بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 9 از 86
حدیث نمبر: 1998 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَمَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے، اور جب سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں رونق افروز ہوئے تھے، اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1999 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ الْخِنْصَرُ وَالْإِبْهَامُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انگوٹھا اور چھوٹی انگلی دونوں برابر ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1999]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6895.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6895.
حدیث نمبر: 2000 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا اقْتَبَسَ رَجُلٌ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ إِلَّا اقْتَبَسَ بِهَا شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ مَا زَادَ زَادَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص علم نجوم کو سیکھتا ہے وہ جادو کا ایک شعبہ سیکھتا ہے، جتنا وہ علم نجوم میں آگے بڑھتا جائے گا اس قدر جادو میں آگے نکلتا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2000]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2001 مسند احمد
يَحْيَى ، الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، أَبِي رَجَاءٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا، وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً، وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے، اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2001]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الحسن بن ذكوان ضعيف، لكنه توبع.
الحكم: حديث صحيح، الحسن بن ذكوان ضعيف، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 2002 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، الزُّهْرِيُّ ، عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ لَحْمًا أَوْ عَرْقًا فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف گوشت یا ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2002]
حکم دارالسلام
أسانيده صحاح، م: 354، 359.
الحكم: أسانيده صحاح، م: 354، 359.
حدیث نمبر: 2003 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ دَاجِنَةً لِمَيْمُونَةَ مَاتَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا أَلَّا دَبَغْتُمُوهُ، فَإِنَّهُ ذَكَاتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ تم نے اسے دباغت کیوں نہیں دی؟ کیونکہ دباغت سے تو کھال پاک ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1492، م: 364.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1492، م: 364.
حدیث نمبر: 2004 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الْعِيدَ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2005 مسند احمد
يَحْيَى ، الْأَعْمَشَ ، مُسْلِمٌ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَمَاتَتْ، أَفَأَصُومُهُ عَنْهَا؟ قَالَ:" لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ، أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ؟" , قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1953 - تعليقاً، م: 1148.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1953 - تعليقاً، م: 1148.
حدیث نمبر: 2006 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" الْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَالْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالَ، وَقَالَ: أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ" , قَالَ: فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا، وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں، اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا کرو، خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ایسے شخص کو نکالا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نکالا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2006]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5886.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5886.
حدیث نمبر: 2007 مسند احمد
يَحْيَى ، الْأَوْزَاعِيِّ ، الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ، وَقَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2007]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 211، م: 358 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 211، م: 358 .
حدیث نمبر: 2008 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي الْأَعْمَشَ ، يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عَبَّادٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي الْأَعْمَشَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ، وَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ، فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا، قَالَ: مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ؟ قَالَ:" يَا عَمِّ، أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي الْعَجَمُ إِلَيْهِمْ الْجِزْيَةَ"، قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، فَقَامُوا، فَقَالُوا: أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا، قَالَ: وَنَزَلَ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ سورة ص آية 1 - 5 , قَالَ عَبْدِ اللهِ: قَالَ أَبِي: وَحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وقَالَ أَبِي: قَالَ الْأَشْجَعِيُّ: يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوطالب بیمار ہوئے، قریش کے کچھ لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، ابوطالب کے سرہانے ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی، وہاں ابوجہل آ کر بیٹھ گیا، قریش کے لوگ ابوطالب سے کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں میں کیڑے نکالتا ہے، ابوطالب نے کہا کہ آپ کی قوم کے یہ لوگ آپ سے کیا شکایت کر رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چچا جان! میں ان کو ایسے کلمے پر لانا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کی اطاعت کرے گا اور سارا عجم انہیں ٹیکس ادا کرے گا، انہوں نے پوچھا: وہ کون سا کلمہ ہے؟ فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» یہ سن کر وہ لوگ یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے کہ کیا یہ سارے معبودوں کو ایک معبود بنانا چاہتا ہے؟ اس پر سورت صٓ نازل ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ « ﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ » پر پہنچے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2008]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، يحيي بن عمارة مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، يحيي بن عمارة مجهول.
حدیث نمبر: 2009 مسند احمد
يَحْيَى ، عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ، فَذَكَرَ مِنْ ضُرُوبِ الشَّرَابِ، فَقَالَ: اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ زَبِيبٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ مَا سِوَى ذَلِكَ، قَالَ: مَا تَقُولُ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرا تعلق خراسان سے ہے، ہمارا علاقہ ٹھنڈا علاقہ ہے، اور اس نے شراب کے برتنوں کا ذکر کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جو چیزیں نشہ آور ہیں مثلا کشمش یا کھجور وغیرہ، ان کی شراب سے مکمل طور پر اجتناب کرو، اس نے پوچھا کہ مٹکے کی نبیذ کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2009]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2010 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يَنْقُضُهَا حَجَرًا حَجَرًا" يَعْنِي: الْكَعْبَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: گویا وہ شخص میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں جو انتہائی کالا سیاہ اور کشادہ ٹانگوں والا ہوگا اور خانہ کعبہ کا ایک ایک پتھر اکھیڑ ڈالے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2010]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1595.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1595.
حدیث نمبر: 2011 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَارِظٌ ، أَبِي غَطَفَانَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي قَارِظٌ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ تَوَضَّأَ، قَالَ: قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَنْثِرُوا مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وضو کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دو یا تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر اسے خوب اچھی طرح صاف کیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2011]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 2012 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2012]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730.
حدیث نمبر: 2013 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمُ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2013]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900 .
حدیث نمبر: 2014 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَبَا الشَّعْثَاءِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَكَحَ وَهُوَ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2014]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410.
حدیث نمبر: 2015 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَبَا الشَّعْثَاءِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا وَوَجَدَ سَرَاوِيلَ فَلْيَلْبَسْهَا، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ وَوَجَدَ خُفَّيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا"، قُلْتُ: لَمْ يَقُلْ لِيَقْطَعْهُمَا؟ قَالَ: لَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے، اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2015]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1841، م: 1178.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1841، م: 1178.
حدیث نمبر: 2016 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَبَرَّزَ فَطَعِمَ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے اور وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2016]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 374.
الحكم: إسناده صحيح، م: 374.
حدیث نمبر: 2017 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ، فَمَكَثَ بِمَكَّةَ عَشْرًا، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا، وَقُبِضَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نزول وحی کا سلسلہ تواتر کے ساتھ 43 برس کی عمر میں شروع ہوا، دس سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور 63 برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2017]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ومتنه شاذ، والصواب: أنزل على رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم وهو ابن أربعين، فأقام بمكة ثلاث عشرة سنة، وأقام بالمدينة عشر سنين.
الحكم: إسناده ضعيف، ومتنه شاذ، والصواب: أنزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ابن أربعين، فأقام بمكة ثلاث عشرة سنة، وأقام بالمدينة عشر سنين.