بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 16 از 86
حدیث نمبر: 2138 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَجَّاجٌ ، الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِث ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَزِيدُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِث ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: أُرَاهُ رَفَعَهُ , قَالَ:" مَنْ عَادَ مَرِيضًا , فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ , أَنْ يَشْفِيَكَ، سَبْعَ مَرَّاتٍ، شَفَاهُ اللَّهُ إِنْ كَانَ قَدْ أُخِّرَ" , يَعْنِي: فِي أَجَلِهِ , قال عبدُ الله، قال أبي , وحَدَّثَنِاه يَزِيدُ , لَمْ يَشُكَّ فِي رَفْعِهِ، وَوَافَقَهُ عَلَى الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بندہ مسلم کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے اور یہ دعا کرتا ہے: «أَسْأَلُ اللّٰهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ» میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں، جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطاء فرمائے، اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے بشرطیکہ اس کی موت کے وقت میں مہلت باقی ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2138]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، لكنه متابع.
الحكم: حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، لكنه متابع.
حدیث نمبر: 2139 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، قَالَ:" مُرْ أُخْتَكَ أَنْ تَرْكَبَ، وَلْتُهْدِ بَدَنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہو گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی بہن سے کہو کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2139]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2140 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، فَمَاتَتْ، فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ، أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" فَاقْضُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی منت مانی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی، اس کا بھائی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ بتاؤ! اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گے یا نہیں؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اور وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق اور حقدار ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2140]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6699.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6699.
حدیث نمبر: 2141 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، مُسْلِمًا الْقُرِّيَّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ رَوْحٌ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْقُرِّيَّ ، قَالَ مُحَمَّدٌ: عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ، وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ، قَالَ رَوْحٌ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَحَلَّ، وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ طَلْحَةُ، وَرَجُلٌ آخَرُ، فَأَحَلَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمرہ کا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حج کا احرام باندھ لیا، جس کے پاس ہدی کا جانور نہ تھا، وہ تو حلال ہوگیا، ان لوگوں میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صاحب بھی تھے، انہوں نے بھی اپنا اپنا احرام کھول لیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2141]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1239.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1239.
حدیث نمبر: 2142 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَحْيَى بْنَ الْمُجَبِّرِ التَّيْمِيَّ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْمُجَبِّرِ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا؟ قَالَ: جَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا سورة النساء آية 93 , قَالَ: لَقَدْ أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ مَا نَزَلَ، مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، وَمَا نَزَلَ وَحْيٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ تَابَ، وَآمَنَ , وَعَمِلَ صَالِحًا، ثُمَّ اهْتَدَى؟ قَالَ: وَأَنَّى لَهُ بِالتَّوْبَةِ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، يَقُولُ:" ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ: رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آخِذًا قَاتِلَهُ بِيَمِينِهِ، أَوْ بِيَسَارِهِ، وَآخِذًا رَأْسَهُ بِيَمِينِهِ، أَوْ بشِمَالِهِ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا فِي قُبُلِ الْعَرْشِ، يَقُولُ: يَا رَبِّ، سَلْ عَبْدَكَ فِيمَ قَتَلَنِي؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی مسلمان کو عمداً قتل کیا ہو؟ انہوں نے کہا: اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت نازل ہوگی اور اللہ نے اس کے لئے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہونے والی اس سلسلے کی یہ آخری وحی ہے جسے کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال مبارک ہوگیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی پر وحی آ نہیں سکتی، سائل نے پوچھا کہ اگر وہ توبہ کر کے ایمان لے آیا، نیک اعمال کئے اور راہ ہدایت پر گامزن رہا؟ فرمایا: تم پر افسوس ہے، اسے کہاں ہدایت ملے گی؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس نے ایک ہاتھ سے قاتل کو پکڑ رکھا ہوگا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے سر کو، اور اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہوگا، اور وہ عرش کے سامنے آکر کہے گا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا؟ فائدہ: یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے ہے، جمہور امت اس بات پر متفق ہے کہ قاتل اگر توبہ کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح سے اپنے آپ کو مزین کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے، حقوق العباد کی ادائیگی یا سزا کی صورت میں بھی بہرحال کلمہ کی برکت سے وہ جہنم سے نجات پائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2142]
حکم دارالسلام
حديث صحيح. يحيي بن المجبر التيمي، مختلف فيه.
الحكم: حديث صحيح. يحيي بن المجبر التيمي، مختلف فيه.
حدیث نمبر: 2143 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَحْيَى أَبِي عُمَرَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: ذَكَرُوا النَّبِيذَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُنْبَذُ لَهُ فِي السِّقَاءِ" , قَالَ شُعْبَةُ: مِثْلَ لَيْلَةِ الِاثْنَيْنِ , فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَالثُّلَاثَاءِ إِلَى الْعَصْرِ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخُدَّامَ , أَوْ صَبَّهُ , قَالَ شُعْبَةُ: وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا قَالَ: وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ إِلَى الْعَصْرِ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخُدَّامَ , أَوْ صَبَّهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے پیر کے دن اور منگل کو عصر تک (غالبا بدھ کی عصر تک) اسے نوش فرماتے، اس کے بعد کسی خادم کو پلا دیتے یا پھر بہانے کا حکم دے دیتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2143]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2004.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2004.
حدیث نمبر: 2144 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّينَ، مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس وقت فرعون غرق ہو رہا تھا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس اندیشے سے اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنا شروع کر دی کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه» نہ کہہ لے (اور اپنے سیاہ کارناموں کی سزا سے بچ جائے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2144]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفاً على ابن عباس.
الحكم: صحيح موقوفاً على ابن عباس.
حدیث نمبر: 2145 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" فِي السَّلَفِ فِي حَبَلِ الْحَبَلَةِ رِبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حاملہ جانور کے حمل میں ادھار کی بیع کرنا سود ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2145]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2146 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ الشَّهِيدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنَ الزُّبَيْرِ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، لِابْنِ عَبَّاسٍ:" أَتَذْكُرُ حِينَ اسْتَقْبَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ جَاءَ مِنْ سَفَرٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَحَمَلَنِي وَفُلَانًا غُلَامًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، وَتَرَكَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک مرتبہ ہماری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوئی تھی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اٹھا لیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2146]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2147 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ بِعَيْنِ شَيْطَانٍ، أَوْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ" , قَالَ: فَدَخَلَ رَجُلٌ أَزْرَقُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، عَلَامَ سَبَبْتَنِي أَوْ شَتَمْتَنِي، أَوْ نَحْوَ هَذَا؟ قَالَ: وَجَعَلَ يَحْلِفُ، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُجَادَلَة: وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ سورة المجادلة آية 14.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے، تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ [المجادلة: 14] » یہ جھوٹ پر قسم کھا لیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2147]
حکم دارالسلام
ضعيف بهذه السياقة، وسيرد على الصحة برقم: 2407 و 3277 .
الحكم: ضعيف بهذه السياقة، وسيرد على الصحة برقم: 2407 و 3277 .
حدیث نمبر: 2148 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ:" أَعْوَرُ هِجَانٌ أَزْهَرُ، كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ، أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ، فَإِمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ، فَإِنَّ رَبَّكُمْ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ" , قَالَ شُعْبَةُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ قَتَادَةَ، فَحَدَّثَنِي بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دجال کے متعلق فرمایا: وہ کانا ہوگا، سفید کھلتا ہوا رنگ ہوگا، اس کا سر سانپ کی طرح محسوس ہوگا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبدالعزی بن قطن کے مشابہہ ہوگا، اگر ہلاک ہونے والے ہلاک ہونے لگیں گے تو تم یاد رکھنا کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے جب یہ حدیث قتادہ کے سامنے پڑھی تو انہوں نے بھی مجھے یہی حدیث سنائی (تصدیق کی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2148]
حکم دارالسلام
صحيح، سماك وإن كانت روايته عن عكرمة فيها اضطراب، قد توبع.
الحكم: صحيح، سماك وإن كانت روايته عن عكرمة فيها اضطراب، قد توبع.
حدیث نمبر: 2149 مسند احمد
مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، عِكْرِمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلِيلٌ، يَشُقُّ عَلَيَّ الْقِيَامُ، فَأْمُرْنِي بِلَيْلَةٍ لَعَلَّ اللَّهَ يُوَفِّقُنِي فِيهَا لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ , قَالَ:" عَلَيْكَ بِالسَّابِعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں، بیمار بھی رہتا ہوں اور مجھ پر قیام میں بھی بڑی مشقت ہوتی ہے، آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئے جس میں اللہ کی طرف سے شب قدر ملنے کا امکان ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عشرہ اخیرہ کی ساتویں رات (27 ویں شب) کو لازم پکڑو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2149]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2150 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي حَمْزَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ خَلْفَ بَابٍ، فَدَعَانِي، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، ثُمَّ بَعَثَ بِي إِلَى مُعَاوِيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گزر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2150]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 2604.
الحكم: إسناده حسن، م: 2604.
حدیث نمبر: 2151 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِر، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ، وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا غَيْرَ رَمَضَانَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَة".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے، اور جب سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ رونق افروز ہوئے تھے، اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2151]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1157.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1157.
حدیث نمبر: 2152 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ، وَلَمْ يُقَصِّرْ , وَلَمْ يُحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ، وَأَنْ يَسْعَى وَيُقَصِّرَ، أَوْ يَحْلِقَ، ثُمَّ يُحِلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج کی نیت سے احرام باندھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، لیکن ہدی کی وجہ سے بال کٹوا کر حلال نہیں ہوئے، اور ہدی اپنے ساتھ نہ لانے والوں کو حکم دیا کہ وہ طواف اور سعی کر کے قصر یا حلق کرنے کے بعد حلال ہو جائیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2152]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1239، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد.
الحكم: حديث صحيح، م: 1239، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد.
حدیث نمبر: 2153 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" مَرَّ بِقِدْرٍ، فَأَخَذَ مِنْهَا عَرْقًا، وَكَتِفًا، فَأَكَلَهُ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شانہ کا یا ہڈی والا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ وضو کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2153]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.
حدیث نمبر: 2154 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حدثنا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ، صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا، أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عاشورہ کا روزہ رکھا کرو، لیکن اس میں بھی یہودیوں کی مخالفت کیا کرو اور وہ اس طرح کہ اس سے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ بھی ملا لیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2154]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف ، ابن أبى ليلى، سيء الحفظ ، داود بن على ، يخطئ .
الحكم: إسناد ضعيف ، ابن أبى ليلى، سيء الحفظ ، داود بن على ، يخطئ .
حدیث نمبر: 2155 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا احْتَجَمَ , احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ" , قَالَ: فَدَعَا غُلَامًا لِبَنِي بَيَاضَةَ فَحَجَمَهُ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ مُدًّا وَنِصْفًا، قَالَ: وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ، فَحَطُّوا عَنْهُ نِصْفَ مُدٍّ، وَكَانَ عَلَيْهِ مُدَّانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی سینگی لگواتے تو گردن کی دونوں جانب پہلوؤں کی رگوں میں لگواتے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو بیاضہ کے ایک غلام کو بلایا، اس نے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے عطاء فرمائی، اور اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چنانچہ انہوں نے اس سے نصف مد کم کر دیا، ورنہ پہلے اس پر پورے دو مد تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2155]
حکم دارالسلام
قوله: «أحتجم فى الأخدعين» حسن لغيره، وبقيته صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر.
الحكم: قوله: «أحتجم فى الأخدعين» حسن لغيره، وبقيته صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر.
حدیث نمبر: 2156 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ ، الشَّعْبِيَّ ، ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَا:" سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَهِيَ تَمَامٌ، وَالْوَتْرُ فِي السَّفَرِ سُنَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر میں دو رکعت پڑھنے کا طریقہ متعین فرما دیا ہے اس لئے یہ دو رکعتیں ہی مکمل ہیں، نامکمل نہیں، اور سفر میں وتر پڑھنا بھی سنت سے ثابت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2156]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف جابر الجعفي.
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف جابر الجعفي.
حدیث نمبر: 2157 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ ، عَمَّارٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا وَلَوْ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ لِبَيْضِهَا، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ کے لئے تعمیر مسجد میں حصہ لیتا ہے - خواہ وہ قطا پرندے کے انڈے دینے کے گھونسلے کے برابر ہی کیوں نہ ہو - اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر تعمیر فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2157]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.