إِسْحَاقُ ، سُفْيَانُ ، الأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ:" أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ، فَنَزَلَتْ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ سورة الحج آية 39، قَالَ: فَعُرِفَ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے بےدخل کیا گیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ افسوس کے ساتھ فرمانے لگے: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا، اور اناللہ پڑھنے لگے، اور فرمایا کہ یہ ضرور ہلاک ہو کر رہیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جن لوگوں سے قتال کیا گیا، انہیں اب اجازت دی جاتی ہے (کہ تلوار اٹھالیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے، اسی وقت وہ سمجھ گئے کہ اب قتال ہو کر رہے گا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اذن قتال کے سلسلے میں یہ سب سے پہلی آیت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1865]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.