بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 55 از 86
حدیث نمبر: 2918 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، أَبِي رَزِينٍ ، أَبِي يَحْيَى ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى ابْنِ عُقَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَقَدْ عُلِّمْتُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ، فَمَا أَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ، فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا، أَمْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا، فَيَسْأَلُوا عَنْهَا؟! ثُمَّ طَفِقَ يُحَدِّثُنَا، فَلَمَّا قَامَ، تَلَاوَمْنَا أَنْ لَا نَكُونَ سَأَلْنَاهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: أَنَا لَهَا إِذَا رَاحَ غَدًا، فَلَمَّا رَاحَ الْغَدَ، قُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، ذَكَرْتَ أَمْسِ أَنَّ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ لَمْ يَسْأَلْكَ عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ، فَلَا تَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ، فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا، أَمْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْهَا، وَعَنِ اللَّاتِي قرأت قبلها. قَالَ: نَعَمْ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِقُرَيْشٍ:" يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ". وَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنَّ النَّصَارَي تَعْبُدُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، وَمَا تَقُولُ فِي مُحَمَّدٍ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ عِيسَى كَانَ نَبِيًّا وَعَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ صَالِحًا، فَلَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا، فَإِنَّ آلِهَتَهُمْ لَكَمَا تَقُولُونَ. قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ سورة الزخرف آية 57. قَالَ: قُلْتُ مَا يَصِدُّونَ؟ قَالَ: يَضِجُّونَ، وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ سورة الزخرف آية 61، قَالَ: هُوَ خُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابویحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں قرآن کریم کی ایک ایسی آیت جانتا ہوں جس کے متعلق آج تک مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا، اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ لوگوں کو اس کے بارے پہلے سے علم ہے اس لئے نہیں پوچھتے یا ان کا ذہن ہی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا؟ یہ کہہ کر پھر وہ ہمارے ساتھ باتیں کرنے لگے، جب وہ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم ہی نے ان سے کیوں نہ پوچھ لیا؟ میں نے کہا کہ جب وہ کل یہاں آئیں گے تو میں ان سے اس کے متعلق دریافت کروں گا۔ چنانچہ اگلے دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ حضرت! کل آپ نے ذکر فرمایا تھا کہ آپ قرآن کریم کی ایک ایسی آیت جانتے ہیں جس کے متعلق آج تک آپ سے کسی نے نہیں پوچھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ معلوم نہیں، لوگوں کو پہلے سے اس کے بارے علم ہے اس لئے نہیں پوچھتے یا اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے؟ آپ مجھے اس آیت کے متعلق بتائیے اور ان آیات کے متعلق بھی جو آپ نے اس سے پہلے پڑھ رکھی تھیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا: اے گروہ قریش! اللہ کے علاوہ جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان میں سے کسی میں کوئی خیر نہیں ہے، قریش کے لوگ جانتے تھے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں اس لئے وہ کہنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا تمہارا یہ خیال نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی اور اس کے نیک بندے تھے، اگر آپ سچے ہیں (کہ معبودان باطلہ میں کوئی خیر نہیں ہے) تو پھر عیسائیوں کا خدا بھی ویسا ہی ہوا جیسے آپ کہتے ہیں (کہ ان میں بھی کوئی خیر نہیں ہے)، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ» [الزخرف: 57] جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال بیان کی جاتی ہے تو آپ کی قوم چلانے لگتی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے «يَصِدُّونَ» کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا ترجمہ چلانا کیا اور « ﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ﴾ [الزخرف: 61] » اور بلاشبہ وہ یقینا قیامت کی ایک نشانی ہے۔ کا مطلب پوچھا تو فرمایا کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول و خروج قیامت کی علامات میں سے ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2918]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2919 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ بَيْتِهِ بِمَكَّةَ جَالِسٌ، إِذْ مَرَّ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، فَكَشَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَجْلِسُ؟" قَالَ: بَلَى. قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَهُ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُهُ إِذْ شَخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ، فَنَظَرَ سَاعَةً إِلَى السَّمَاءِ، فَأَخَذَ يَضَعُ بَصَرَهُ حَتَّى وَضَعَهُ عَلَى يَمِينِهِ فِي الْأَرْضِ، فَتَحَرَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَلِيسِهِ عُثْمَانَ إِلَى حَيْثُ وَضَعَ بَصَرَهُ، وَأَخَذَ يُنْغِضُ رَأْسَهُ كَأَنَّهُ يَسْتَفْقِهُ مَا يُقَالُ لَهُ، وَابْنُ مَظْعُونٍ يَنْظُرُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ، وَاسْتَفْقَهَ مَا يُقَالُ لَهُ، شَخَصَ بَصَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ كَمَا شَخَصَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَأَتْبَعَهُ بَصَرَهُ حَتَّى تَوَارَى فِي السَّمَاءِ، فَأَقْبَلَ إِلَى عُثْمَانَ بِجِلْسَتِهِ الْأُولَى، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فِيما كُنْتُ أُجَالِسُكَ وَآتِيكَ، مَا رَأَيْتُكَ تَفْعَلُ كَفِعْلِكَ الْغَدَاةَ! قَالَ:" وَمَا رَأَيْتَنِي فَعَلْتُ؟" قَالَ: رَأَيْتُكَ تَشْخَصُ بِبَصَرِكَ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ وَضَعْتَهُ حَيْثُ وَضَعْتَهُ عَلَى يَمِينِكَ، فَتَحَرَّفْتَ إِلَيْهِ وَتَرَكْتَنِي، فَأَخَذْتَ تُنْغِضُ رَأْسَكَ كَأَنَّكَ تَسْتَفْقِهُ شَيْئًا يُقَالُ لَكَ. قَالَ:" وَفَطِنْتَ لِذَاكَ؟" قَالَ عُثْمَانُ: نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ آنِفًا، وَأَنْتَ جَالِسٌ" قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ؟! قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: فَمَا قَالَ لَكَ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ سورة النحل آية 90. قَالَ عُثْمَانُ فَذَلِكَ حِينَ اسْتَقَرَّ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِي، وَأَحْبَبْتُ مُحَمَّدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں اپنے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے کہ وہاں سے عثمان بن مظعون کا گزر ہوا، وہ تیزی سے گزرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا آپ بیٹھیں گے نہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گئے، ابھی یہ دونوں آپس میں باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نگاہیں اوپر کو اٹھ گئیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لمحے کے لئے آسمان کی طرف دیکھا، پھر آہستہ آہستہ اپنی نگاہیں نیچے کرنے لگے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی نظریں زمین پر اپنی دائیں جانب گاڑ دیں اور اپنے مہمان عثمان سے منہ پھیر کر اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور اپنا سر جھکا لیا، ایسا محسوس ہوا کہ وہ کسی کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، عثمان یہ سب کچھ دیکھتے رہے۔ تھوڑی دیر بعد جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کام سے فارغ ہوئے اور جو کچھ ان سے کہا جا رہا تھا، انہوں نے سمجھ لیا تو پھر ان کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں، جیسے پہلی مرتبہ ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نگاہیں کسی چیز کا پیچھا کرتی رہیں یہاں تک کہ وہ چیز آسمانوں میں چھپ گئی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے کی طرح عثمان کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ کے پاس آ کر کیوں بیٹھوں؟ آج آپ نے جو کچھ کیا ہے اس سے پہلے میں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے کیا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ عثمان کہنے لگے کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی نظریں آسمان کی طرف اٹھ گئیں، پھر آپ نے دائیں ہاتھ اپنی نگاہیں جما دیں، آپ مجھے چھوڑ کر اس طرف متوجہ ہو گئے، اور آپ نے اپنے سر کو جھکا لیا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ سے کچھ کہا جارہا ہے، اسے آپ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی تم نے ایسی چیز محسوس کی ہے؟ عثمان کہنے لگے: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابھی ابھی میرے پاس اللہ کا قاصد آیا تھا جبکہ تم میرے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے، عثمان نے کہا: اللہ کا قاصد؟ فرمایا: ہاں! عثمان نے پوچھا کہ پھر اس نے آپ سے کیا کہا؟ فرمایا: بیشک اللہ عدل و احسان کا اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی، ناپسندیدہ اور سرکشی کے کاموں سے روکتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ عثمان کہتے ہیں کہ اسی وقت سے میرے دل میں اسلام نے جگہ بنانی شروع کر دی اور مجھے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت ہو گئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2919]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شهر بن حوشب مختلف فيه، وعبد الحميد بن بهرام مختلف فيه أيضا
الحكم: إسناده ضعيف، شهر بن حوشب مختلف فيه، وعبد الحميد بن بهرام مختلف فيه أيضا
حدیث نمبر: 2920 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لِكُلِّ نَبِيٍّ حَرَمٌ، وَحَرَمِي الْمَدِينَةُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُهَا بِحُرَمِكَ، أَنْ لَا يُؤْوَى فِيهَا مُحْدِثٌ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا، وَلَا تُؤْخَذُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کا ایک حرم تھا اور میرا حرم مدینہ ہے، اے اللہ! میں مدینہ کو آپ کے حرم کی طرح حرم قرار دیتا ہوں، یہاں کسی بدعتی کو ٹھکانہ نہ دیا جائے، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کا کانٹا نہ توڑا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے، سوائے اس شخص کے جو اعلان کر سکے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2920]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، دون قوله : لكل نبي م، وهذا إسناد ضعيف
الحكم: حسن لغيره، دون قوله : لكل نبي م، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 2921 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ وَالِده، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ الَّذِينَ أَعْتَقُوهُ، فَإِنَّ عَلَيْهِ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ، أَجْمَعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے (کسی دوسرے شخص کو اپنا باپ کہنا شروع کر دے)، یا کوئی غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کر دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ رب العزت اس کا بھی کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کرے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2921]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 2922 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نُهِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ الْمُهَاجِرَاتِ، قَالَ: لا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ سورة الأحزاب آية 52، فَأَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَاتِكُمْ الْمُؤْمِنَاتِ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ سورة الأحزاب آية 50 وَحَرَّمَ كُلَّ ذَاتِ دِينٍ غَيْرَ دِينِ الْإِسْلَامِ، قَالَ: وَمَنْ يَكْفُرْ بِالإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ سورة المائدة آية 5، وَقَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ إِلَى قَوْلِهِ خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ سورة الأحزاب آية 50 وَحَرَّمَ سِوَى ذَلِكَ مِنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ہر صنف کی عورتیں ممنوع تھیں سوائے ان مؤمنہ عورتوں کے جو ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئی ہوں، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: «‏‏‏‏ ﴿لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ﴾ [الأحزاب: 52] » ان کے علاوہ کسی عوت سے نکاح کرنا، یا انہیں بدل کر کسی اور کو اپنے نکاح میں لے آنا خواہ ان کا حسن اچھا ہی کیوں نہ لگے، آپ کے لئے حلال نہیں ہے سوائے باندیوں کے۔ بعد میں اللہ نے تمہاری مؤمن عورتوں کو ان پر حلال کر دیا اور اس مؤمنہ عورت کو بھی جو اپنی ذات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہبہ کر دے، اور اسلام کے علاوہ دوسرے ہر دین کی عورت کو حرام قرار دے دیا اور فرمایا: «‏‏‏‏ ﴿وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ [المائدة: 5] » جو شخص ایمان کے بعد کفر اختیار کر لے اس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏ ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ . . . . . خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الأحزاب: 50] » اے نبی! ہم نے آپ کے لئے حلال کر دی ہیں آپ کی بیویاں جن کو آپ نے ان کے مہر دے دیئے ہیں اور آپ کی لونڈیاں . . . . . یہ حکم خاص آپ کے لئے ہے، عام مسلمانوں کے لئے نہیں۔ اور اس کے علاوہ سب طرح کی عورتیں حرام کر دیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2922]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2923 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا سَوْدَةُ، وَكَانَتْ مُصْبِيَةً، كَانَ لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ، مِنْ بَعْلٍ لَهَا مَاتَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي؟" قَالَتْ: وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ أَنْ لَا تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ، وَلَكِنِّي أُكْرِمُكَ أَنْ يَضْغُوَ هَؤُلَاءِ الصِّبْيَةَ عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً. قَالَ:" فَهَلْ مَنَعَكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ؟" قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ. قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُكِ اللَّهُ، إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرٍ، وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی قوم کی ایک خاتون کو - جن کا نام سودہ تھا - پیغام نکاح بھیجا، سودہ کے یہاں اس شوہر سے - جو فوت ہوگیا تھا - پانچ یا چھ بچے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہیں مجھ سے کون سی چیز روکتی ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! واللہ! مجھے آپ سے کوئی چیز نہیں روکتی، آپ تو ساری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں، اصل میں مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ یہ بچے صبح و شام آپ کے سرہانے روتے اور چیختے رہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے علاوہ بھی کوئی وجہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے، وہ بہترین عورتیں جو اونٹوں پر پشت کی جانب بیٹھتی ہیں ان میں سب سے بہتر قریش کی نیک عورتیں ہیں جو بچپن میں اپنے بچوں کے لئے انتہائی شفیق اور اپنی ذات کے معاملے میں اپنے شوہر کی محافظ ہوتی ہیں۔ فائدہ: یہ سودہ دوسری ہیں، ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نہیں ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2923]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، دون ذكر اسم المرأة التى خطبها النبى ، وشهر بن حوشب - على ضعف فيه حديثه حسن فى الشواهد
الحكم: حسن لغيره، دون ذكر اسم المرأة التى خطبها النبى ، وشهر بن حوشب - على ضعف فيه حديثه حسن فى الشواهد
حدیث نمبر: 2924 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا لَهُ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ، وَتَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فقد أَسلمتُ؟، قَالَ:" إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ، فَقَدْ أَسْلَمْتَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَحَدِّثْنِي مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ:" الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالْكِتَابِ، وَالنَّبِيِّينَ، وَتُؤْمِنَ بِالْمَوْتِ، وَبِالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَالْحِسَابِ، وَالْمِيزَانِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ"، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ؟ قَالَ: إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَرَهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَحَدِّثْنِي مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا هُوَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ"، قَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَحَدِّثْنِي. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا أَوْ رَبَّهَا، وَرَأَيْتَ أَصْحَابَ الشَّاءِ تَطَاوَلُوا بِالْبُنْيَانِ، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْجِيَاعَ الْعَالَةَ كَانُوا رُءُوسَ النَّاسِ، فَذَلِكَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ أَصْحَابُ الشَّاءِ وَالْحُفَاةُ الْجِيَاعُ الْعَالَةُ؟ قَالَ:" الْعَرَبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام آ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اپنے ہاتھ ان کے گھٹنے پر رکھ کر بیٹھ گئے، اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ اسلام کی تعریف کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی تعریف یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دو، اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ انہوں نے پوچھا: کیا یہ کام کرنے کے بعد میں مسلمان شمار ہوں گا؟ فرمایا: ہاں! جب تم یہ کام کر لو گے تو تم مسلمان شمار ہوگے۔ پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیے کہ ایمان کیا ہے؟ فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، آخرت کے دن، فرشتوں، کتاب، پیغمبروں، موت اور موت کے بعد کی زندگی، جنت و جہنم، حساب کتاب، میزان عمل اور تقدیر پر مکمل - خواہ وہ بھلائی کی ہو یا برائی کی - یقین رکھو۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا جب میں یہ کام کر لوں گا تو میں مومن شمار ہوں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب تم یہ کام کر لو گے تو تم مومن شمار ہو گے۔ پھر انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیے کہ احسان کیا چیز ہے؟ فرمایا: احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی رضا کے لئے کوئی بھی عمل اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، اگر یہ تصور نہیں کر سکتے تو یہی تصور کر لو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ قیامت کب آئے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو غیب کی ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، ارشاد ربانی ہے: «‏‏‏‏ ﴿إِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ [لقمان: 34] » ‏‏‏‏ اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماں کے رحم میں کیا ہے؟ کسی نفس کو نہیں پتہ کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا باخبر ہے، البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی کچھ نشانیاں بتا دیتا ہوں جو اس سے پہلے رونما ہوں گی؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ضرور بتائیے، فرمایا: جب تم دیکھو کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنم دے رہی ہے، اور بکریاں چرانے والے بڑی بڑی عمارتوں پر ایک دوسرے سے فخر کرنے لگے ہیں، ننگے بھوکے اور محتاج لوگ سردار بن چکے ہیں تو یہ قیامت کی علامات اور نشانیوں میں سے ہے۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ بکریاں چرانے والے، ننگے، بھوکے اور محتاج لوگ کون ہیں؟ فرمایا: اہل عرب۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2924]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وإسناده كسابقه
الحكم: حديث حسن، وإسناده كسابقه
حدیث نمبر: 2925 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، لَيْثٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ، وَيُعْجِبُهُ كُلُّ اسْمٍ حَسَنٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اچھا نام پسند آتا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2925]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 2926 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110 قَالَ:" الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ « ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ . . . . .﴾ [آل عمران: 110] » والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2926]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2927 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ أَوْ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَقَالَ:" أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلًا؟" قَالَ: قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعَنَانِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ" ثُمَّ، قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ؟" قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ". ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلًا؟"، قَالَ: قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ، وَلَا يُعْطِي بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! فرمایا: وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو اور اللہ کے راستہ میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہو جائے، یا شہید ہوجائے۔ پھر فرمایا: اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! فرمایا: وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو۔ کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے بد ترین مقام کا حامل ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! فرمایا: وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2928 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَقَالَ:" أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً..." فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2928]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2929 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمَرْأَةَ وَالْمَمْلُوكَ مِنَ الْغَنَائِمِ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2929]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، القاسم بن عباس لم يدرك ابن عباس وهو يروي عن أصحابه
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، القاسم بن عباس لم يدرك ابن عباس وهو يروي عن أصحابه
حدیث نمبر: 2930 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، رَجُلٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِي الْعَبْدَ وَالْمَرْأَةَ مِنَ الْغَنَائِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2930]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن ابن عباس
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2931 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَمَّنْ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَاه يَزِيدُ ، قَالَ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَقَالَ: دُونَ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اس روایت کے مطابق مال غنیمت کے علاوہ دوسرے مال سے انہیں حصہ دیتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2931]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسايقه
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسايقه
حدیث نمبر: 2932 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ دَخَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ مِنْ وَجَعٍ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ إِسْتَبْرَقٌ، فقال: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، مَا هَذَا الثَّوْبُ؟ قَالَ:" وَمَا هُوَ؟" قَالَ: هَذَا الْإِسْتَبْرَقُ! قَالَ:" وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ، وَمَا أَظُنُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنه هَذَا، حِينَ نَهَى عَنْهُ، إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّكَبُّرِ، وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ". قَالَ: فَمَا هَذِهِ التَّصَاوِيرُ فِي الْكَانُونِ؟ قَالَ: أَلَا تَرَى قَدْ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ؟ فَلَمَّا خَرَجَ الْمِسْوَرُ، قَالَ: انْزَعُوا هَذَا الثَّوْبَ عَنِّي، وَاقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّمَاثِيلِ. قَالُوا: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، لَوْ ذَهَبْتَ بِهَا إِلَى السُّوقِ، كَانَ أَنْفَقَ لَهَا مَعَ الرَّأْسِ؟ قَالَ: لَا. فَأَمَرَ بِقَطْعِ رُءُوسِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عیادت کے لئے تشریف لائے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی، سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابوالعباس! یہ کیا کپڑا ہے؟ انہوں نے پوچھا: کیا مطلب؟ فرمایا: یہ تو استبرق (ریشم) ہے، انہوں نے کہا: واللہ! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پہننے سے تکبر اور ظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمدللہ! ہم ایسے نہیں ہیں۔ پھر سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے، بہرحال! سیدنا مسور رضی اللہ عنہ جب چلے گئے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس چادر کو میرے اوپر سے اتارو اور ان مورتیوں کے سر کا حصہ کاٹ دو، لوگوں نے کہا: اے ابوالعباس! اگر آپ انہیں بازار لے جائیں تو سر کے ساتھ ان کی اچھی قیمت لگ جائے گی، انہوں نے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ ان کے سر کا حصہ کاٹ دیا جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2932]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شعبة بن دينار مولى ابن عباس سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف، شعبة بن دينار مولى ابن عباس سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 2933 مسند احمد
هَاشِمٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنَّ مَوْلَاكَ إِذَا سَجَدَ، وَضَعَ جَبْهَتَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَصَدْرَهُ بِالْأَرْضِ. فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا يَحْمِلُكَ عَلَى مَا تَصْنَعُ؟ قَالَ: التَّوَاضُعُ. قَالَ: هَكَذَا رِبْضَةُ الْكَلْبِ،" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ کا آزاد کردہ غلام سجدہ کرتے ہوئے پیشانی، بازو اور سینہ زمین پر رکھ دیتا ہے، انہوں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے تواضع کو سبب بتایا، انہوں نے فرمایا: اس طرح تو کتا بیٹھتا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2933]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2934 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ
وحَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2934]
حکم دارالسلام
هو مكرر ما قبله
الحكم: هو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 2935 مسند احمد
هَاشِمٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُهُ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ، لِيَرْمُوا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو منیٰ کی طرف دس ذی الحجہ کو بھیج دیا تھا تاکہ فجر ہونے کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کر لیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2935]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف شعبة مولي ابن عباس
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف شعبة مولي ابن عباس
حدیث نمبر: 2936 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهِ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ، فَرَمَوْا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو منیٰ کی طرف دس ذی الحجہ کو بھیج دیا تھا تاکہ فجر ہونے کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کر لیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2936]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2937 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، شَرِيكٌ ، حُسَيْنٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَطِئَ أَمَتَهُ، فَوَلَدَتْ لَهُ، فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2937]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف ، شريك بن عبدالله النخعي، وحسين بن عبدالله بن عبيدالله بن عباس كلاهما ضعيفان
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف ، شريك بن عبدالله النخعي، وحسين بن عبدالله بن عبيدالله بن عباس كلاهما ضعيفان