عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ؟ قَالَ:" لَا حَرَجَ، وَانْحَرْ". وَجَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ:" فَارْمِ، وَلَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں“، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3036]
الحكم: إسناده قوي