بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 60 از 86
حدیث نمبر: 3018 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ ، زَمْعَةُ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3018]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، زمعة ضعيف، لكنه توبع، خ: (2278)، م: 1202
الحكم: حديث صحيح، زمعة ضعيف، لكنه توبع، خ: (2278)، م: 1202
حدیث نمبر: 3019 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلى أَبى طَيْبَة عِشاءً فحَجَمَهُ، وأعطاهُ أَجْرَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوطیبہ کے پاس شام کے وقت بیغام بھیجا، اس نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سینگی لگائی، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اس کی مزدوری دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3019]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف عباد بن منصور، ثم هو منقطع
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف عباد بن منصور، ثم هو منقطع
حدیث نمبر: 3020 مسند احمد
أَبو داود ، زَمْعَة ، سَلَمَة بنِ وَهْرامة ، عكرمة ، ابن عباس
(حديث مرفوع) حدثنا أَبو داود ، عن زَمْعَة ، عن سَلَمَة بنِ وَهْرامة ، عن عكرمة ، عن ابن عباس ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِجَمْعٍ، فَلَمَّا أَضَاءَ كُلُّ شَيْءٍ، قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، أَفَاضَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا اور جب سورج طلوع ہونے سے قبل ہر چیز روشن ہوگئی تو وہاں سے روانہ ہو گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3020]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة بن صالح
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة بن صالح
حدیث نمبر: 3021 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَهَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهَاشِمٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ، وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، قَالَ: فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ، قَالَ هَاشِمٌ: فَسَأَلَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ مَدَّ رُؤْيَتَهُ قَالَ هَاشِمٌ: لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ ذات عرق میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آ گیا، ہم نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کیا کہ اللہ نے چاند کی رؤیت میں وسعت دی ہے، اس لئے اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3021]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1088
الحكم: إسناده صحيح، م: 1088
حدیث نمبر: 3022 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وَرْقَاءُ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، قال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَلَاءَ، فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا، فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَ:" مَنْ وَضَعَ ذَا؟" قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ. قَالَ:" اللَّهُمَّ فَقِّههُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت الخلاء آئے، میں نے پیچھے سے وضو کا پانی رکھ دیا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکلے تو پوچھا کہ یہ پانی کس نے رکھا ہے؟ بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسے فقیہہ بنا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3022]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 143، م: 2477
الحكم: إسناده صحيح، خ: 143، م: 2477
حدیث نمبر: 3023 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ أَبُو بِشْرٍ ، مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3023]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1934
الحكم: إسناده صحيح، م: 1934
حدیث نمبر: 3024 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي، إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ:" وَمْن كَذَب علَيَّ متعمَّداً، فلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَى الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے، اور جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3024]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي، وقوله : من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار صحيح متواتر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي، وقوله : من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار صحيح متواتر
حدیث نمبر: 3025 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3025]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، سماك بن حرب فى روايته عن عكرمة اضطراب
الحكم: صحيح لغيره، سماك بن حرب فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 3026 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاتَتْ فُلَانَةُ يَعْنِي الشَّاةَ. فَقَالَ:" فَلَوْلَا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا"، فَقَالَتْ: نَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ؟! فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ سورة الأنعام آية 145، فَإِنَّكُمْ لَا تَطْعَمُونَهُ إِنْ تَدْبُغُوهُ فَتَنْتَفِعُوا بِهِ" فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا، فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا، فَدَبَغَتْهُ، فَأَخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ عِنْدَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فلاں بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی کھال کیوں نہ رکھ لی؟ انہوں نے عرض کیا کہ ایک مرداربکری کی کھال رکھتی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ « ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ﴾ [الأنعام: 145] » اے نبی! آپ فرما دیجئے کہ میرے پاس جو وحی بھیجی جاتی ہے، میں اس میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہتا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو۔ اب اگر تم اسے دباغت دے کر اس سے فائدہ اٹھا لو تو تم اسے کھاؤ گے تو نہیں؟ چنانچہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کسی کو بھیج کر اس کی کھال اتروا لی اور اسے دباغت دے کر اس کا مشکیزہ بنا لیا، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس پھٹ گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3026]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3027 مسند احمد
أَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ، فَذَكَرَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح كسابقه، وهو مرسل، عكرمة لم يسمع من سودة
الحكم: حديث صحيح كسابقه، وهو مرسل، عكرمة لم يسمع من سودة
حدیث نمبر: 3028 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ:" أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ، أَنَّكَ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلَانٍ؟" قَالَ: فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، قَالَ: فَرَجَمَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: تمہارے بارے میں مجھے جو بات معلوم ہوئی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سے آل فلاں کی باندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے؟ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3028]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 1693
الحكم: إسناده حسن، م: 1693
حدیث نمبر: 3029 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ:" نَكَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ الْهِلَالِيَّةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں میری خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3029]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 1837، م: 1410
الحكم: إسناده قوي، خ: 1837، م: 1410
حدیث نمبر: 3030 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَقَصَهُ بَعِيرُهُ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3030]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1267، م: 1206
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1267، م: 1206
حدیث نمبر: 3031 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا طِيَرَةَ وَلَا عَدْوَى، وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ"، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرْبَاءَ، فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ، فَتَجْرَبُ! قَالَ:" فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں، بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، صفر کا مہینہ یا الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے (اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ بتاؤ! اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3031]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك بن حرب عن عكرمة مضطرب، قد توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك بن حرب عن عكرمة مضطرب، قد توبع
حدیث نمبر: 3032 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَضَعَ لَكَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ. فَقَالَ:" اللَّهُمَّ فَقِّهُّ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، میں نے رات کے وقت ان کے لئے وضو کا پانی رکھا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ پانی آپ کے لئے عبداللہ بن عباس نے رکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3032]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 143، م: 2477 بدون لفظ : وعلمه التأويل
الحكم: إسناده قوي، خ: 143، م: 2477 بدون لفظ : وعلمه التأويل
حدیث نمبر: 3033 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، فُلَانٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَشَى، مَشَى مُجْتَمِعًا لَيْسَ فِيهِ كَسَلٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب چلتے تو مجتمع ہو کر چلتے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چال میں کسی قسم کی کسل مندی یا سستی نہیں ہوتی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3033]
حکم دارالسلام
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3034 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3034]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2660
الحكم: إسناده صحيح، م: 2660
حدیث نمبر: 3035 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبِيضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ، إِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو، اور تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3035]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3036 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ؟ قَالَ:" لَا حَرَجَ، وَانْحَرْ". وَجَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ:" فَارْمِ، وَلَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3036]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3037 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے (کسی دوسرے شخص کو اپنا باپ کہنا شروع کر دے)، یا کوئی غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کر دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3037]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي