بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 23 از 86
حدیث نمبر: 2278 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ , فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ، لِتَحُجَّ رَاكِبَةً، وَلْتُهْدِ بَدَنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی، لیکن اب وہ کمزور ہو گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی اس منت سے بےنیاز ہے، اسے چاہئے کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2278]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2279 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، خَالِدٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَكَّةَ، فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ" , فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا , قَالَ:" إِلَّا الْإِذْخِرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، لہذا مجھ سے پہلے یا بعد والوں کے لئے یہاں قتال حلال نہیں ہے، میرے لئے بھی دن کی صرف چند ساعات اور گھنٹوں کے لئے اسے حلال کیا گیا تھا، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے، اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سناروں اور قبرستانوں کے لئے اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے مستثنی فرما دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2279]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1349، م: 1353
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1349، م: 1353
حدیث نمبر: 2280 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي يَحْيَى ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَّعِيَ الْبَيِّنَةَ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ، فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ قَدْ فَعَلْتَ، وَلَكِنْ غُفِرَ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ قَوْلَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنا ایک جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے یہ کام کیا ہے، لیکن تمہارے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہنے میں اخلاص کی برکت سے تمہارے گناہ معاف ہو گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2280]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهذا الحديث من مناكير عطاء بن السائب
الحكم: إسناده ضعيف، وهذا الحديث من مناكير عطاء بن السائب
حدیث نمبر: 2281 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ شَيْخٌ مِنَ النَّخَعِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ، حُفَاةً، عُرَاةً، غُرْلًا: كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104 , أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلْقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ، وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِأُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَلَأَقُولَنّ: أَصْحَابِي، فَلَيُقَالَنَّ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ , فَلَأَقُولَنَّ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ إِلَى فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 117 - 118 , فَيُقَالُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ" , قَالَ شُعْبَةُ: أَمَلَّهُ عَلَى سُفْيَانَ، فَأَمَلَّهُ عَلَيَّ سُفْيَانُ مَكَانَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان وعظ و نصیحت کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ قیامت کے دن تم سب اللہ کی بارگاہ میں ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون ہونے کی حالت میں پیش کئے جاؤ گے، ارشاد ربانی ہے: « ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ [الأنبياء: 104] » ہم نے تمہیں جس طرح پہلے پیدا کیا تھا، دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ اور ہم یہ کر کے رہیں گے۔ پھر مخلوق میں سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا جو کہ اللہ کے خلیل ہیں۔ پھر تم میں سے ایک قوم کو بائیں جانب سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا کہ پروردگار! یہ میرے ساتھی ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات ایجاد کر لی تھیں، یہ آپ کے وصال اور ان سے آپ کی جدائیگی کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور اسی پر مستقل طور پر قائم رہے، یہ سن کر میں وہی کہوں گا جو عبد صالح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: « ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ . . . . . فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدة: 117-118] » میں جب تک ان کے درمیان رہا، اس وقت تک ان کے احوال کی نگہبانی کرتا رہا . . . . . بیشک آپ بڑے غالب حکمت والے ہیں۔ تو کہا جائے گا کہ آپ کی ان سے جدائی کے بعد یہ لوگ ہمیشہ کے لئے اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ گئے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2281]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3349، م: 2860
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3349، م: 2860
حدیث نمبر: 2282 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2282]
حکم دارالسلام
راجع ما قبله
الحكم: راجع ما قبله
حدیث نمبر: 2283 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَال:" إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُفَصَّلَ هُوَ الْمُحْكَمُ، تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ، وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، درحقیقت وہ محکمات ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2283]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5035
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5035
حدیث نمبر: 2284 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، الْحَكَمُ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: يَعْنِي حَجَّاجًا وَحَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كُفِّنَ فِي ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ، وَفِي بُرْدٍ أَحْمَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دو سفید کپڑوں اور ایک سرخ چادر میں کفنایا گیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2284]
حکم دارالسلام
حسن، وقد جاء مايعارضه وهو أصح منه ، ففي حديث عائشة أن النبى و قد كفن فى ثلاثة أثواب يمانية سحولية
الحكم: حسن، وقد جاء مايعارضه وهو أصح منه ، ففي حديث عائشة أن النبى و قد كفن فى ثلاثة أثواب يمانية سحولية
حدیث نمبر: 2285 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ جَاءَ بِإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام وَهَاجَرَ، فَوَضَعَهُمَا بِمَكَّةَ فِي مَوْضِعِ زَمْزَمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، ثُمَّ جَاءَتْ مِنَ الْمَرْوَةِ إِلَى إِسْمَاعِيلَ، وَقَدْ نَبَعَتْ الْعَيْنُ، فَجَعَلَتْ تَفْحَصُ الْعَيْنَ بِيَدِهَا هَكَذَا، حَتَّى اجْتَمَعَ الْمَاءُ مِنْ شَقِّهِ، ثُمَّ تَأْخُذُهُ بِقَدَحِهَا، فَتَجْعَلُهُ فِي سِقَائِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُهَا اللَّهُ، لَوْ تَرَكَتْهَا لَكَانَتْ عَيْنًا سَائِحَةً تَجْرِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے ساتھ حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ علیہما السلام کو لے کر آئے اور ان دونوں کو مکہ مکرمہ میں اس جگہ چھوڑ دیا جہاں آج کل چاہ زمزم موجود ہے، اس کے بعد راوی نے ساری حدیث ذکر کی اور کہا کہ پھر حضرت ہاجرہ علیہا السلام مروہ سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف آئیں تو ایک چشمہ ابلتا ہوا دکھائی دیا، وہ چشمہ کے گرد اپنے ہاتھ سے چار دیواری کرنے لگیں، یہاں تک کہ پانی ایک کونے میں جمع ہو گیا، پھر انہوں نے پیالے سے لے کر اپنے مشکیزے میں پانی بھرا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، اگر وہ اس چشمے کو یوں چھوڑ دیتیں تو وہ چشمہ قیامت تک بہتا ہی رہتا (دور دور تک پھیل جاتا)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2285]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2286 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ إِمَّا ذِرَاعًا مَشْوِيًّا , وَإِمَّا كَتِفًا , ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ , وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھنی ہوئی دستی کا گوشت یا شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2286]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 354-359
الحكم: إسناده صحيح، م: 354-359
حدیث نمبر: 2287 مسند احمد
عَفَّانُ ، خَالِدٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا، فَأَمَرَهُمْ فَجَعَلُوهَا عُمْرَةً، ثُمَّ قَالَ:" لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلُوا، وَلَكِنْ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" , ثُمَّ أَنْشَبَ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ، فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ أَهْلَلْتَ؟" , قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ بِهِ , قَالَ:" فَهَلْ مَعَكَ هَدْيٌ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ:" فَأَقِمْ كَمَا أَنْتَ، وَلَكَ ثُلُثُ هَدْيِي" , قَالَ: فكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةُ بَدَنَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے عمرہ کا احرام بنا لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ بعد میں جو بات میرے سامنے آئی، اگر پہلے آجاتی تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے لوگوں نے کیا ہے، لیکن قیامت تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا۔ الغرض تمام لوگوں نے احرام کھول لیا، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی کا جانور تھا، ادھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ کے احرام کی نیت سے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس ہدی کا جانور ہے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں، فرمایا: جس حالت پر ہو، اسی پر ٹھہرے رہو، میں اپنی ہدی کے ایک ثلث جانور تمہیں دیتا ہوں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ہدی کے سو اونٹ تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2287]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 2288 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِابْنٍ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ ابْنِي هَذَا بِهِ جُنُونٌ، وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا، فَيُفْسِدُ عَلَيْنَا ," فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ، وَدَعَا , فَثَعَّ ثَعَّةً , قَالَ عَفَّانُ: فَسَأَلْتُ أَعْرَابِيًّا , فَقَالَ: بَعْضُهُ عَلَى أَثَرِ بَعْضٍ وَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ وَشُفِيَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اسے کوئی تکلیف ہے، کھانے کے دوران جب اسے وہ تکلیف ہوتی ہے تو یہ ہمارا سارا کھانا خراب کر دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا فرمائی، اچانک اس بچے کو قئی ہوئی اور اس کے منہ سے ایک کالے بلے جیسی کوئی چیز نکلی اور بھاگ گئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2288]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فرقد السبخي ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، فرقد السبخي ضعيف
حدیث نمبر: 2289 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" انْتَشَلَ مِنْ قِدْرٍ عَظْمًا فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ہنڈیا سے نکال کر ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2289]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 207
الحكم: إسناده صحيح، خ: 207
حدیث نمبر: 2290 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، زَيْدٍ ، أَبِي سَلَّام ، الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي سَلَّام ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِم، ْثُمَّ لَيُكْتَبُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے: لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2290]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2291 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ" , قَالَ: فَقُلْتُ: مَا الْمُتَرَجِّلَاتُ مِنَ النِّسَاءِ؟ قَالَ: الْمُتَشَبِّهَاتُ مِنَ النِّسَاء بِالرِّجَالِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں، میں نے اس کا مطلب پوچھا تو فرمایا: وہ عورتیں جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2291]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 5886، وهذا سند ضعيف، لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: صحيح لغيره، خ: 5886، وهذا سند ضعيف، لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 2292 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، رَجُلٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2292]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد ولجهالة الراوي عن ابن عباس
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد ولجهالة الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2293 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ: فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں، اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2293]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 687
الحكم: إسناده صحيح، م: 687
حدیث نمبر: 2294 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ، أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ، لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا، وَمَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَام".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت یحییٰ علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا اردہ نہ کیا ہو، اور کسی شخص کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2294]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، على بن زيد، ضعيف ويوسف بن مهران، لين
الحكم: إسناده ضعيف، على بن زيد، ضعيف ويوسف بن مهران، لين
حدیث نمبر: 2295 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَرْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حِمَارٍ، وَتَرَكْنَاهُ يَأْكُلُ مِنْ بَقْلٍ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ تَشْتَدَّانِ، حَتَّى أَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ میں اور بنو ہاشم کا ایک لڑ کا اپنے گدھے پر سوار نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے گزرے، ہم نے اسے چھوڑ دیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے سے گھاس وغیرہ کھانے لگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز ختم نہیں کی، اسی طرح بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم برابر نماز پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2295]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2296 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَبَا حَسَّانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِهِ، أَوْ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ، فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ، ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا، وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ، ثُمَّ أَتَى برَاحِلَتَهُ، فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا، وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر سوار ہوگئے اور بیداء مقام پر پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2296]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1243
الحكم: إسناده صحيح، م: 1243
حدیث نمبر: 2297 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ عِنْدَ الْكَرْبِ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور علیم ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو ساتوں آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2297]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6345، م : 2730
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6345، م : 2730