بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 39 از 86
حدیث نمبر: 2598 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، طَاوُسٍ ، وَعَطَاءٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، وَعَطَاءٍ , وَمُجَاهِدٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا مِمَّا نَهَانَا عَنْهُ، قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَذَرْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا" , قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِطَاوُسٍ، وَكَانَ يَرَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَعْلَمِهِمْ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ، خَيْرٌ لَهُ" , قَالَ شُعْبَةُ: وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يَجْمَعُ هَؤُلَاءِ طَاوُسًا، وَعَطَاءً، وَمُجَاهِدًا، وَكَانَ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْهُ مُجَاهِدٌ، قَالَ شُعْبَةُ: كَأَنَّهُ صَاحِبُ الْحَدِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لئے نفع بخش تھا، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حکم زیادہ بہتر ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے وہ خود کاشت کرے، یا چھوڑ دے، یا پھر کسی کو ہبہ کر دے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات طاؤس سے ذکر کی تو انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2598]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
حدیث نمبر: 2599 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، طَاوُسًا ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا ، قَالَ:" سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23 , قَالَ: فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : عَجِلْتَ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ مِنْ بُطُونِ قُرَيْشٍ، إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ، فَقَالَ: إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کا مطلب پوچھا: « ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ [الشورى: 23] » تو ان کے جواب دینے سے پہلے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ بول پڑے کہ اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم نے جلدی کی، قریش کے ہر خاندان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرابت داری تھی، جس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ میں اپنی اس دعوت پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر تم اتنا تو کرو کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اسے جوڑے رکھو اور اسی کا خیال کر لو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2599]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4818
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4818
حدیث نمبر: 2600 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا بِشْرٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ، فَأْقعَصَتْهُ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَقَالَ:" لَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ، خَارِجَ رَأْسِهِ، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ إِنَّهُ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: خَارِجَ رَأْسِهِ، أَوْ وَجْهِهِ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2600]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206
حدیث نمبر: 2601 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ، وَأَنَا مَخْتُونٌ، وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ مِنَ الْقُرْآنِ" , قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي بِشْرٍ: مَا الْمُحْكَمُ؟ قَالَ: الْمُفَصَّلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، درحقیقت وہ محکمات ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا اور میرے ختنے بھی ہو چکے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2601]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2602 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ،" فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، میں ان کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2602]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 117، م: 763
الحكم: إسناده صحيح، خ: 117، م: 763
حدیث نمبر: 2603 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) َحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2603]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، دون ذكر السرج، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى صالح
الحكم: حسن لغيره، دون ذكر السرج، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى صالح
حدیث نمبر: 2604 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، صَالِحٍ مَوْلَى ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، الْهَاشِمِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوَْمَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ، يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ" , وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ:" إِذَا رَكَعْتَ، فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ، وَقَالَ الْهَاشِمِيُّ مَرَّةً: حَتَّى تَطْمَئِنَّا، وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ، حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نماز کا کوئی مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو، یعنی اسے اسباغ وضو کا حکم دیا، ان ہی میں سے ایک بات یہ بھی ارشاد فرمائی کہ جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو یہاں تک کہ تم اطمینان سے رکوع کر لو، اور جب سجدہ کرو تو اپنی پیشانی کو زمین پر ٹکا دو یہاں تک کہ زمین کا حجم محسوس کرنے لگو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2604]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2605 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ قَالَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَسْدِلُ شَعْرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ شُعُورَهُمْ، وَكَانَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ، ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2605]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3944.، م : 2336
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3944.، م : 2336
حدیث نمبر: 2606 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" كَانَ يَشْرَبُ بِالنَّهَارِ مَا صُنِعَ بِاللَّيْلِ، وَيَشْرَبُ بِاللَّيْلِ مَا صُنِعَ بِالنَّهَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیار کی جانے والی نبیذ دن کو، اور دن کو تیار کی جانے والی نبیذ رات کو پی لیتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2606]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف حسين بن عبدالله
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 2607 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّقِيرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَقَالَ:" لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ذِي إِكَاءٍ" , فَصَنَعُوا جُلُودَ الْإِبِلِ، ثُمَّ جَعَلُوا لَهَا أَعْنَاقًا مِنْ جُلُودِ الْغَنَمِ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ:" لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَعْلَاهُ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نقیر، دباء اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے کہ صرف ان برتنوں میں پانی پیا کرو جنہیں باندھا جا سکے (منہ بند ہو جائے)، لوگوں نے اونٹ کی کھالوں کے مشکیزے بنائے اور ان کا منہ بند کرنے کے لئے بکری کی کھال استعمال کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا کہ صرف ان برتنوں میں پانی پیا کرو جن کا اوپر والا حصہ بھی ان برتنوں کا جزو ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2607]
حکم دارالسلام
هذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله. لكن النهي عن النقير والدباء والمزفت صحيح
الحكم: هذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله. لكن النهي عن النقير والدباء والمزفت صحيح
حدیث نمبر: 2608 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عَاصِمٌ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ , قَالَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، قَالَ:" سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ , فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو زمزم پلایا ہے اور انہوں نے کھڑے ہو کر زمزم پیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2608]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
حدیث نمبر: 2609 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: مَا نَصَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي مَوْطِنٍ، كَمَا نَصَرَ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ: فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَيْنِي وَبَيْنَ مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ كِتَابُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي يَوْمِ أُحُدٍ: وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ سورة آل عمران آية 152 , يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَالْحَسُّ: الْقَتْلُ , حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سورة آل عمران آية 152 , وَإِنَّمَا عَنَى بِهَذَا الرُّمَاةَ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُمْ فِي مَوْضِعٍ، ثُمَّ قَالَ:" احْمُوا ظُهُورَنَا، فَإِنْ رَأَيْتُمُونَا نُقْتَلُ، فَلَا تَنْصُرُونَا، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا قَدْ غَنِمْنَا فَلَا تَشْرَكُونَا" , فَلَمَّا غَنِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَاحُوا عَسْكَرَ الْمُشْرِكِينَ، أَكَبَّ الرُّمَاةُ جَمِيعًا، فَدَخَلُوا فِي الْعَسْكَرِ يَنْهَبُونَ، وَقَدْ الْتَقَتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُمْ هكَذَا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْهِ، وَالْتَبَسُوا، فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاةُ تِلْكَ الْخَلَّةَ الَّتِي كَانُوا فِيهَا، دَخَلَتْ الْخَيْلُ مِنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَالْتَبَسُوا، وَقُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نَاسٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ أَوَّلُ النَّهَارِ، حَتَّى قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ سَبْعَةٌ، أَوْ تِسْعَةٌ، وَجَالَ الْمُسْلِمُونَ جَوْلَةً نَحْوَ الْجَبَلِ، وَلَمْ يَبْلُغُوا حَيْثُ يَقُولُ النَّاسُ الْغَارَ، إِنَّمَا كَانُوا تَحْتَ الْمِهْرَاسِ، وَصَاحَ الشَّيْطَانُ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَلَمْ يُشَكَّ فِيهِ أَنَّهُ حَقٌّ، فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ مَا نَشُكُّ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ، حَتَّى طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ السَّعْدَيْنِ نَعْرِفُهُ بِتَكَفُّئِهِ إِذَا مَشَى، قَالَ: فَفَرِحْنَا كَأَنَّهُ لَمْ يُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا، قَالَ: فَرَقِيَ نَحْوَنَا، وَهُوَ يَقُولُ:" اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ رَسُولِهِ" , قَالَ: وَيَقُولُ مَرَّةً أُخْرَى:" اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَعْلُونَا" , حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا , فَمَكَثَ سَاعَةً، فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يَصِيحُ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ: اعْلُ هُبَلُ مَرَّتَيْنِ يَعْنِي: آلِهَتَهُ، أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أُجِيبُهُ؟ قَالَ:" بَلَى" , فَلَمَّا قَالَ: اعْلُ هُبَلُ، قَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ , قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّهُ قَدْ أَنْعَمَتْ عَيْنُهَا، فَعَادِ عَنْهَا أَوْ فَعَالِ عَنْهَا، فَقَالَ: أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا أَبُو بَكْرٍ، وَهَأَنَا ذَا عُمَرُ , قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، الْأَيَّامُ دُوَلٌ، وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ , قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: لَا سَوَاءً، قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ، وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ , قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَزْعُمُونَ ذَلِكَ، لَقَدْ خِبْنَا إِذَنْ وَخَسِرْنَا، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَمَا إِنَّكُمْ سَوْفَ تَجِدُونَ فِي قَتْلَاكُمْ مُثْلًي، وَلَمْ يَكُنْ ذَاكَ عَنْ رَأْيِ سَرَاتِنَا , قَالَ: ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَاكَ , وَلَمْ يَكْرَهُّه.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ جس طرح اللہ نے جنگ احد کے موقع پر مسلمانوں کی مدد کی، کسی اور موقع پر اس طرح مدد نہیں فرمائی، ہمیں اس پر تعجب ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ میری بات پر تعجب کرنے والوں اور میرے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی، اللہ تعالیٰ غزوہ احد کے حوالے سے فرماتے ہیں: « ﴿وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ﴾ [آل عمران: 152] » اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کر رہے تھے۔ (لفظ «حس» کا معنی قتل ہے) اور اس سے مراد تیر انداز ہیں۔ اصل میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیر اندازوں کو ایک جگہ پر کھڑا کیا تھا اور ان سے فرما دیا تھا کہ تم لوگ پشت کی طرف سے ہماری حفاظت کرو گے، اگر تم ہمیں قتل ہوتا ہوا بھی دیکھو تو ہماری مدد کو نہ آنا، اور اگر ہمیں مال غنیمت اکٹھا کرتے ہوئے دیکھو تب بھی ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا۔ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غنیم پر فتح اور مال غنیمت حاصل ہوا اور مسلمان مشرکین کے لشکر پر پل پڑے تو وہ تیر انداز بھی اپنی جگہ چھوڑ کر مشرکین کے لشکر میں داخل ہو گئے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا، یوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صفیں آپس میں یوں مل گئیں، راوی نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھائیں، اور یہ لوگ خلط ملط ہو گئے۔ ادھر جب تیر اندازوں کی جگہ خالی ہو گئی تو وہیں سے کفار کے گھوڑے اتر اتر کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف بڑھنے لگے، لوگ ایک دوسرے کو مارنے لگے اور انہیں التباس ہونے لگا، اس طرح بہت سے مسلمان شہید ہو گئے، حالانکہ میدان صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے ہاتھ رہا تھا اور مشرکین کے سات یا نو علمبردار بھی مارے گئے تھے۔ بہرحال! مسلمان پہاڑ کی طرف گھوم کر پلٹے لیکن وہ اس غار تک نہ پہنچ سکے جو لوگ کہہ رہے تھے، وہ محض ایک ہاون دستہ نما چیز کے نیچے رہ گئے تھے، دوسری طرف شیطان نے یہ افواہ پھیلا دی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شہید ہو گئے، کسی کو اس کے صحیح ہونے میں شک تک نہ ہوا، ابھی ہماری یہی کیفیت تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سعد نامی دو صحابہ رضی اللہ عنہما کے درمیان طلوع ہوئے، ہم نے انہیں ان کی چال ڈھال سے پہچان لیا، ہم بہت خوش ہوئے اور ایسی خوشی محسوس ہوئی کہ گویا ہمیں کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف چڑھنے لگے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس قوم پر اللہ کا بڑا سخت غضب نازل ہوگا جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون آلود کر دیا، پھر فرمایا: اے اللہ! یہ ہم پر غالب نہ آنے پائیں، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم تک پہنچ گئے۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ابوسفیان کی آواز پہاڑ کے نیچے سے آئی جس میں وہ اپنے معبود ہبل کی جے کاری کے نعرے لگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ابن ابی کبشہ (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کہاں ہیں؟ ابن ابی قحافہ (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کہاں ہیں؟ ابن خطاب (سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ) کہاں ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا میں اسے جواب نہ دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، چنانچہ جب ابوسفیان نے ہبل کی جے ہو کا نعرہ لگایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور فرمایا: اللہ بلند و برتر ہو اور بزرگی والا ہو، ابوسفیان کہنے لگا: اے ابن خطاب! تم ہبل سے دشمنی کرو یا دوستی، اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں، پھر کہنے لگا کہ ابن ابی کبشہ، ابن ابی قحافہ اور ابن خطاب کہاں ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم موجود ہیں، یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں اور یہ میں ہوں عمر۔ ابوسفیان نے کہا کہ یہ جنگ بدر کا انتقام ہے، جن کی مثال ڈول کی طرح ہے اور جنگ بھی ڈول کی طرح ہوتی ہے (جو کبھی کسی کے ہاتھ لگ جاتا ہے اور کبھی کسی کے)، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس میں بھی برابری نہیں، ہمارے مقتول جنت میں ہوں گے اور تمہارے مقتول جہنم میں، ابوسفیان نے کہا کہ یہ تمہارا خیال ہے، اگر ایسا ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، پھر اس نے کہا کہ مقتولین میں تمہیں کچھ لاشیں ایسی بھی ملیں گی جن کے ناک کان کاٹ لئے گئے ہیں، یہ ہمارے سرداروں کے مشورے سے نہیں ہوا، پھر اسے جاہلیت کی حمیت نے گھیر لیا اور وہ کہنے لگا کہ بہرحال! ایسا ہوا ہے، گویا اس نے اسے ناپسند نہیں سمجھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2609]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2610 مسند احمد
نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَخْرَجَتْ صَبِيًّا لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو اس کی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2610]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 1336، عبدالله العمري ضعيف، لكنه متابع
الحكم: صحيح، م: 1336، عبدالله العمري ضعيف، لكنه متابع
حدیث نمبر: 2611 مسند احمد
نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَائِشَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَائِشَةَ , قَالَا:" أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى لَيْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منی سے رات کو واپس ہوئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2611]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو الزبير مدلس وقد عنعن، وفي سماعه من ابن عباس وعائشة نظر
الحكم: إسناده ضعيف، أبو الزبير مدلس وقد عنعن، وفي سماعه من ابن عباس وعائشة نظر
حدیث نمبر: 2612 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ : أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخَّرَ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوم النحر کو رات تک کے لئے طواف زیارت کو مؤخر فرما دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2612]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2613 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي يَحْيَى ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْمُدَّعِيَ الْبَيِّنَةَ؟ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ، فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ قَدْ حَلَفْتَ، وَلَكِنْ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ قَوْلَكَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنا ایک جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے قسم تو کھا لی، لیکن تمہارے «لَا إِلٰهَ ِإلَّا اللّٰهُ» کہنے میں اخلاص کی برکت سے تمہارے سارے گناہ معاف ہو گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2613]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهذا الحديث من مناكير عطاء بن السائب
الحكم: إسناده ضعيف، وهذا الحديث من مناكير عطاء بن السائب
حدیث نمبر: 2614 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، حَنَشٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فَيُهَرِيقُ الْمَاءَ، فَيَتَمَسَّحُ بِالتُّرَابِ، فَأَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ، فَيَقُولُ:" وَمَا يُدْرِينِي، لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے نکلتے ہیں، پانی بہاتے ہیں اور تیمم کر لیتے ہیں، میں عرض کرتا ہوں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پانی آپ کے قریب موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: مجھے کیا پتہ تھا؟ شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2614]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2615 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اکیلے جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2615]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف حسين بن عبدالله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 2616 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، حِينَ يَلْقَى جِبْرِيلَ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے، اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ جبرئیل امین علیہ السلام سے ان کی ملاقات ہوتی، اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2616]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6، م: 2308
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6، م: 2308
حدیث نمبر: 2617 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْأَسْلَمِيَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا، فَقَالَ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ غَمَزْتَ، أَوْ نَظَرْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا، یا ہاتھ لگایا ہوگا، یا صرف دیکھا ہوگا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2617]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2824
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2824