بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 2 از 86
حدیث نمبر: 1858 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ قَدَّمَ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ، فَجَعَلَ يَقُولُ:" لَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو مناسک حج میں سے کسی کو مقدم کر دے اور کسی کو مؤخر؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمانے لگے کہ کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1858]
حکم دارالسلام
راجع ما قبله.
الحكم: راجع ما قبله.
حدیث نمبر: 1859 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ، فَقَالَ رَجُل: وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟ فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ:" وَلِلْمُقَصِّرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! حلق کرانے والوں کو معاف فرما دے، ایک صاحب نے عرض کیا: قصر کرانے والوں کے لئے بھی تو دعا فرمائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ قصر کرانے والوں کے لئے فرمایا کہ اے اللہ! قصر کرانے والوں کو بھی معاف فرما دے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1859]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد.
حدیث نمبر: 1860 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ، وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَلَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سوار تھے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1860]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1543، م: 1286. هشيم بن بشير مدلس، لكنه توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1543، م: 1286. هشيم بن بشير مدلس، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 1861 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتْ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ، إِنْ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْجَاهَا أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَأَنْجَاهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَمْ تَصُمْ حَتَّى مَاتَتْ، فَجَاءَتْ قَرَابَةٌ لَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" صُومِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت بحری سفر پر روانہ ہوئی، اس نے یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے خیریت سے واپس پہنچا دیا تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم واپس پہنچا دیا لیکن وہ مرتے دم تک روزے نہ رکھ سکی، اس کی ایک رشتہ دار عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ سارا واقعہ عرض کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم روزے رکھ لو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1861]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1953 - تعليقاً، م: 1148، هشيم مدلس وقد عنعن، لكنه توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1953 - تعليقاً، م: 1148، هشيم مدلس وقد عنعن، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 1862 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، أَيُّوبُ ، قَتَادَةَ ، مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ:" إِنَّا إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مکہ مکرمہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو چار رکعتیں پڑھتے ہیں اور جب اپنی سواریوں کی طرف لوٹتے ہیں یعنی سفر پر روانہ ہوتے ہیں تو دو رکعتیں پڑھتے ہیں، اس کی کیا حقیت ہے؟ فرمایا: یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1862]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 688.
الحكم: إسناده حسن، م: 688.
حدیث نمبر: 1863 مسند احمد
إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُتَّخَذَ ذُو الرُّوحِ غَرَضًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1863]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، رواية سماك بن حرب عن عكرمة مضطربة، وله طريق آخر يصح به.
الحكم: حديث صحيح، رواية سماك بن حرب عن عكرمة مضطربة، وله طريق آخر يصح به.
حدیث نمبر: 1864 مسند احمد
إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ ، شَرِيكٍ ، خُصَيْفٍ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ" فَقَرَأَ سُورَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ وَرَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عہد نبوت میں سورج گرہن ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ کھڑے ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز شروع کی اور ایک لمبی سورت کی تلاوت فرمائی، پھر رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر قراءت کی، پھر رکوع کر کے دو سجدے کئے، پھر کھڑے ہو کر قراءت، رکوع اور دو سجدے کئے، اس طرح دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1864]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1046، م: 902. شريك سيء الحفظ وكذا خصيف، وكلاهما متابع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1046، م: 902. شريك سيء الحفظ وكذا خصيف، وكلاهما متابع.
حدیث نمبر: 1865 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، سُفْيَانُ ، الأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ:" أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ، فَنَزَلَتْ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ سورة الحج آية 39، قَالَ: فَعُرِفَ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے بےدخل کیا گیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ افسوس کے ساتھ فرمانے لگے: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا، اور اناللہ پڑھنے لگے، اور فرمایا کہ یہ ضرور ہلاک ہو کر رہیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جن لوگوں سے قتال کیا گیا، انہیں اب اجازت دی جاتی ہے (کہ تلوار اٹھالیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے، اسی وقت وہ سمجھ گئے کہ اب قتال ہو کر رہے گا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اذن قتال کے سلسلے میں یہ سب سے پہلی آیت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1865]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1866 مسند احمد
عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً، عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ، وَمَنْ تَحَلَّمَ عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَعْقِدَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَيْسَ عَاقِدًا، وَمَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ، صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تصویر کشی کرتا ہے، اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونک کر دکھا، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، اسے بھی قیامت کے دن عذاب ہوگا اور اسے جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، اور جو شخص کسی گروہ کی کوئی ایسی بات سن لے جسے وہ اس سے چھپانا چاہتے ہوں تو اس کے دونوں کانوں میں قیامت کے دن عذاب انڈیلا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1866]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7042 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7042 .
حدیث نمبر: 1867 مسند احمد
عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال:" لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ، قَال: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ، جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنْ قُدِرَ بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّ ذَلِكَ الْوَلَدَ الشَّيْطَانُ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ملاقات کے لئے آ کر یہ دعا پڑھ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1867]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 141، م: 1443.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 141، م: 1443.
حدیث نمبر: 1868 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، أَبِي الْمِنْهَالِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَالنَّاسُ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ، أَوْ قَالَ عَامَيْنِ، وَالثَّلَاثَةَ، فَقَالَ:" مَنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ، فَلْيُسَلِّفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ایک سال یا دو تین سال کے لئے ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھجور میں بیع سلم کرے، اسے چاہئے کہ اس کی ناپ معین کرے اور اس کا وزن معین کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1868]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2239، م: 1604.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2239، م: 1604.
حدیث نمبر: 1869 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَبُو التَّيَّاحِ ، مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانِي عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ، فَأَمَرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ، فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَزْحَفَ عَلَيْنَا مِنْهَا شَيْءٌ؟ فَقَالَ:" انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ"، قَالَ عَبْدُ اللّهِ: قال أبى: وَلَمْ يَسْمَعْ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ مِنْ أَبِي التَّيَّاحِ، إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو اٹھارہ اونٹ دے کر کہیں بھیجا اور اسے جو حکم دینا تھا دے دیا، وہ آدمی چلا گیا، تھوڑی دیر بعد وہی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یہ تو بتائیے، اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھک جائے تو کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے ذبح کر کے اس کے نعل کو اس کے خون میں تربتر کر لینا، پھر اس کے سینے پر لگانا، لیکن تم یا تمہارے رفقاء میں سے کوئی اور اس کا گوشت نہ کھائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1869]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1325.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1325.
حدیث نمبر: 1870 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَال: لَا أَدْرِي أَسَمِعْتُهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَمْ نُبِّئْتُهُ عَنْهُ , قَال: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ، وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا، فَقَال:" أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، وَبَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ" لَعَنَ اللَّهُ فُلَانًا، عَمَدُوا إِلَى أَعْظَمِ أَيَّامِ الْحَجِّ، فَمَحَوْا زِينَتَهُ وَإِنَّمَا زِينَةُ الْحَجِّ التَّلْبِيَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، ام الفضل نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا، اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر لعنت فرمائے، جو ایام حج میں سے ایک عظیم ترین دن کو پائے اور پھر اس کی زینت مٹا ڈالے، حج کی زینت تو تلبیہ ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1870]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 1871 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ , أَنَّ عَلِيًّا حَرَّقَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلَامِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: لَمْ أَكُنْ لِأُحَرِّقَهُمْ بِالنَّارِ، وَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال:" لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ"، وَكُنْتُ قَاتِلَهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ، فَاقْتُلُوهُ"، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ، فَقَالَ: وَيْحَ ابْنِ أُمِّ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ مرتدین کو نذر آتش کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا: اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کو نہ دو، بلکہ میں انہیں قتل کر دیتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر اظہار افسوس کیا (کہ یہ بات پہلے سے معلوم کیوں نہ ہو سکی؟)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1871]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3017.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3017.
حدیث نمبر: 1872 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ، كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بری مثال ہمارے لئے نہیں ہے، جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قے کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1872]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2622، م: 1622.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2622، م: 1622.
حدیث نمبر: 1873 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَطَاءٌ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي" بِأَنَّهُ مَقْبُوضٌ فِي تِلْكَ السَّنَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سورہ مبارکہ نصر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ مجھے اسی سال اٹھا لیا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1873]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عطاء مختلط ومحمد بن فضيل روى عنه بعد الاختلاط .
الحكم: إسناده ضعيف، عطاء مختلط ومحمد بن فضيل روى عنه بعد الاختلاط .
حدیث نمبر: 1874 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، يَزِيدَ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ، الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَالظُّهْرِ وَالْعَصْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر کے دوران مغرب اور عشاء، ظہر اور عصر کو جمع فرما لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1874]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 1875 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ، مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ، مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الأَرْضِ، مَلْعُونٌ مَنْ كَمَهَ أَعْمَى عَنْ طَرِيقٍ، مَلْعُونٌ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ، مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ بِعَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنی ماں کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے اور وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1875]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 1876 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ، عَلَى زَوْجِهَا أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِالنِّكَاحِ الأَوَّلِ، وَلَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابوالعاص بن الربیع (کے قبول اسلام پر) پہلے نکاح سے ہی ان کے حوالے کر دیا، از سر نو نکاح نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1876]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 1877 مسند احمد
مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، خُصَيْفٌ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ , عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنُ عَبَّاسٍَ ،" أَنَّهُ طَافَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بِالْبَيْتِ، فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الأَرْكَانَ كُلَّهَا، فَقَالَ لَه: لِمَ تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْبَيْتِ مَهْجُورًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: صَدَقْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے تمام کونوں کا استلام کرنے لگے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ آپ ان دو کونوں کا استلام کیوں کر رہے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا استلام نہیں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ بیت اللہ کے کسی حصے کو ترک نہیں کیا جا سکتا، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: « ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الأحزاب: 21] » تمہارے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1877]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، خصيف سيء الحفظ لكنه متابع.
الحكم: حسن لغيره، خصيف سيء الحفظ لكنه متابع.