بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 56 از 86
حدیث نمبر: 2938 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، شَرِيكٌ ، حُسَيْنٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ، يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کپڑے میں - اسے اچھی طرح لپیٹ کر - نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2938]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 2939 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأْتِيهِ الْجَارِيَةُ بِالْكَتِفِ مِنَ الْقِدْرِ، فَيَأْكُلُ مِنْهَا، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فَيُصَلِّي، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک باندی ہنڈیا میں سے شانے کا گوشت لے کر آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو کرنا تو دور کی بات، پانی کو چھوا تک نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2939]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2940 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2940]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 2941 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ " أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ خَرَجَ مِنْ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ تَرَاهُ؟ قَالَ:" هُوَ لَنَا لِقُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ، وَقَدْ كَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْهُ شَيْئًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا، فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِ، وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ، وَكَانَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُعِينَ نَاكِحَهُمْ، وَأَنْ يَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ، وَأَنْ يُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ، وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی آزمائش کے دنوں میں نجدہ حروری نے جس وقت خروج کیا تو اس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ دریافت کروایا کہ آپ کے خیال میں ذوی القربی کا حصہ کن کا حق ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ ہم لوگوں کا - جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں - حق ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں تقسیم فرمایا تھا، بعد میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس کے بدلے میں کچھ اور چیزیں پیش کی تھیں لیکن وہ ہمارے حق سے کم تھیں اس لئے ہم نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ پیشکش کی تھی کہ ان میں سے جو نکاح کرنا چاہتے ہیں، وہ ان کی مالی معاونت کریں گے، ان کے مقروضوں کے قرضے ادا کریں گے اور ان کے فقراء کو مال و دولت دیں گے، لیکن اس سے زائد دینے سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2941]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2942 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعَرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيْهِ، فَفَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2942]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3558، م: 2336
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3558، م: 2336
حدیث نمبر: 2943 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ:" مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا وَقَدْ أَخْطَأَ، أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت یحییٰ علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2943]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 2944 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، ابن عباس
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، يزيد أحدهما على صاحبه: أن رجلا نادى ابن عباس، والناس حوله، فقال: أسنة تبتغون بهذا النبيذ؟ أم هو أهون عليكم من اللبن والعسل؟! فقال ابن عباس : جاء النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا، فَقَالَ:" اسْقُونَا"، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا النَّبِيذَ شَرَابٌ قَدْ مُغِثَ وَمُرِثَ، أَفَلَا نَسْقِيكَ لَبَنًا أَوْ عَسَلًا؟ قَالَ:" اسْقُونَا مِمَّا تَسْقُونَ مِنْهُ النَّاسَ" فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، بِسِقَاءَيْنِ فِيهِمَا النَّبِيذُ، فَلَمَّا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَجِلَ قَبْلَ أَنْ يَرْوَى، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" أَحْسَنْتُمْ، هَكَذَا فَاصْنَعُوا". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَرِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَسِيلَ شِعَابُهَا لَبَنًا وَعَسَلًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آ کر انہیں پکارتے ہوئے کہنے لگا کہ اس نبیذ کے ذریعے آپ کسی سنت کی پیروی کر رہے ہیں یا آپ کی نگاہوں میں یہ شہد اور دودھ سے بھی زیادہ ہلکی چیز ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا: پانی پلاؤ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ نبیذ تو گدلی اور غبار آلود ہو گئی ہے، ہم آپ کو دودھ یا شہد نہ پلائیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو جو پلا رہے ہو، ہمیں بھی وہی پلا دو، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس نبیذ کے دو برتن لے کر آئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار دونوں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب نوش فرما لیا تو سیراب ہونے سے پہلے ہی اسے ہٹا لیا اور اپنا سر اٹھا کر فرمایا: تم نے خوب کیا، اسی طرح کیا کرو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ کہہ کر فرمانے لگے کہ میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رضا مندی اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ ان کے کونوں سے دودھ اور شہد بہنے لگے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2944]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حسين بن عبدالله بن عبيد الله ضعيف
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حسين بن عبدالله بن عبيد الله ضعيف
حدیث نمبر: 2945 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسْمَعُونَ، وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ، وَيُسْمَعُ مِمَّنْ يَسْمَعُ مِنْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم سنتے ہو، تمہاری سنی جاتی ہے اور جو تم سے سنتے ہیں ان کی بھی سنی جاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2945]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2946 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، زَكَرِيَّا بْنُ عُمَرَ ، عَطَاءً ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ عَطَاءً أَخْبَرَهُ" أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ دَعَا الْفَضْلَ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا تَصُمْ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٌ، فَشَرِبَ مِنْهُ هَذَا الْيَوْمَ، وَإِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آج کے دن کا (احرام کی حالت میں) روزہ نہ رکھا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس دن دودھ دوہ کر ایک برتن میں پیش کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا اور لوگ تمہاری اقتدا کرتے ہیں (تمہیں روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر کہیں وہ اسے اہمیت نہ دینے لگیں)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2946]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2947 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" وَاللَّهِ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ إِذَا صَامَ، صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يَصُومُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے، البتہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2947]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2948 مسند احمد
عَبْدِ الصَّمَدِ ، أَبِيهِ ، الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ ذَكْوَانَ ، حَبِيبٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ ذَكْوَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُمْشَى فِي خُفٍّ وَاحِدٍ، أَوْ نَعْلٍ وَاحِدَةٍ". وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ كَثِيرٌ غَيْرُ هَذَا، فَلَمْ يُحَدِّثْنَا بِهِ، ضَرَبَ عَلَيْهِ فِي كِتَابِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ تَرَكَ حَدِيثَهُ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ رَوَى عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَعَمْرُو بْنُ خَالِدٍ لَا يُسَاوِي شَيْئًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف ایک پاؤں میں جوتی یا موزہ پہن کر چلنے سے منع فرمایا ہے، امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ والد صاحب رحمہ اللہ نے یہ حدیث ہم سے بیان نہیں کی تھی بلکہ صرف مسودہ میں درج کی تھی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو عمرو بن خالد کی وجہ سے ترک کر دیا تھا جو زید بن علی سے اسے روایت کرتے ہیں، اور عمرو بن خالد کی تو کوئی حیثیت نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2948]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، الحسن بن ذكوان ضعيف، ويغني عنه حديث أبى هريرة الذى سيأتي فى المسند : 245/2
الحكم: إسناده ضعيف جدا، الحسن بن ذكوان ضعيف، ويغني عنه حديث أبى هريرة الذى سيأتي فى المسند : 245/2
حدیث نمبر: 2949 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو، اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے، اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2949]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2950 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبُو حَازِمٍ ، جَعْفَرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنِ جَعْفَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَمَرَنِي أَنْ أُعْلِنَ التَّلْبِيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرئیل امین علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ کہنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2950]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2951 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، خُصَيْفٌ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ، قَالَ:" إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ الْحَرِيرِ الْمُصْمَتِ، فَأَمَّا الثَّوْبُ الَّذِي سَدَاهُ حَرِيرٌ لَيْسَ بِحَرِيرٍ مُصْمَتٍ، فَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُشْرَبَ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کا تانا یا نقش و نگار ریشم کے ہوں تو ہماری رائے کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے، نیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے بھی منع فرمایا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2951]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2952 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، حُصَيْنًا ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنًا ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ"، فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ؟ قَالَ:" هُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَعْتَافُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2952]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6472
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6472
حدیث نمبر: 2953 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، زِيَادٌ ، صَالِحًا ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ صَالِحًا مَوْلَى التَّوْءَمَةِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ آخِذَةٌ بِحُجْزَةِ الرَّحْمَنِ، يَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا، وَيَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رحم ایک شاخ ہے جس نے رحمن کی آڑ تھام رکھی ہے، جو اسے جوڑے گا اللہ اسے جوڑے گا، اور جو اسے توڑے گا اللہ اسے توڑ دے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2953]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2954 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَمْروٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ عَمْروٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال:" اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ، وَالثَّالِثَةَ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف چار مرتبہ عمرہ کیا ہے، ایک مرتبہ حدیبیہ سے، ایک مرتبہ ذیقعدہ کے مہینے میں اگلے سال عمرۃ القضاء، ایک مرتبہ جعرانہ سے اور چوتھی مرتبہ اپنے حج کے موقع پر۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2954]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2955 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، وَحُسَيْنٌ ، شَيْبَانُ ، أَشْعَثَ ، سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحُسَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى مُسْبِلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والوں کو رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2955]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2956 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شَرِيكٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: اخْتَصَمَ رَجُلَانِ، فَدَارَتْ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا لَهُ عَلَيْهِ حَقٌّ، فَنَزَل َجِبْرِيلُ، فَقَالَ: مُرْهُ فَلْيُعْطِهِ حَقَّهُ، فَإِنَّ الْحَقَّ قِبَلَهُ، وَهُوَ كَاذِبٌ، وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ" مَعْرِفَتُهُ بِاللَّهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَوْ شَهَادَتُهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا، ان میں سے ایک پر قسم آ پڑی، اس نے قسم کھا لی کہ اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس شخص کا مجھ پر کوئی حق نہیں، اسی اثناء میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہنے لگے کہ اسے حکم دیجئے کہ اپناحق اسے دے دے، حق تو اسی کا ہے اور وہ جھوٹا ہے اور اس کی قسم کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے ایک ہونے کی گواہی دیتا ہے اور اس کی معرفت اسے حاصل ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2956]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، وعطاء بن السائب قد اختلط
الحكم: إسناده ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، وعطاء بن السائب قد اختلط
حدیث نمبر: 2957 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، دَاوُدُ ، عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَّ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ، ثُمَّ قَالَ:" أَتَدْرُونَ لِمَ خَطَطْتُ هَذِهِ الْخُطُوطَ؟" قَالُوا: لَا. قَالَ:" أَفْضَلُ نِسَاءِ الْجَنَّةِ أَرْبَعٌ: مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، وَآسِيَةُ ابْنَةُ مُزَاحِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکیریں کیسی ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل عورتیں چار ہوں گی: (1) خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا (2) فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (3) مریم بنت عمران علیہما السلام (4) آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا جو فرعون کی بیوی تھیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2957]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح