عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَرْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حِمَارٍ، وَتَرَكْنَاهُ يَأْكُلُ مِنْ بَقْلٍ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ تَشْتَدَّانِ، حَتَّى أَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ میں اور بنو ہاشم کا ایک لڑ کا اپنے گدھے پر سوار نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے گزرے، ہم نے اسے چھوڑ دیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے سے گھاس وغیرہ کھانے لگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز ختم نہیں کی، اسی طرح بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم برابر نماز پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2295]
الحكم: إسناده صحيح