بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 18 از 86
حدیث نمبر: 2178 مسند احمد
عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي، فَإِنْ اللَّهُ قَضَى بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ وَلَدًا، لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ملاقات کے لئے آ کر یہ دعا پڑھ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي» اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطا فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2178]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 141، م: 1434
الحكم: إسناده صحيح، خ: 141، م: 1434
حدیث نمبر: 2179 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَطَاءٍ ، سَعِيدٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : يَا سَعِيدُ أَلَكَ امْرَأَةٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا , قَالَ: فَإِذَا رَجَعْتَ فَتَزَوَّجْ , قَالَ: فَعُدْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا سَعِيدُ: أَتَزَوَّجْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا , قَالَ: تَزَوَّجْ، فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَكْثَرُهُمْ نِسَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (میری سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی) انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، فرمایا: شادی کر لو، اس بات کو کچھ عرصہ گزر گیا، دوبارہ ملاقات ہونے پر انہوں نے پھر یہی پوچھا کہ اب شادی ہو گئی؟ میں نے پھر نفی میں جواب دیا، اس پر انہوں نے فرمایا کہ شادی کر لو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ان کی بیویاں زیادہ تھیں (تو تم کم از کم ایک سے ہی شادی کر لو، چار سے نہ سہی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2179]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 5069، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم، عطاء ابن السائب رمي بالاختلاط، ولكنهما توبعا
الحكم: صحيح لغيره، خ: 5069، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم، عطاء ابن السائب رمي بالاختلاط، ولكنهما توبعا
حدیث نمبر: 2180 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَنَابَةٍ، فَلَمَّا خَرَجَ رَأَى لُمْعَةً عَلَى مَنْكِبِهِ الْأَيْسَرِ، لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَأَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ فَبَلَّهَا، ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غسل جنابت فرمایا، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غسل کر کے باہر نکلے تو دیکھا کہ بائیں کندھے پر تھوڑی سی جگہ خشک رہ گئی ہے، وہاں پانی نہیں پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بالوں سے ٹپکتا ہوا پانی لے کر اس جگہ کو تر بتر کر لیا اور نماز کے لئے چلے گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2180]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً ، على بن عاصم ضعيف، وأبو على الرحبي متروك
الحكم: إسناده ضعيف جداً ، على بن عاصم ضعيف، وأبو على الرحبي متروك
حدیث نمبر: 2181 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَثْعَمِيِّ ، أَبِي كَعْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ أَبِي كَعْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَبْطَأَ عَنْكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ:" وَلِمَ لَا يُبْطِئُ عَنِّي، وَأَنْتُمْ حَوْلِي لَا تَسْتَنُّونَ، وَلَا تُقَلِّمُونَ أَظْفَارَكُمْ، وَلَا تَقُصُّونَ شَوَارِبَكُمْ، وَلَا تُنَقُّونَ رَوَاجِبَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! جبرئیل امین علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے میں اس دفعہ بڑی تاخیر کر دی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تاخیر کیوں نہ کریں جبکہ میرے ارد گرد تم لوگ مسواک نہیں کرتے، اپنے ناخن نہیں کاٹتے، اپنی مونچھیں نہیں تراشتے، اور اپنی انگلیوں کی جڑوں کو صاف نہیں کرتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2181]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ثعلبة بن مسلم، مجهول، وأبو كعب مولي ابن عباس فيه ، جهالة
الحكم: إسناده ضعيف، ثعلبة بن مسلم، مجهول، وأبو كعب مولي ابن عباس فيه ، جهالة
حدیث نمبر: 2182 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، أَبِي خَالِدٍ يَزِيدَ ، الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ يَزِيدَ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَتَى مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ، فَقَالَ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعظيم، أَنْ يَشْفِيَهُ، إِلَّا عُوفِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے کہ «أَسْأَلُ اللّٰهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ أَنْ يَشْفِيَهُ» میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے، تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2182]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، يزيد أبو خالد وإن كان فيه كلام، قد توبع
الحكم: حديث صحيح، يزيد أبو خالد وإن كان فيه كلام، قد توبع
حدیث نمبر: 2183 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ، فَدَعَا بِمَاءٍ وَاسْتَسْقَى، فَأَتَيْتُهُ بِدَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہ زمزم کے قریب میرے پاس سے گزرے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پینے کے لئے پانی منگوایا، میں زمزم سے بھر کر ایک ڈول لایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2183]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
حدیث نمبر: 2184 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَابْنُ أَخِي ابْنِ شهاب ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَيَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، ابْنَ الْمُسَيَّبِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أخبرنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَابْنُ أَخِي ابْنِ شهاب ، كلاهما عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَيَعْقُوبُ قَالَ , حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى، فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى , قَالَ يَعْقُوبُ: فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَحَسِبْتُ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسری کے نام اپنا نامہ مبارک دے کر سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا، انہوں نے وہ خط کسری کے مقرر کردہ بحرین کے گورنر کو دیا تاکہ وہ اسے کسری کی خدمت میں (رواج کے مطابق) پیش کرے، چنانچہ گورنر بحرین نے کسری کی خدمت میں وہ خط پیش کر دیا، اس نے جب اس خط کو پڑھا تو اسے چاک کر دیا، امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق سعید بن المسیب نے اس کے بعد یہ فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لئے بد دعا فرمائی کہ اسے بھی اسی طرح مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2184]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 64. وقوله : قال ابن شهاب : فحسيت ابن المسيب قال ...... هو مرسل
الحكم: إسناده صحيح، خ: 64. وقوله : قال ابن شهاب : فحسيت ابن المسيب قال ...... هو مرسل
حدیث نمبر: 2185 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَأَفْطَرَ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر روزہ رکھا، جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک گلاس پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا اور لوگوں کو بھی روزہ ختم کر لینے کا حکم دیا (اور بعد میں قضا کر لی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2185]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2186 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ بِالْقَاحَةِ وَهُوَ صَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قاحہ نامی جگہ میں سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے بھی تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2186]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2187 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَيُونُسُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَيُونُسُ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فِي مِحَفَّةٍ، فَأَخَذَتْ بِضَبْعِهِ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ:" نَعَمْ , وَلَكِ أَجْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا جس کے ساتھ پالکی میں ایک بچہ بھی تھا، اس نے اس بچے کو اس کی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2187]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1336
الحكم: إسناده صحيح، م: 1336
حدیث نمبر: 2188 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَعَرَّقَ كَتِفًا , ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضأّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2188]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 2189 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمَعَنَا بَدَنَتَانِ , فَأَزْحَفَتَا عَلَيْنَا فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ لِي سِنَان: هَلْ لَكَ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ ؟ فَأَتَيْنَاهُ، فَسَأَلَهُ سِنَانٌ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُهَنِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، لَمْ يَحُجَّج؟ قَالَ:" حُجَّ عَنْ أَبِيكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ ایک دفعہ اپنے گھر سے سفر پر نکلے، ہمارے پاس دو اونٹنیاں تھیں، راستے میں وہ تھک گئیں تو سنان نے مجھ سے کہا: کیا خیال ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلیں؟ ہم دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرے والد صاحب بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، اور اب تک وہ حج بھی نہیں کر سکے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2189]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1325
الحكم: إسناده صحيح، م: 1325
حدیث نمبر: 2190 مسند احمد
يُونُس ، فُلَيْحٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُس ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ: إِنَّا بِأَرْضٍ لَنَا بِهَا الْكُرُومُ، وَإِنَّ أَكْثَرَ غَلَّاتِهَا الْخَمْرُ , فَقَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ دَوْسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَاوِيَةِ خَمْرٍ أَهْدَاهَا لَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا بَعْدَكَ؟" , فَأَقْبَلَ صَاحِبُ الرَّاوِيَةِ عَلَى إِنْسَانٍ مَعَهُ فَأَمَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَاذَا أَمَرْتَهُ؟" , قَالَ: بِبَيْعِهَا , قَالَ:" هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا، حَرَّمَ بَيْعَهَا، وَأَكْلَ ثَمَنِهَا" , قَال: فَأَمَرَ بِالْمَزَادَةِ فَأُهْرِيقَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن وعلہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ہمارے علاقے میں انگوروں کی بڑی کثرت ہے اور وہاں کی سب سے اہم تجارتی چیز شراب ہے، انہوں نے فرمایا کہ قبیلہ دوس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک دوست رہتا تھا، وہ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کے لئے شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے ابوفلاں! کیا تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ اللہ نے تمہارے پیچھے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے؟ یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے، چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو بہا دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2190]
حکم دارالسلام
صحيح. وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح. وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2191 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْمَعْنَى ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ , قَالَ:" كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَعْجَبَهُ الْمَنْزِلُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِذَا سَارَ، وَلَمْ يَتَهَيَّأْ لَهُ الْمَنْزِلُ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَنْزِلَ، فَيَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ" , قَالَ حَسَنٌ: كَانَ إِذَا سَافَرَ فِنَزَلَ مَنْزِلًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ جب وہ کہیں پڑاؤ کرتے اور انہیں وہ جگہ اچھی لگتی تو وہ ظہر کو مؤخر کر دیتے تاکہ ظہر اور عصر میں جمع صوری کر دیں، اور اگر وہ روانہ ہوتے اور انہیں کہیں پڑاؤ کرنے کا موقع نہ ملتا تب بھی وہ ظہر کو موخر کر دیتے تاکہ کسی منزل پر پہنچ جائیں اور وہاں ظہر اور عصر کے درمیان جمع صوری کر لیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2191]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 2192 مسند احمد
يونسُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يونسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2192]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1934
الحكم: إسناده صحيح، م: 1934
حدیث نمبر: 2193 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، كَانُوا يَقِفُونَ حَافَتَيْ النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُوا الْعِصِيَّ , وَالْجِعَابَ , وَالْقِعَابَ، فَإِذَا نَفَرُوا، تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ، فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ، قَالَ: وَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ ذِفْرَى نَاقَتِهِ لَيَمَسُّ حَارِكَهَا، وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سواریوں کو تیز کرنے کا آغاز دیہاتی لوگوں کی طرف سے ہوا تھا، یہ لوگ کناروں پر ٹھہرے ہوئے تھے تاکہ اپنی لاٹھیاں، ترکش اور پیالے لٹکا سکیں، جب انہوں نے کوچ کیا تو ان چیزوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے، انہوں نے کوچ تو لوگوں کے ساتھ کیا تھا (لیکن مذکورہ طریقے سے) اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس حال میں دیکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی کے دونوں کانوں کا پچھلا حصہ فیل بان کو چھو رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ لوگو! سکون اختیار کرو، لوگو! سکون اور وقار اختیار کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2193]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2194 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، وَأَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَأَيُّوبَ , عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ، فَقَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" , فَقَالَ عِكْرِمَةُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ سو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھا دی اور وضو نہیں فرمایا۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیند کی حالت میں بھی وضو ٹوٹنے سے محفوظ تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2194]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2195 مسند احمد
يُونُسُ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، وَقَيْسٌ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ عَفَّانُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، وَقَيْسٌ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخَّرَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا، ثُمَّ نَامُوا، ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا، قَالَ قَيْسٌ: فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّئُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ عشا کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ لوگ دو مرتبہ سو کر بیدار ہوئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! نماز، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور انہیں نماز پڑھائی، راوی نے ان کے وضو کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2195]
حکم دارالسلام
إسناده صحح
الحكم: إسناده صحح
حدیث نمبر: 2196 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، كُرَيْبِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ كُرَيْبِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ جَاءَهُ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"، قَالَ حَسَنٌ: يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَامَ حَتَّى نَفَخَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گزاری، رات کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہو کر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا اور جا کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھی اور پھر لیٹ کر سو گئے حتی کہ خر اٹے لینے لگے، یہاں تک کہ جب مؤذن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں، اور باہر تشریف لا کر فجر کی نماز پڑھائی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2196]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 138، م: .763
الحكم: إسناده صحيح، خ: 138، م: .763
حدیث نمبر: 2197 مسند احمد
يُونُسُ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ، طُوَالًا، جَعْدًا، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ، إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبْطَ الرَّأْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے شب معراج حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندم گوں، لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں والے آدمی تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہوں، نیز میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، وہ درمیانے قد کے، سرخ و سفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2197]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3239، م: 165
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3239، م: 165