بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 17 از 86
حدیث نمبر: 2158 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ ، قَالَ:" تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَنِي بِهَا، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي، فَقَالَ: عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ: فِي الْهَدْيِ جَزُورٌ، أَوْ بَقَرَةٌ، أَوْ شَاةٌ، أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ" , قَالَ عَبْد اللَّهِ: مَا أَسْنَدَ شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي جَمْرَةَ إِلَّا وَاحِدًا، وَأَبُو جَمْرَةَ أَوْثَقُ مِنْ أَبِي حَمْزَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوجمرہ الضبعی کہتے ہیں کہ میں نے حج تمتع کی نیت سے احرام باندھا، لوگوں نے مجھے منع کیا، میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آ کر یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے مجھے فرمایا کہ تم یہ کر لو، پھر میں بیت اللہ کی طرف روانہ ہوا، وہاں پہنچ کر مجھے نیند آ گئی، خواب میں میرے پاس ایک شخص آیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تیرا عمرہ بھی مقبول ہے اور تیرا حج بھی مبرور ہے، میں جب خواب سے بیدار ہوا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں اپنا خواب سنایا، اس پر انہوں نے دو مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے، اور فرمایا کہ ہدی میں اونٹ، گائے، بکری یا سات حصوں والے جانور میں شرکت بھی ہو سکتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2158]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1567، م: 1242.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1567، م: 1242.
حدیث نمبر: 2159 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي السَّفَرِ ، سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے ان سے سفر میں نماز کے متعلق پوچھنا شروع کر دیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر سے نکلنے کے بعد گھر واپس آنے تک دو رکعت نماز (قصر) ہی پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2159]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2160 مسند احمد
أَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2160]
حکم دارالسلام
هو مكرر ما قبله إلا أبا إسحاق فى هذه الرواية أسقط من السند أبا السفر سعيد ابن يحمد.
الحكم: هو مكرر ما قبله إلا أبا إسحاق فى هذه الرواية أسقط من السند أبا السفر سعيد ابن يحمد.
حدیث نمبر: 2161 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُجَثَّمَةِ وَالْجَلَّالَةِ , وَأَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو، اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے، اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2161]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2162 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ يُفْتِي النَّاسَ، لَا يُسْنِدُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ فُتْيَاهُ، حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، وَإِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ , فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: ادْنُهْ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَدَنَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا، يُكَلَّفُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهِ الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نضر بن انس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ لوگوں کو فتوی دے رہے تھے لیکن اپنے کسی فتوی کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف نہیں کر رہے تھے، اسی دوران ایک عراقی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں عراق کا رہنے والا ہوں، اور میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے دو یا تین مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، جب وہ قریب ہو گیا تو فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص دنیا میں تصویر سازی کرتا ہے اسے قیامت کے دن اس تصویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا، ظاہر ہے کہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2162]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5963، م: 2110 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5963، م: 2110 .
حدیث نمبر: 2163 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2163]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1421.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1421.
حدیث نمبر: 2164 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، كُرَيْبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ ," وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ , أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ , أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ , اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ خَوَاتِيمَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا , فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ، فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ اليمنى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ أُذُنِي الْيُمْنَى فَفَتَلَهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَج، فَصَلَّى الصُّبْح".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گذاری، وہ کہتے ہیں کہ میں تکیے کی چوڑائی پر سر رکھ کر لیٹ گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کی اہلیہ محترمہ اس کی لمبائی والے حصے پر سر رکھ کر لیٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات ہوئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس سے کچھ بعد کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہو کر بیٹھ گئے اور اپنے چہرہ مبارک کو اپنے ہاتھوں سے مل کر نیند کے آثار دور کرنے لگے، پھر سورہ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت فرمائی، پھر کھڑے ہو کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے، اس سے وضو کیا اور خوب اچھی طرح کیا اور نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا اور جا کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا کان پکڑ کر اسے مروڑنا شروع کر دیا (اور مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے دو رکعتیں پڑھیں، پھر اسی طرح دو دو رکعتیں کر کے کل بارہ رکعتیں پڑھیں، پھر وتر پڑھے اور پھر لیٹ گئے، یہاں تک کہ جب مؤذن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں اور باہر تشریف لا کر فجر کی نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2164]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 183، م: 763.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 183، م: 763.
حدیث نمبر: 2165 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ، أَشْعَثَ أَغْبَر، مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ , أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا هَذَا؟ قَالَ:" دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ، لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ" , قَالَ عَمَّارٌ: فَحَفِظْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نصف النہار کے وقت خواب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال بکھرے ہوئے اور جسم پر گرد و غبار تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک بوتل تھی جس میں وہ کچھ تلاش کر رہے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ فرمایا: یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں صبح سے اس کی تلاش میں لگا ہوا ہوں۔ راوی حدیث عمار کہتے ہیں کہ ہم نے وہ تاریخ اپنے ذہن میں محفوظ کر لی، بعد میں پتہ چلا کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اسی تاریخ اور اسی دن شہید ہوئے تھے (جس دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خواب دیکھا تھا)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2165]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 2166 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عِمْرَانَ بن الْحَكَمِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بن الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا، وَنُؤْمِنُ بِكَ , قَالَ:" وَتَفْعَلُونَ؟" , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: فَدَعَا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ:" إِنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، وَيَقُولُ لك: إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَهُمْ الصَّفَا ذَهَبًا , فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْهُمْ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ , وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ , قَالَ:" بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی تم ایمان لے آؤگے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرما دی، حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو ان کے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں اسے ایسی سزا دوں گا کہ دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہ دی ہوگی، اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دیا جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2166]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2167 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا الْعَالِيَةِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى" , وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں اور اپنے باپ کی طرف نسبت کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2167]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3413.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3413.
حدیث نمبر: 2168 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یوں کہا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» اے اللہ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2168]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 590.
الحكم: إسناده صحيح، م: 590.
حدیث نمبر: 2169 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ بِلَالٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَ مَا قَفَّى مِنْ عِنْدِهِنَّ أَنْ يَأْتِيَهُنَّ فَيَأْمُرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2169]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 98، م: 883.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 98، م: 883.
حدیث نمبر: 2170 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، الْأَعْمَشُ ، طَارِقٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حدثنا عبد الله، حدثنا أبي من كتابه، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا , عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَائِلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا، فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! آپ نے قریش کے پہلوں کو عذاب کا مزہ چکھا دیا، اب ان کے پچھلوں کو اپنے انعام کا مزہ بھی دکھا دے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2170]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 2171 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَكُلُّهُمْ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ، اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ موجود رہا ہوں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 2172 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2172]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه. وهذا الحديث من مسند جابر بن عبدالله
الحكم: إسناده صحيح كسابقه. وهذا الحديث من مسند جابر بن عبدالله
حدیث نمبر: 2173 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ ثُمَّ خَطَبَ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ خَطَبَ، وَعُمَرُ ثُمَّ خَطَبَ، وَعُثْمَانُ ثُمَّ خَطَبَ، بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ، اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ موجود رہے ہیں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2173]
حکم دارالسلام
صحيح، وفي حفظ مؤمل بن إسماعيل شيء، لكنه توبع
الحكم: صحيح، وفي حفظ مؤمل بن إسماعيل شيء، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2174 مسند احمد
الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ رَكْعَتَيْنِ لَا يَقْرَأُ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ، لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عید کی نماز دو رکعتیں کر کے پڑھائیں، ان دونوں رکعتوں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی اور اس پر کسی سورت کا اضافہ نہیں کیا (غالبا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک دور ہونے کی وجہ سے آواز نہ پہنچ سکی ہوگی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2174]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، حنظلة السدوسي، ضعيف مختلط، وشهر بن حوشب، مختلف فيه
الحكم: إسناده ضعيف، حنظلة السدوسي، ضعيف مختلط، وشهر بن حوشب، مختلف فيه
حدیث نمبر: 2175 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ , يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" رُكِزَتْ الْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، فَصَلَّى إِلَيْهَا، وَالْحِمَارُ يَمُرُّ مِنْ وَرَاءِ الْعَنَزَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میدان عرفات میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک نیزہ گاڑ دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے سامنے رکھ کر نماز پڑھائی، جبکہ اس نیزے کے ورے گدھے بھی گزر رہے تھے (کیونکہ وہ نیزہ بطور سترہ کے استعمال کیا جا رہا تھا). [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2175]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2176 مسند احمد
عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، الْحَجَّاجُ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ، فَأَعْتَقَهُمَا" , أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْتِقُ الْعَبِيدَ إِذَا خَرَجُوا إِلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن جب اہل طائف کا محاصرہ کیا تو ان کے دو غلام نکل کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آ ملے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا، جن میں سے ایک سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا کرتے تھے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ جاتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2176]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج مدلس وقد عنعنه، والحكم بن عتيبة لم يسمعه من مقسم
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج مدلس وقد عنعنه، والحكم بن عتيبة لم يسمعه من مقسم
حدیث نمبر: 2177 مسند احمد
الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2177]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 687
الحكم: إسناده صحيح، م: 687