةٌ، فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ، فَعَيَّ بِشَأْنِهَا، فَقُلْتُ: لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ هَذَا، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، قُلْتُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، وَعِنْدَهُ جَارِيَةٌ، فكَانَ لِي حَاجَتَانِ , وَلِصَاحِبِي حَاجَةٌ، فَقَالَ: أَلَا أُخْلِيكَ؟ قُلْتُ: لَا , فَقُلْتُ: كَانَتْ مَعِي بَدَنَةٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَيْنَا، فَقُلْتُ: لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ، لَأَسْتَبْحِثَنّ عَنْ هَذَا , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبُدْنِ مَعَ فُلَانٍ، وَأَمَرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ، فَلَمَّا قَفَّا رَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَصْنَعُ بِمَا أَزْحَفَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ:" انْحَرْهَا وَاصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، وَاضْرِبْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أهل رُفْقَتِكَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَكُونُ فِي هَذِهِ الْمَغَازِي، فَأُغْنَمُ فَأُعْتِقُ عَنْ أُمِّي، أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَكُونُ فِي هَذِهِ الْمَغَازِي، فَأُغْنَمُ فَأُعْتِقُ عَنْ أُمِّي، أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَرَتْ امْرَأَةُ سنَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيَّ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُمِّهَا تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تَحْجُجْ، أَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّهَا دَيْنٌ، فَقَضَتْهُ عَنْهَا، أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْ أُمِّهَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" فَلْتَحْجُجْ عَنْ أُمِّهَا". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَسَأَلَهُ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ، فَقَالَ:" مَاءُ الْبَحْرِ طَهُورٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
موسی بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور سنان بن سلمہ حج کے لئے روانہ ہوئے، سنان کے پاس ایک اونٹنی تھی، وہ راستے میں تھک گئی اور وہ اس کی وجہ سے عاجز آ گئے، میں نے سوچا کہ مکہ مکرمہ پہنچ کر اس کے متعلق ضرور دریافت کروں گا، چنانچہ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو میں نے سنان سے کہا کہ آؤ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلتے ہیں، ہم وہاں چلے گئے، وہاں پہنچے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک بچی بیٹھی ہوئی تھی، مجھے ان سے دو کام تھے اور میرے ساتھی کو ایک، وہ کہنے لگا کہ میں باہر چلا جاتا ہوں، آپ تنہائی میں اپنی بات کر لیں؟ میں نے کہا ایسی کوئی بات ہی نہیں (جو تخلیہ میں پوچھنا ضروری ہو)۔ پھر میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میرے پاس ایک اونٹنی تھی جو راستے میں تھک گئی، میں نے دل میں سوچا تھا کہ میں مکہ مکرمہ پہنچ کر اس کے متعلق ضرور دریافت کروں گا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ کچھ اونٹنیاں کہیں بھجوائیں اور جو حکم دینا تھا وہ دے دیا، جب وہ شخص جانے لگا تو پلٹ کر واپس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھک جائے تو کیا کروں؟ فرمایا: اسے ذبح کر کے اس کے نعل کو اس کے خون میں رنگ دینا اور اسے اس کی پیشانی پر لگا دینا، نہ خود اسے کھانا اور نہ تمہارا کوئی ساتھی اسے کھائے۔ میں نے دوسرا سوال یہ پوچھا کہ میں غزوات میں شرکت کرتا ہوں، مجھے اس میں مال غنیمت کا حصہ ملتا ہے، میں اپنی والدہ کی طرف سے کسی غلام یا باندی کو آزاد کر دیتا ہوں تو کیا میرا ان کی طرف سے کسی کو آزاد کرنا ان کے لئے کفایت کرے گا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سنان بن عبداللہ جہنی کی اہلیہ نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھیں کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، وہ حج نہیں کر سکی تھیں، کیا ان کی طرف سے میرا حج کرنا ان کے لئے کفایت کر جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ اگر ان کی والدہ پر کوئی قرض ہوتا اور وہ اسے ادا کر دیتیں تو کیا وہ ادا ہوجاتا یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: پھر اسے اپنی والدہ کی طرف سے حج کر لینا چاہیے۔ انہوں نے سمندر کے پانی کے بارے بھی سوال کیا، تو فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2518]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1325
الحكم: إسناده صحيح، م: 1325
حدیث نمبر: 2519 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا رَوَى عَنْ رَبِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَحِيمٌ، مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشَرَاً، إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ، إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ وَاحِدَةً، أَوْ يَمْحُوهَا اللَّهُ، وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا هَالِكٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا رب بڑا رحیم ہے، اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں سے سات سو تک بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ثواب لکھا جاتا ہے، اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے متعلق صرف وہی شخص ہلاک ہو سکتا ہے جو ہلاک ہونے والا ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2519]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2520 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى، أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر، یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2520]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2021
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2021
حدیث نمبر: 2521 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَجَدَ فِي ص".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سورہ صٓ میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2521]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1069
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1069
حدیث نمبر: 2522 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّا نَغْزُو أَهْلَ الْمَغْرِبِ، وَأَكْثَرُ أَسْقِيَتِهِمْ، وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ: وَعَامَّةُ أَسْقِيَتِهِمْ، الْمَيْتَةُ , فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" دِبَاغُهَا طُهُورُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن وعلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ہم لوگ اہل مغرب سے جہاد کرتے ہیں اور ان کے مشکیزے عام طور پر مردار کی کھال کے ہوتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2522]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 366
الحكم: إسناده صحيح، م: 366
حدیث نمبر: 2523 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، سَبْعَ سِنِينَ يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَثَمَانِي سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، اور آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دس سال تک اقامت گزیں رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2523]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2353
الحكم: إسناده صحيح، م: 2353
حدیث نمبر: 2524 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" انْتَهَسَ مِنْ كَتِفٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2524]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2525 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، جَابِرٍ ، عَمَّارٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عَفَّانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، لَمْ يَنْسُبْهُ عَفَّانُ أَكْثَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ، فَإِيَّايَ رَأَى، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَخَيَّلُ بِي" , وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً:" لَا يَتَخَيَّلُنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے خواب میں میری زیارت کی، وہ یقین کر لے کہ اس نے مجھ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میرے تخیل کو کسی پر طاری نہیں کر سکتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2525]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 2526 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يُخْبِرُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا، فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے، اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2526]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1841، م: 1178
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1841، م: 1178
حدیث نمبر: 2527 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، طَاوُسًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا" , وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى:" أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَلَا يَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2527]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
الحكم: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
حدیث نمبر: 2528 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَبَا حَسَّانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ، فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ، ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا، ثُمَّ قَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ، ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ، فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر سوار ہوگئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2528]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1243
الحكم: إسناده صحيح، م: 1243
حدیث نمبر: 2529 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2529]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
حدیث نمبر: 2530 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزُ حِمَارٍ أَوْ قَالَ: رِجْلُ حِمَارٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی گئی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2530]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1194
الحكم: إسناده صحيح، م: 1194
حدیث نمبر: 2531 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ، قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2531]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730
حدیث نمبر: 2532 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا" , قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لَهُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2532]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م :1957
الحكم: إسناده صحيح، م :1957
حدیث نمبر: 2533 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي فِطْرٍ، فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَجَعَلَ يَقُولُ:" تَصَدَّقْنَ" , فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا، وَسِخَابَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عید کے دن نکلے اور اس سے پہلے نماز پڑھی نہ بعد میں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2533]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 964، م: 884
الحكم: إسناده صحيح، خ: 964، م: 884
حدیث نمبر: 2534 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، بِجَمْعٍ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا بِإِقَامَةٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حکم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے مغرب کی نماز تین رکعتوں میں حضر کی طرح پڑھائی، پھر سلام پھیر کر عشا کی دو رکعتیں حالت سفر کی وجہ سے پڑھائیں، اور پھر فرمایا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی طرح کیا تھا اور فرمایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2534]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2535 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَهْدَى صَعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ وَهُوَ يَقْطُرُ دَمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں، اس وقت اس سے خون ٹپک رہا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2535]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1194
الحكم: إسناده صحيح، م: 1194
حدیث نمبر: 2536 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ صَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں بھی تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2536]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2537 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَمِّ نَبِيِّكُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ عِنْدَ الْكَرْبِ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2537]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2345، م: 2730
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2345، م: 2730