بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 5 از 86
حدیث نمبر: 1918 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ، أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ، قَالَ: وَأَنَا أَظُنَّ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں اور (مغرب و عشاء کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: اے ابوالشعثاء! میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز کو اس کے آخر وقت میں اور عصر کو اس کے اول وقت میں، اسی طرح مغرب کو اس کے آخر وقت میں اور عشاء کو اول وقت میں پڑھ لیا ہوگا؟ (اسی کو انہوں نے جمع بین الصلاتین سے تعبیر کر دیا)، تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا خیال بھی یہی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1918]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1147، م: 705.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1147، م: 705.
حدیث نمبر: 1919 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، أَبُو الشَّعْثَاء ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو , قَالَ أَبُو الشَّعْثَاء :" مَنْ هِي؟ قَالَ: قُلْتُ: يَقُولُونَ: مَيْمُونَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1919]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410.
حدیث نمبر: 1920 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاس
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس ," أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ یعنی عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات جلدی لے کر روانگی اختیار کی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1920]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1678، م: 1293.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1678، م: 1293.
حدیث نمبر: 1921 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " إِنَّمَا رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہوئے رمل اس لئے کیا تھا کہ مشرکین کو اپنی طاقت دکھا سکیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1921]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4257، م: 1266.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4257، م: 1266.
حدیث نمبر: 1922 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو أَوَّلًا: فَحَفِظْنَا عَنْ طَاوُسٍ ، وَقَالَ مَرَّة: أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حالت احرام میں تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1922]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1835، م: 1202 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1835، م: 1202 .
حدیث نمبر: 1923 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
قَالَ أَبِي: وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ سُفْيَانُ ، وَقَالَ عَمْرٌو : عَنْ عَطَاءٍ , وَطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حالت احرام میں تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1923]
حکم دارالسلام
إسناده كسابقه.
الحكم: إسناده كسابقه.
حدیث نمبر: 1924 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) قَالَ أَبِي , وقَالَ سُفْيَانُ : عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ، حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1924]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5456، م: 2031.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5456، م: 2031.
حدیث نمبر: 1925 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَيْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وادی محصب کچھ بھی نہیں ہے، وہ تو ایک پڑاؤ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منزل کی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1925]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1766، م: 1312.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1766، م: 1312.
حدیث نمبر: 1926 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَهَا، حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ، فَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هَذِهِ السَّاعَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ رات کا کافی حصہ اللہ کی مشیت کے مطابق بیت گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! عورتیں اور بچے تو یوں ہی سو گئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ عشاء کی نماز اسی وقت پڑھا کریں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1926]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7239، م: 642.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7239، م: 642.
حدیث نمبر: 1927 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ، وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعَرَهُ وَثِيَابَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 809، م: 490.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490.
حدیث نمبر: 1928 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، طَاوُسٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ طَاوُسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ فَالطَّعَامُ"، وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِرَأْيِهِ وَلَا أَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1928]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525.
حدیث نمبر: 1929 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيُّ ، الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: ثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ، مُقِيمًا، غَيْرَ مُسَافِرٍ سَبْعًا وَثَمَانِيًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں مقیم ہونے کی حالت میں - نہ کہ مسافر ہونے کی حالت میں - (مغرب اور عشاء کی) سات اور (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی تھیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1929]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 1174، م: 705. وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عثمان الجمحي ضعيف.
الحكم: صحيح لغيره، خ: 1174، م: 705. وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عثمان الجمحي ضعيف.
حدیث نمبر: 1930 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عَوْسَجَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَوْسَجَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ," رَجُلٌ مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَتْرُكْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ، فَأَعْطَاهُ مِيرَاثَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی فوت ہوگیا، اس کا کوئی وارث بھی نہ تھا سوائے اس غلام کے جسے اس نے آزاد کر دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی غلام کو اس کی میراث عطاء فرما دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1930]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عوسجة مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، عوسجة مجهول.
حدیث نمبر: 1931 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ"، أَوْ قَالَ" صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو پہلے ہی سے مہینہ منا لیتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تک چاند کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لو، روزہ نہ رکھو، یا یہ فرمایا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1931]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عمرو بن دينار مجهول.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عمرو بن دينار مجهول.
حدیث نمبر: 1932 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى الْغَائِطَ، ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ، وَقَالَ مَرَّةً: فَأُتِيَ بِالطَّعَامِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَوَضَّأُ؟ قَالَ:" لَمْ أُصَلِّ، فَأَتَوَضَّأَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا: کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1932]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 374 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 374 .
حدیث نمبر: 1933 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ"، قَالَ عَمْرٌو: قُلْتُ لَهُ: حَدَّثْتَنِي، قَالَ: لَا، مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا علم تکبیر کی آواز سے ہوتا تھا۔ فائدہ: اس سے مراد اختتام نماز کے بعد جب امام سر پر ہاتھ رکھ کر اللہ اکبر یا استغفر اللہ کہتا ہے، وہ تکبیر ہے، ورنہ نماز کا اختتام تکبیر پر نہیں، سلام پر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1933]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 841، م: 583.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 841، م: 583.
حدیث نمبر: 1934 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ، وَلَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ"، وَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي خَرَجَتْ إِلَى الْحَجِّ، وَإِنِّي اكْتَتَبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" انْطَلِقْ فَاحْجُجْ مَعَ امْرَأَتِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص کسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ بیٹھے، اور کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ میری بیوی حج کے لئے جا رہی ہے جبکہ میرا نام فلاں لشکر میں جہاد کے لئے لکھ لیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، جا کر اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1934]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1862، م: 1341.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1862، م: 1341.
حدیث نمبر: 1935 مسند احمد
سُفْيَانُ ، سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ خَالِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ خَالِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ , سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ، ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ، وَقَالَ مَرَّةً: دُمُوعُهُ الْحَصَى، قُلْنَا: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ، فَقَالَ:" ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا"، فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالُوا: مَا شَأْنُهُ، أَهَجَرَ؟ قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي هَذَى اسْتَفْهِمُوهُ، فَذَهَبُوا يُعِيدُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ"، وَأَمَرَ بِثَلَاثٍ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَوْصَى بِثَلَاثٍ، قَالَ:" أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ"، وَسَكَتَ سَعِيدٌ عَنِ الثَّالِثَةِ، فَلَا أَدْرِي أَسَكَتَ عَنْهَا عَمْدًا، وَقَالَ مَرَّةً أَوْ نَسِيَهَا؟ وقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ تَرَكَهَا أَوْ نَسِيَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جمعرات کا دن یاد کرتے ہوئے کہا: جمعرات کا دن کیا تھا؟ یہ کہہ کر وہ رو پڑے حتی کہ ان کے آنسوؤں سے وہاں پڑی کنکریاں تربتر ہوگئیں، ہم نے پوچھا: اے ابوالعباس! جمعرات کے دن کیا ہوا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری میں اضافہ ہوگیا تھا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکوگے، لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں یہ مناسب نہ تھا، لوگ کہنے لگے کہ کیا ہوگیا، کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی بہکی بہکی باتیں کر سکتے ہیں؟ جا کر دوبارہ پوچھ لو کہ آپ کی منشاء کیا ہے؟ چنانچہ لوگ واپس آئے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب مجھے چھوڑ دو، میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو، آنے والے مہمانوں کا اسی طرح اکرام کرو جس طرح میں کرتا تھا، اور تیسری بات پر سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سکوت اختیار کیا، مجھے نہیں معلوم کہ وہ جان بوجھ کر خاموش ہوئے تھے یا بھول گئے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1935]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3053، م: 1637.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3053، م: 1637.
حدیث نمبر: 1936 مسند احمد
سُفْيَانُ ، سُلَيْمَانَ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْفِرُ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ حج کر کے جس طرح چاہتے تھے چلے جاتے تھے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص بھی اس وقت تک واپس نہ جائے جب تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف نہ ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1936]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1755، م: 1327.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1755، م: 1327.
حدیث نمبر: 1937 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، أَبِي الْمِنْهَالِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، قَالَ: عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ، السَّنَتَيْنِ، وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ:" مَنْ سَلَّفَ فَلْيُسَلِّفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ایک سال یا دو تین سال کے لئے ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھجور میں بیع سلم کرے، اسے چاہئے کہ اس کی ناپ معین کرے اور اس کا وزن معین کرے اور اس کی مدت متعین کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1937]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2240، م: 1604.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2240، م: 1604.