بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 24 از 86
حدیث نمبر: 2298 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا الْعَالِيَةِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَهْزٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَال: حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ، قَالَ عَفَّانُ: عَبْدٍ لِي , أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں اور اپنے باپ کی طرف نسبت کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2298]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2299 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ خَالَتَهُ أُمَّ حُفَيْدٍ، أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا، وَأَضُبًّا، وَأَقِطًا، قَالَ:" فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ، وَمِنْ الْأَقِطِ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا"، فَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قُلْتُ: مَنْ قَالَ: لَوْ كَانَ حَرَامًا؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ ام حفید نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن ناپسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جا سکتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2299]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2572، م: 1947
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2572، م: 1947
حدیث نمبر: 2300 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، طَاوُسٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنْبَأَنِي طَاوُسٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا، وَلَا ثَوْبًا"، ثُمَّ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى:" أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ، وَلَا يَكُفَّ شَعَرًا، وَلَا ثَوْبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2300]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
الحكم: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
حدیث نمبر: 2301 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ، فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطا کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2301]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
حدیث نمبر: 2302 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" أُتِيتُ، وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ، فَقِيلَ لِي: إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ، قَالَ: فَقُمْتُ وَأَنَا نَاعِسٌ، فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي، قال: فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ، فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں سو رہا تھا، خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ آج کی رات شب قدر ہے، میں اٹھ بیٹھا، اس وقت مجھ پر اونگ کا غلبہ تھا، میں اسے دور کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خیمے کی ایک چوب سے لٹک گیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے جب غور کیا تو وہ تئیسویں (23) رات تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2302]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2303 مسند احمد
عَفَّانُ ، ثَابِتٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، هِلَالٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاس
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَبِيتُ اللَّيَالِي الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا، وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً" , قَالَ: وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کئی کئی راتیں مسلسل اس طرح خالی پیٹ گزار دیتے تھے کہ اہل خانہ کو رات کا کھانا نہیں ملتا تھا، اور اکثر انہیں کھانے کے لئے جو روٹی ملتی تھی وہ جو کی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2303]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2304 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ ، ابْنَ شِهَابٍ ، أَبِي سِنَانٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خطبنا يعني رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ" , قَالَ: فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، فَقَالَ: أفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا، أَوْ لَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا الحج مرة، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، یہ سن کر اقرع بن حابس کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہو گا وہ نفلی حج ہو گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2304]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، سليمان بن كثير فى روايته عن الزهري متكلم فيه، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، سليمان بن كثير فى روايته عن الزهري متكلم فيه، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2305 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَعْيًا، وَإِنَّمَا سَعَى أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے، اور سعی کے دوران بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2305]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1949، م: 1266
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1949، م: 1266
حدیث نمبر: 2306 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَبُو زُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ الظُّهْرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آٹھ ذی الحجہ کو نماز ظہر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منی کے میدان میں ادا فرمائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2306]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2307 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِرْفَقَهُ أَنْ يَضَعَهُ عَلَى جِدَارِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے سے منع نہ کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2307]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2308 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، ابْنِ هُبَيْرَةَ ، مَيْمُونٍ الْمَكِّيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ مَيْمُونٍ الْمَكِّيِّ :" أَنَّهُ رَأَى ابْنَ الزُّبَيْرِ عَبْدَ اللَّهِ، وَصَلَّى بِهِمْ، يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ، وَحِينَ يَرْكَعُ، وَحِينَ يَسْجُدُ، وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ، فَيَقُومُ فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى صَلَاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا، فَوَصَفَ لَهُ هَذِهِ الْإِشَارَةَ، فَقَال:" إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْتَدِ بِصَلَاةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
میمون مکی کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، وہ کھڑے ہوتے وقت اور رکوع و سجود کرتے وقت اپنی ہتھیلیوں سے اشارہ کرتے تھے اور سجدہ سے قیام کے لئے اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے تھے، میں یہ دیکھ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ اس سے پہلے کسی کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، میں نے ان کے سامنے اس اشارہ کا تذکرہ بھی کیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسی نماز دیکھنا چاہتے ہو تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی نماز کی اقتدا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2308]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ميمون المكي، مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، ميمون المكي، مجهول
حدیث نمبر: 2309 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، دَاوُدَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلْيَهُودِ:" أَعْطُونَا شَيْئًا نَسْأَلُ عَنْهُ هَذَا الرَّجُلَ، فَقَالُوا: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، فَسَأَلُوهُ، فَنَزَلَتْ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 , قَالُوا: أُوتِينَا عِلْمًا كَثِيرًا، أُوتِينَا التَّوْرَاةَ، وَمَنْ أُوتِيَ التَّوْرَاةَ، فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ سورة الكهف آية 109".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی چیز بتاؤ جو ہم اس شخص سے پوچھیں، انہوں نے کہا کہ ان سے روح کے متعلق سوال کرو، چنانچہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روح کے متعلق سوال کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [الإسراء: 85] » یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح میرے رب کا حکم ہے، اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمیں تو بہت علم دیا گیا ہے، کیونکہ ہمیں تورات دی گئی ہے، اور جسے تورات دی گئی اسے بڑی خیر نصیب ہوگئی، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ . . . . .﴾ [الكهف: 109] » اے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ فرما دیجئے کہ اگر میرے رب کی صفات بیان کرنے کے لئے سمندر روشنائی بن جائے تو سمندر ختم ہوجائے . . . . .۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2309]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2310 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، مَعْمَرٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قال عبد الله بن أحمد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَسْلَمِيِّ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ لَمَسْتَ، أَوْ نَظَرْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہو گا، یا ہاتھ لگایا ہو گاو یا صرف دیکھا ہوگا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2310]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6824
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6824
حدیث نمبر: 2311 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى سَفَرٍ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ، وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ، اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ" , وَإِذَا أَرَادَ الرُّجُوعَ، قَالَ:" آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ" , وَإِذَا دَخَلَ أَهْلَهُ، قَالَ:" تَوْبًا تَوْبًا، لِرَبِّنَا أَوْبًا، لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سفر پر نکلنے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ اَللّٰهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ» اے اللہ! آپ سفر میں میرے ساتھی اور میرے اہل خانہ میں میرے پیچھے محافظ ہیں، اے اللہ! میں سفر کی تنگی اور واپسی کی پریشانی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! زمین کو ہمارے لئے لپیٹ کر ہمارے لئے اس سفر کو آسان فرما دیجئے، اور جب واپسی کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ہم توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے واپس ہو رہے ہیں، اور جب اہل خانہ کے پاس پہنچتے تو فرماتے: «تَوْبًا تَوْبًا لِرَبِّنَا أَوْبًا لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا» ہماری توبہ ہے، اپنے رب کی طرف رجوع ہے، وہ ہم پر کوئی گناہ باقی نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2311]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب
حدیث نمبر: 2312 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے کچھ گروہ قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2312]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2313 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" لَا تَسْتَقْبِلُوا، وَلَا تُحَفِّلُوا، وَلَا يَنْفِقْ، بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ قبلہ رخ بیٹھ کر قضاء حاجت نہ کیا کرو، جانور کے تھن باندھ کر ان میں دودھ جمع نہ کیا کرو اور ایک دوسرے کے لئے سودے بازی مت کیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2313]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2314 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَال عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَدَّقَ أُمَيَّةَ فِي شَيْءٍ مِنْ شِعْرِه، فَقَالَ: رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ" , وَقَالَ: وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ تَأْبَى فَمَا تَطْلُعْ لَنَا فِي رِسْلِهَا إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کو سچا قرار دیا ہے، چنانچہ ایک مرتبہ امیہ نے یہ شعر کہا کہ وہ ایسا بہادر آدمی ہے جس کے دائیں پاؤں کے نیچے بیل اور بائیں پاؤں کے نیچے گدھ ہے اور شیر کی تاک میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اسی طرح اس نے ایک مرتبہ یہ شعر کہے کہ سورج ہر سرخ رات کے آخر میں طلوع ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلاب کے پھول کی طرح ہو رہا ہوتا ہے، وہ انکار کرتا ہے اور دوبارہ طلوع نہیں ہوتا مگر سزا یافتہ ہو کر یا کوڑے کھا کر، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر بھی اس کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2314]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، والتصريح بالتحديث إنما جاء عن غير الثقات من أصحابه، ولو ثبت تصريح ابن إسحاق فلا يعتد به فى مثل هذا المطلب
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، والتصريح بالتحديث إنما جاء عن غير الثقات من أصحابه، ولو ثبت تصريح ابن إسحاق فلا يعتد به فى مثل هذا المطلب
حدیث نمبر: 2315 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاس
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ عَلَى مَنْ نَامَ سَاجِدًا وُضُوءٌ، حَتَّى يَضْطَجِعَ، فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ، اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص سجدے کی حالت میں سو جائے، اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، تاآنکہ وہ پہلو کے بل لیٹ جائے، اس لئے کہ جب وہ پہلو کے بل لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جائیں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2315]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، يزيد بن عبدالرحمن مختلف فيه
الحكم: إسناده ضعيف، يزيد بن عبدالرحمن مختلف فيه
حدیث نمبر: 2316 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَجَّاجٍ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلًا أَخَذَ امْرَأَةً، أَوْ سَبَاهَا، فَنَازَعَتْهُ قَائِمَ سَيْفِهِ، فَقَتَلَهَا، فَمَرَّ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْبِرَ بِأَمْرِهَا , فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کو قیدی بنا کر گرفتار کر لیا، اس عورت نے اس کی تلوار کے دستے میں اس کے ساتھ مزاحمت کی (اس کی تلوار چھیننے کی کوشش کی) تو اس آدمی نے اسے قتل کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ساری بات بتائی گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2316]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 2317 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى مُؤْتَةَ، فَاسْتَعْمَلَ زَيْدًا، فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ، فَجَعْفَرٌ، فَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ، فَابْنُ رَوَاحَةَ، فَتَخَلَّفَ ابْنُ رَوَاحَةَ، فَجَمَّعَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ، فَقَالَ:" مَا خَلَّفَكَ؟" , قَالَ: أُجَمِّعُ مَعَكَ , قَالَ:" لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے موتہ کی طرف ایک سریہ بھیجا اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر کیا، ان کے شہید ہو جانے کی صورت میں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو، اور ان کے شہید ہو جانے کی صورت میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ پیچھے رہ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز میں شریک ہوئے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح روانہ ہونے سے کس چیز نے روکا؟ عرض کیا کہ میں نے سوچا آپ کے ساتھ جمعہ پڑھ کر ان سے جا ملوں گا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا شام کا نکلنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2317]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه بهذه السياقة
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه بهذه السياقة