بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1918
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1918
حدیث نمبر: 1918 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ، أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ، قَالَ: وَأَنَا أَظُنَّ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں اور (مغرب و عشاء کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: اے ابوالشعثاء! میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز کو اس کے آخر وقت میں اور عصر کو اس کے اول وقت میں، اسی طرح مغرب کو اس کے آخر وقت میں اور عشاء کو اول وقت میں پڑھ لیا ہوگا؟ (اسی کو انہوں نے جمع بین الصلاتین سے تعبیر کر دیا)، تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا خیال بھی یہی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1918]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1147، م: 705.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1147، م: 705.
← پچھلی حدیث (1917) باب پر واپس اگلی حدیث (1919) →