بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 21 از 86
حدیث نمبر: 2238 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَفِتْيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: فَسَأَلُوهُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ:" لَا" , قَالَ: فَقَالُوا: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ! قَالَ:" خَمْشًا، هَذِهِ شَرٌّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا، بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَخُصَّنَا دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَلَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور قریش کے کچھ نوجوان سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، ہم نے پوچھا کہ شاید آہسۃ آواز میں قرأت فرما لیتے ہوں؟ انہوں نے فرمایا: خاموش! یہ تو اور بھی زیادہ برا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک عبد مامور تھے، واللہ! انہیں جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا، انہوں نے وہ پہنچا دیا، اور لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ انہوں نے ہمیں کوئی بات نہیں بتائی، سوائے تین چیزوں کے، ایک تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ وضو مکمل کرنے کا حکم دیا، دوسرا یہ کہ ہم صدقہ نہ کھائیں، اور تیسرا یہ کہ ہم کسی گدھے کو گھوڑی پر نہ کدوائیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2238]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2239 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَحَّلَ نَاسًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ بِلَيْلٍ، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسَبُهُ قَالَ: ضَعَفَتَهُمْ , وَأَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" , شُعْبَةُ شَكَّ فِي ضَعَفَتَهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو ہاشم کے کچھ افراد کو مزدلفہ کی رات جلدی روانہ کر دیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ طلوع آفتاب سے پہلے رمی نہ کرنا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2239]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1677، م: 1293. وهذا إسناد منقطع، الحكم لم يدرك ابن عباس
الحكم: حديث صحيح، خ: 1677، م: 1293. وهذا إسناد منقطع، الحكم لم يدرك ابن عباس
حدیث نمبر: 2240 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، ابْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، قَالَ:" هُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِمْ مِمَّنْ سِوَاهُمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، ثم مِنْ حَيْثُ بَدَأَ حَتَّى يَبْلُغَ ذَلِكَ أَهْلَ مَكَّة".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا، اور فرمایا کہ یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گزرنے والوں کے لئے بھی - جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں - حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتدا کریں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2241 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، أَيُّوبَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصِيبُ مِنَ الرُّءُوسِ , وَهُوَ صَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سر کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2241]
حکم دارالسلام
صحيح من حديث عائشة انظر: 29291
الحكم: صحيح من حديث عائشة انظر: 29291
حدیث نمبر: 2242 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ، وَكَانَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا، فَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نزول وحی کا سلسلہ چالیس برس کی عمر میں شروع ہوا، تیرہ سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور ترسٹھ (63) برس کی عمر میں آپ کا وصال ہو گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2242]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2243 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتِجَامَةً فِي رَأْسِهِ، وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2243]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5700
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5700
حدیث نمبر: 2244 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَعَا بِشَرَابٍ , قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ , فَشَرِبَ قَائِمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوایا، میں ایک ڈول میں زمزم لے کر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
حدیث نمبر: 2245 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ أَتَى خَالَتَهُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى سِقَايَةٍ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ، فَصَلَّى، قَالَ: وَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَأَدَارَنِي مِنْ خَلْفِهِ، حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، وضو کر کے کھڑے ہو گئے، میں نے بھی اسی طرح کیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2245]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 763
الحكم: إسناده صحيح، م: 763
حدیث نمبر: 2246 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنِّي لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، أَمْ لَا؟ وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ: وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا سورة مريم آية 8 أَوْ 0 عُسُيًّا" 0؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام سنتوں کو محفوظ کر لیا ہے لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے یا نہیں؟ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس لفظ کو کس طرح پڑھتے تھے «وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْكِبَرِ عُتِيًّا» (عین کے پیش اور تاء کے ساتھ) «أَوْ عُسُيًّا» (عین کے پیش اور سین کے ساتھ)؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2246]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2247 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُبَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھل کی خرید و فروخت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2247]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2248 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَهِيكٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْطُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ کے نام سے پناہ مانگے، اسے پناہ دے دو اور جو شخص اللہ کی ذات کا واسطہ دے کر تم سے مانگے، اسے دے دو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2248]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2249 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ ، زَمْعَةَ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ زَمْعَةَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ , وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2249]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 2278، م: 1202. زمعة ضعيف، لكنه توبع
الحكم: صحيح، خ: 2278، م: 1202. زمعة ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2250 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَجَّاجٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا، وَالرُّقْبَى لِمَنْ أُرْقِبَهَا، وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عمر بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، کسی کی موت پر موقوف کر کے کوئی چیز دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، اور ہدیہ دے کر اسے واپس لینے والا ایسے ہی ہے جیسے قئی کر کے اسے چاٹ لینے والا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2250]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج مدلس وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 2251 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَجَّاجٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى، فَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَهَا جَائِزَةٌ، وَمَنْ أَرْقَبَ رُقْبَى، فَهِيَ لِمَنْ أُرْقِبَهَا جَائِزَةٌ، وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً، ثُمَّ عَادَ فِيهَا، فَهُوَ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عمر بھر کے لئے کسی کوئی چیز دے دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، کسی کی موت پر موقوف کر کے کوئی چیز دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، اور ہدیہ دے کر اسے واپس لینے والا ایسے ہی ہے جیسے قئی کر کے اسے چاٹ لینے والا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2251]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهو مكرر ما قبله
الحكم: صحيح لغيره، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 2252 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ صُرِفَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2252]
حکم دارالسلام
صحيح، سماك فى روايته عكرمة مضطرب، لكنه توبع
الحكم: صحيح، سماك فى روايته عكرمة مضطرب، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2253 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، الْحَكَمِ ، أَبِي الْقَاسِمِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ:" رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَة، ثُمَّ ذَبَحَ، ثُمَّ حَلَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کی، پھر قربانی کی، پھر حلق کروایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2253]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن
الحكم: حسن لغيره، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 2254 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ ، كُرَيْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ أَخَا بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ لَمَّا أَسْلَمَ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَائِضِ الْإِسْلَامِ مِنَ الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا، فَعَدَّ عَلَيْهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِنَّ، ثُمَّ الزَّكَاةَ، ثُمَّ صِيَامَ رَمَضَانَ، ثُمَّ حَجَّ الْبَيْتِ، ثُمَّ أَعْلَمَهُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ , قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَسَأَفْعَلُ مَا أَمَرْتَنِي بِهِ، لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْقُصُ , قَالَ: ثُمَّ وَلَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ يَصْدُقْ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ، يَدْخُلْ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ضمام بن ثعلبہ - جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا - جب اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرائض اسلام مثلا نماز وغیرہ کے متعلق سوالات کئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے سامنے پانچ نمازیں ذکر کیں اور ان پر کچھ اضافہ نہ فرمایا، پھر زکوۃ، روزہ اور حج کا ذکر فرمایا، پھر وہ چیزیں بتائیں جو اللہ نے ان پر حرام قرار دے رکھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اس سے فارغ ہوئے تو ضمام کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے مجھے جو حکم دیا ہے میں ان شاء اللہ اس کے مطابق کروں گا اور اپنی طرف سے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کروں گا، یہ کہہ کر وہ چلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس دو چوٹیوں والے نے اپنی یہ بات سچ کر دکھائی تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2254]
حکم دارالسلام
حديث حسن، ومحمد بن الوليد لم يرو عنه غير ابن إسحاق، وقد توبع محمد
الحكم: حديث حسن، ومحمد بن الوليد لم يرو عنه غير ابن إسحاق، وقد توبع محمد
حدیث نمبر: 2255 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، هُشَيْمٌ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَفَعَ خَيْبَرَ: أَرْضَهَا وَنَخْلَهَا، مُقَاسَمَةً عَلَى النِّصْفِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کی زمین اور اس کے باغات کو نصف پر بٹائی کے لئے دے دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2255]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى ليلي سيء الحفظ
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى ليلي سيء الحفظ
حدیث نمبر: 2256 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، مِقْسَمٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ وَمُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، وَلَا أَقُولُهُ فَخْرًا: بُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، فَلَيْسَ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ يَدْخُلُ فِي أُمَّتِي إِلَّا كَانَ مِنْهُمْ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، اور میں یہ بات فخر کے طور پر بیان نہیں کر رہا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، اس لئے جو سرخ یا سیاہ رنگت والا میری امت میں شامل ہو جائے گا وہ اس میں ہی شمار ہوگا اور میرے لئے ساری زمین کو مسجد بنا دیا گیا ہے۔ فائدہ: وضاحت کے لئے حدیث نمبر 2742 دیکھئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2256]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم و يزيد بن أبى زياد
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم و يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 2257 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّبَّاغَ ، عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، عِكْرِمَةُ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّبَّاغَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَكَانَ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، أَوَلَيْسَ تِلْكَ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ تو جب رکوع سجدے میں جاتے تو تکبیر کہتے تھے، میں نے یہ بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت نہیں ہے؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2257]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح