بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2712
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2712
حدیث نمبر: 2712 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ: اذْهَبْ يَا رَافِعُ، لِبَوَّابِهِ، إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْ: لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ، وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّباً، لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُون! فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" وَمَا لَكُمْ وَهَذِهِ؟ إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ: وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 187 , هَذِهِ الْآيَةَ، وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ: لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا سورة آل عمران آية 188 , وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَأَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ، فَخَرَجُوا قَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ، وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ، وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ كِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان سے کہا: اے رافع! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ اگر ہم میں سے ہر شخص کو - جو خود کو ملنے والی نعمتوں پر خوش ہو اور یہ چاہے کہ جو کام اس نے نہیں کیا اس پر بھی اس کی تعریف کی جائے - عذاب ہوگا تو پھر ہم سب ہی عذاب میں مبتلا ہوں گے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں فرمایا کہ تمہارا اس آیت سے کیا تعلق؟ اس آیت کا نزول تو اہل کتاب کے متعلق ہوا ہے، پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: «‏‏‏‏ ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللّٰهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ﴾ [آل عمران: 187] » اس وقت کو یاد کیجئے جب اللہ نے اہل کتاب سے یہ وعدہ لیا تھا کہ تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے ضرور بیان کرو گے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی: « ﴿لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ . . . . .﴾ [آل عمران: 188] » جو لوگ خود کو ملنے والی نعمتوں پر اتراتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے، ان پر بھی ان کی تعریف کی جائے، ان کے متعلق آپ یہ گمان نہ کریں . . . . .۔ اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان اہل کتاب سے کوئی بات پوچھی تھی لیکن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسے چھپایا اور دوسروں کو بتا دیا، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں سے نکلے تو ان کا خیال یہ تھا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سوال کا جواب دے دیا ہے اور اس پر وہ داد چاہتے تھے اور اس بات پر اترا رہے تھے کہ انہوں نے بڑی احتیاط سے اس بات کو چھپا لیا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2712]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4568، م: 2778
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4568، م: 2778
← پچھلی حدیث (2711) باب پر واپس اگلی حدیث (2713) →