بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 44 از 86
حدیث نمبر: 2698 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، أَبَاهُ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ زُهَيْرٌ: لَا شَكَّ فِيهِ، قَالَ:" إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ، وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ، وَالِاقْتِصَادَ، جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھا راستہ، نیک سیرت اور میانہ روی اجزاء نبوت میں سے پچیسواں جزء ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2698]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، قابوس لين الحديث
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، قابوس لين الحديث
حدیث نمبر: 2699 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، وجعفر يعني الأحمر ، قَابُوسَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، وجعفر يعني الأحمر , عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" السَّمْتُ الصَّالِحُ" , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2699]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، قابوس لين الحديث
الحكم: حسن لغيره، قابوس لين الحديث
حدیث نمبر: 2700 مسند احمد
أَسْوَدُ ، أَبُو كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ ، الْأَعْمَشِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى خَمْسَ صَلَوَاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منی میں پانچ نمازیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2700]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2701 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو الْمُحَيَّاةِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ ، الْأَعْمَشِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُحَيَّاةِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ بِمِنًى، وَصَلَّى الْغَدَاةَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آٹھ ذی الحجہ کو نماز ظہر اور نو ذی الحجہ کی نماز فجر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منیٰ کے میدان میں ادا فرمائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2701]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2702 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ مَا أَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوتُ، إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2702]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7053، م: 1849
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7053، م: 1849
حدیث نمبر: 2703 مسند احمد
حَسَنٌ ، يَعْقُوبُ يَعْنِي الْقُمِّيَّ ، جَعْفَرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْقُمِّيَّ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْتُ , قَالَ:" وَمَا الَّذِي أَهْلَكَكَ؟" , قَالَ: حَوَّلْتُ رَحْلِيَ الْبَارِحَةَ , قَالَ: فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ: فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى رَسُولِهِ هَذِهِ الْآيَةَ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 ," أَقْبِلْ، وَأَدْبِرْ، وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحَيْضَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں ہلاک ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ عرض کیا: آج رات میں نے سواری کا رخ موڑ دیا (بیوی کے پاس پشت کی طرف سے اگلے سوراخ میں قربت کر لی)، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، تھوڑی دیر میں اللہ نے اپنے پیغمبر پر یہ آیت وحی کر دی: « ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [البقرة: 223] » تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، اس لئے اپنی کھیتی میں جہاں سے چاہو، آسکتے ہو۔ خواہ سامنے سے یا پیچھے سے، البتہ پچھلی شرمگاہ اور حیض کی جگہ سے بچو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2703]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2704 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ بَنَاتِهِ، وَهِيَ تَجُودُ بِنَفْسِهَا، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى قُبِضَتْ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ، وَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ، الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ، تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھا کر الحمدللہ کہا اور فرمایا: مومن کے کے لئے خیر ہی ہوتی ہے اور مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2704]
حکم دارالسلام
حديث حسن، إسرائيل روي عن ابن السائب بعد اختلاطه، لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، إسرائيل روي عن ابن السائب بعد اختلاطه، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2705 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَهْطٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَقَدْ نَصَبُوا حَمَامَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ:" لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک کبوتر کو پکڑا ہوا تھا اور وہ اس پر اپنا نشانہ صحیح کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2705]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2706 مسند احمد
أَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، وَقُثَمُ أَمَامَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور قثم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے بیٹھے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2706]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف جابر الجعفي
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 2707 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، وَيُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَيُونُسُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بِالْبَيْتِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ, فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا , قُلْتُ: وَمَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا؟ قَالَ: صَدَقُوا، رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ، وَكَذَبُوا، لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَقْدَمُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، وَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا"، وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ , قُلْتُ: وَيَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّهُ طَاف بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ , فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا , فَقُلْتُ: وَمَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ فَقَالَ: صَدَقُوا، قَدْ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ، وَكَذَبُوا، لَيْسَت بِسُنَّةٍ، كَانَ النَّاسُ لَا يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يُصْرَفُونَ عَنْهُ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ، وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ , قُلْتُ: وَيَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ؟ قَالَ: صَدَقُوا، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ، عَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى فَسَابَقَهُ، فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَعَرَضَ لَهُ شَيْطَانٌ، قَالَ يُونُسُ: الشَّيْطَانُ , فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، قَالَ: قَدْ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ، قَالَ يُونُسُ: وَثَمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ، وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ، وَقَالَ: يَا أَبَتِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرُهُ، فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ، فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ، فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ: أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ , قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا سورة الصافات آية 53 - 105 , فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ، فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ , أَقْرَنَ أَعْيَنَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَبِيعُ هَذَا الضَّرْبَ مِنَ الْكِبَاشِ، قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى مِنًى، قَالَ: هَذَا مِنًى، قَالَ يُونُسُ: هَذَا مُنَاخُ النَّاسِ، ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا، فَقَالَ: هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى عَرَفَةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ؟ قُلْتُ: لَا , قَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِإِبْرَاهِيمَ عَرَفْتَ، قَالَ يُونُسُ: هَلْ عَرَفْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَتْ التَّلْبِيَةُ؟ قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَتْ؟ قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ، خَفَضَتْ لَهُ الْجِبَالُ رُءُوسَهَا، وَرُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوران طواف رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ کچھ سچ اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: سچ کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا: سچ تو یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے رمل کیا ہے لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو چھوڑ دو، تاآنکہ یہ اسی طرح مر جائیں جیسے اونٹ کی ناک میں کیڑا نکلنے سے وہ مر جاتا ہے، جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منجملہ دیگر شرائط کے اس شرط پر صلح کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ آئندہ سال مکہ مکرمہ میں آ کر تین دن ٹھہر سکتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئندہ سال تشریف لائے، مشرکین جبل قعیقعان کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، انہیں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کو تین چکروں میں رمل کا حکم دیا، یہ سنت نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ بھی خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا: یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ہٹتے نہیں تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جا سکتا تھا، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلام بھی سن لیں اور ان کے ہاتھ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک نہ پہنچیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ بھی خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور یہ سعی کرنا سنت ہے؟ فرمایا: وہ سچ کہتے ہیں، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مناسک حج کی ادائیگی کا حکم ہوا تو شیطان مسعی کے قریب ان کے سامنے آیا اور ان سے مسابقت کی، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام انہیں لے کر جمرہ عقبہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں پھر شیطان ان کے سامنے آ گیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں دے ماریں، اور وہ دور ہوگیا، جمرہ وسطی کے قریب وہ دوبارہ ظاہر ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے پھر سات کنکریاں ماریں، یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹایا تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس وقت سفید رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی، وہ کہنے لگے: اباجان! اس کے علاوہ تو میرے کوئی کپڑے نہیں ہیں جن میں آپ مجھے کفن دے سکیں، اس لئے آپ ان ہی کپڑوں کو میرے جسم پر سے اتار لیں تاکہ اس میں مجھ کو کفن دے سکیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے کپڑے اتارنے کے لئے آگے بڑھے تو ان کے پیچھے سے کسی نے آواز لگائی: اے ابراہیم! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں ایک سفید رنگ کا، سینگوں والا اور بڑی بڑی آنکھوں والا دنبہ کھڑا تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو اس ضرب کے نشانات تلاش کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام انہیں لے کر آخری جمرہ کی طرف چلے، راستے میں پھر شیطان سامنے آیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر اسے سات کنکریاں ماریں، یہاں تک کہ وہ دور ہوگیا، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام انہیں لے کر منی کے میدان میں آئے اور فرمایا کہ یہ منی ہے، پھر مزدلفہ لے کر آئے اور بتایا کہ یہ مشعر حرام ہے، پھر انہیں لے کر عرفات پہنچے۔ کیا تم جانتے ہو کہ عرفہ کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، فرمایا: یہاں پہنچ کر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا آپ پہچان گئے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہیں سے اس جگہ کا نام عرفہ پڑ گیا، پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تلبیہ کا آغاز کیسے ہوا؟ میں نے پوچھا کہ کیسے ہوا؟ فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لوگوں میں حج کی منادی کرنے کا حکم ہوا تو پہاڑوں نے ان کے سامنے اپنے سر جھکا دیئے، اور بستیاں ان کے سامنے اٹھا کر پیش کر دی گئیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2707]
حکم دارالسلام
ولمعظم هذا الحديث طرق وشواهد يتقوى بها
الحكم: ولمعظم هذا الحديث طرق وشواهد يتقوى بها
حدیث نمبر: 2708 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ ، أَبَا الطُّفَيْلِ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ، فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ" , وَقَالَ:" وَثَمَّ تَلَّ إِبْرَاهِيمُ إِسْمَاعِيلَ لِلْجَبِينِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2708]
حکم دارالسلام
هو مكرر ما قبله. مؤمل سيئ الحفظ لكنه توبع
الحكم: هو مكرر ما قبله. مؤمل سيئ الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 2709 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یوں کہا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» اے اللہ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2709]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 590
الحكم: إسناده صحيح، م: 590
حدیث نمبر: 2710 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اَللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان کو روشن کرنے والے ہیں، اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں آپ زمین و آسمان کو قائم رکھنے والے ہیں، اور تمام تعریفیں اللہ آپ کے لئے ہیں آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے رب ہیں، آپ برحق ہیں، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ! میں آپ کے تابع فرمان ہوگیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2710]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1120، م: 769
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1120، م: 769
حدیث نمبر: 2711 مسند احمد
إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى ، مَالِكٌ ، زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَسَفَتْ الشَّمْسُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، قَالَ: نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، قَالَ أبي: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ رَجَعَ، إِلَى حَدِيثِ إِسْحَاقَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ؟ فَقَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" , قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِكُفْرِهِنَّ" , قِيلَ: أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ:" يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عہد نبوت میں سورج گرہن ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طویل قیام کیا، غالبا اتناجتنی دیر میں سورہ بقرہ پڑھی جا سکے، پھر طویل رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے، لیکن یہ قیام پہلے کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع جو کہ پہلے رکوع کی نسبت کم تھا، پھر سجدے کر کے کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی طویل قیام کیا جو کہ پہلی رکعت کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع کیا لیکن وہ بھی کچھ کم تھا، رکوع سے سر اٹھا کر قیام و رکوع حسب سابق دوبارہ کیا، سجدہ کیا اور سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہو گئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جنہیں کسی کی موت سے گہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی سے، اس لئے جب تم ایسی کیفیت دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمیں ایسا محسوس ہوا تھا کہ جیسے آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کی پھر آپ پیچھے ہٹ گئے؟ فرمایا: میں نے جنت کو دیکھا تھا اور انگوروں کا ایک گچھا پکڑنے لگا تھا، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تم اسے اس وقت تک کھاتے رہتے جب تک دنیا باقی رہتی، نیز میں نے جہنم کو بھی دیکھا، میں نے اس جیسا خوفناک منظر آج سے پہلے نہیں دیکھا، اور میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریت دیکھی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ سے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ فرمایا: (یہ مراد نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ) وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں، اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر احسان کرتے رہو اور اسے تم سے ذرا سی کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ فورا کہہ دے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2711]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 29، م: 907
الحكم: إسناده صحيح، خ: 29، م: 907
حدیث نمبر: 2712 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ: اذْهَبْ يَا رَافِعُ، لِبَوَّابِهِ، إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْ: لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ، وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّباً، لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُون! فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" وَمَا لَكُمْ وَهَذِهِ؟ إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ: وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 187 , هَذِهِ الْآيَةَ، وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ: لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا سورة آل عمران آية 188 , وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَأَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ، فَخَرَجُوا قَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ، وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ، وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ كِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان سے کہا: اے رافع! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ اگر ہم میں سے ہر شخص کو - جو خود کو ملنے والی نعمتوں پر خوش ہو اور یہ چاہے کہ جو کام اس نے نہیں کیا اس پر بھی اس کی تعریف کی جائے - عذاب ہوگا تو پھر ہم سب ہی عذاب میں مبتلا ہوں گے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں فرمایا کہ تمہارا اس آیت سے کیا تعلق؟ اس آیت کا نزول تو اہل کتاب کے متعلق ہوا ہے، پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: «‏‏‏‏ ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللّٰهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ﴾ [آل عمران: 187] » اس وقت کو یاد کیجئے جب اللہ نے اہل کتاب سے یہ وعدہ لیا تھا کہ تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے ضرور بیان کرو گے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی: « ﴿لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ . . . . .﴾ [آل عمران: 188] » جو لوگ خود کو ملنے والی نعمتوں پر اتراتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے، ان پر بھی ان کی تعریف کی جائے، ان کے متعلق آپ یہ گمان نہ کریں . . . . .۔ اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان اہل کتاب سے کوئی بات پوچھی تھی لیکن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسے چھپایا اور دوسروں کو بتا دیا، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں سے نکلے تو ان کا خیال یہ تھا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سوال کا جواب دے دیا ہے اور اس پر وہ داد چاہتے تھے اور اس بات پر اترا رہے تھے کہ انہوں نے بڑی احتیاط سے اس بات کو چھپا لیا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2712]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4568، م: 2778
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4568، م: 2778
حدیث نمبر: 2713 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْد ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْد ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَهُ مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّتَهُ، فَعَرَضَهُمْ عَلَيْهِ، فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: ابْنُكَ دَاوُدُ , قَالَ: كَمْ عُمُرُهُ؟ قَالَ: سِتُّونَ , قَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْ فِي عُمُرِهِ , قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمُرِكَ , فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً مِنْ عُمُرِهِ، فَكَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ كِتَابًا، وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقْبِضَ رُوحَهُ، قَالَ: بَقِيَ مِنْ أَجَلِي أَرْبَعُونَ , فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ جَعَلْتَهُ لِابْنِكَ دَاوُدَ , قَالَ: فَجَحَدَ، قَالَ: فَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْكِتَابَ، وَأَقَامَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ، فَأَتَمَّهَا لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام مِائَةَ سَنَةٍ، وَأَتَمَّهَا لِآدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام عُمْرَهُ أَلْفَ سَنَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیامت تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا، اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: پروردگار! یہ کون ہے؟ فرمایا: یہ آپ کے بیٹے داوؤد ہیں، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار! ان کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ یہ نہیں ہو سکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں، حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داوؤد علیہ السلام کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کر دیا، اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنا لیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داوؤد کو دے چکے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کر دی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی، اس طرح حضرت داؤود علیہ السلام کی عمر پورے سو سال ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام کی عمر پورے ہزار سال ہوئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2713]
حکم دارالسلام
حسن لغيره دون قوله فأتمها لداود مئة سنة، وأتمها لآدم عمره ألف سنة وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
الحكم: حسن لغيره دون قوله فأتمها لداود مئة سنة، وأتمها لآدم عمره ألف سنة وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
حدیث نمبر: 2714 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي النَّهْشَلِيَّ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي النَّهْشَلِيَّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ، وَيُصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا كَبِرَ، صَارَ إِلَى تِسْعٍ: وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتداء نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو اٹھارہ رکعتیں پڑھتے تھے، تین رکعت وتر اور دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی تو ان کی تعداد نو، چھ اور تین تک رہ گئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2714]
حکم دارالسلام
صحيح، وقد أضطرب فيه على يحيى بن الجزار، فروي عنه عن ابن عباس، ومرة عن أم سلمة، ومرة عن عائشة
الحكم: صحيح، وقد أضطرب فيه على يحيى بن الجزار، فروي عنه عن ابن عباس، ومرة عن أم سلمة، ومرة عن عائشة
حدیث نمبر: 2715 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، ابْنُ هُبَيْرَةَ ، مَنْ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ هُبَيْرَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ" , قِيلَ: مَا الْمَلَاعِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَنْ يَقْعُدَ أَحَدُكُمْ فِي ظِلٍّ يُسْتَظَلُّ فِيهِ، أَوْ فِي طَرِيقٍ، أَوْ فِي نَقْعِ مَاءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین لعنتی کاموں سے بچو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ تین کام کون سے ہیں؟ فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کسی سایہ دار جگہ پر - جس کا سایہ لوگ حاصل کرتے ہوں - یا راستے میں، یا پانی بہنے کی جگہ پر پاخانہ (یا پیشاب) کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2715]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لابهام راويه عن ابن عباس
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لابهام راويه عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2716 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے بھی تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2716]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1835، م: 1202
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1835، م: 1202
حدیث نمبر: 2717 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى حَرْفٍ، فَرَاجَعْتُهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ، وَيَزِيدُنِي، حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے: مجھے جبرئیل علیہ السلام نے قرآن کریم ایک حرف پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2717]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح