بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 31 از 86
حدیث نمبر: 2438 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ" , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبضے سے قبل غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2438]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525
حدیث نمبر: 2439 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" كُلُوا فِي الْقَصْعَةِ مِنْ جَوَانِبِهَا، وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے (اور سب طرف پھیلتی ہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2439]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2440 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَحْسِبُهُ رَفَعَهُ، قَالَ: كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2440]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2441 مسند احمد
سُرَيجٌ ، عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، الْحَجَّاجِ ، الْحَكَمِ ، أبي مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ أبي مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَطَبَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ , فَجَعَلَتْ أَمْرَهَا إِلَى الْعَبَّاسِ , فَزَوَّجَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے اپنے معاملے کا اختیار سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور انہوں نے ان کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2441]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف، لتدليس الحجاج
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف، لتدليس الحجاج
حدیث نمبر: 2442 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبَّادٌ ، الْحَجَّاجِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ , عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَأَرْسَلُوا رَسُولًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْرَمُونَ الدِّيَةَ بِجِيفَتِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَخَبِيثٌ، خَبِيثُ الدِّيَةِ، خَبِيثُ الْجِيفَةِ" , فَخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کر دو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اس کے عوض کچھ بھی نہیں لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2442]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعنه
الحكم: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعنه
حدیث نمبر: 2443 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبَّادٌ ، حَجَّاجٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارِ:" أَنْ يَعْقِلُوا مَعَاقِلَهُمْ، وَأَنْ يَفْدُوا عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ، وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان یہ تحریر لکھ دی کہ اپنی دیت ادا کیا کریں، اپنے قیدیوں کا بھلے طریقے سے فدیہ ادا کریں اور مسلمانوں میں اصلاح کی کوشش کیا کریں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2443]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتدليس الحجاج، وهذا الحديث من مسند عبدالله بن عمرو بن العاص
الحكم: إسناده ضعيف لتدليس الحجاج، وهذا الحديث من مسند عبدالله بن عمرو بن العاص
حدیث نمبر: 2444 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبَّادٌ ، حَجَّاجٍ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنِي سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2444]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لتدليس الحجاج
الحكم: إسناده ضعيف، لتدليس الحجاج
حدیث نمبر: 2445 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، الْأَعْمَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْمَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ:" رَأَيْتُ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا، فَأَوَّلْتُهُ، فَلًّا يَكُونُ فِيكُمْ، وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُهُ، كَبْشَ الْكَتِيبَةِ، وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، فَأَوَّلْتُهَا: الْمَدِينَةَ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ" , فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی تلوار - جس کا نام ذوالفقار تھا - غزوہ بدر کے دن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو) بطور انعام کے عطا فرمائی تھی، یہ وہی تلوار تھی جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر خواب دیکھا تھا اور فرمایا تھا کہ میں نے اپنی تلوار ذوالفقار میں کچھ شکستگی کے آثار دیکھے، جس کی تعبیر میں نے یہ لی کہ تمہارے اندر شکستگی کے آثار ہوں گے، نیز میں نے دیکھا کہ میں اپنے پیچھے ایک مینڈھے کو سوار کئے ہوئے ہوں، میں نے اس کی تعبیر لشکر کے مینڈھے سے کی ہے، پھر میں نے اپنے آپ کو ایک مضبوط قلعے میں دیکھا جس کی تاویل میں نے مدینہ منورہ سے کی، نیز میں نے ایک گائے کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھا، واللہ! گائے خیر ہے، واللہ! گائے خیر ہے۔ چنانچہ ایساہی ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خواب میں دیکھا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2445]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2446 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَدْرَ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ، وَهُوَ فِي الْبَيْتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو اپنے گھر میں صرف اتنی آواز سے تلاوت فرماتے تھے کہ حجرہ میں اگر کوئی موجود ہو تو وہ سن لے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2446]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2447 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، هُشَيْمٌ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ، فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ، فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا، أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنی سنائی بات دیکھی ہوئی بات کی طرح نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ ان کی قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تو انہوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، لیکن جب انہوں نے اپنی قوم کو اپنی آنکھوں سے اس طرح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو انہوں نے تورات کی تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2447]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، دلس فيه هشيم
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، دلس فيه هشيم
حدیث نمبر: 2448 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، هُشَيْمٌ ، حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الشَّعْبِيُّ ، بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ؟ قُلْتُ: أَنَا، ثُمَّ قُلْتُ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ وَلَكِنِّي لُدِغْتُ , قَالَ: وَكَيْفَ فَعَلْتَ؟ قُلْتُ: اسْتَرْقَيْتُ , قَالَ: وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قُلْتُ: حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَقَالَ فَقَالَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ : قَدْ أَحْسَنَ مَنْ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّهْطَ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلَ والرجلين، وَالنَّبِيَّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقُلْتُ: هَذِهِ أُمَّتِي، فَقِيلَ: هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ، وَلَكِنْ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، ثُمَّ قِيلَ لي: انْظُرْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ: هَذِهِ أُمَّتُكَ، وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا، يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ" , ثُمَّ نَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ، فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ، فَقَالُوا: مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَعَلَّهُمْ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَعَلَّهُمْ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ، وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا قَطُّ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ؟" , فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ، فَقَالَ:" هُمْ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ" , فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ، فَقَالَ: أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" أَنْتَ مِنْهُمْ" , ثُمَّ قَامَ الْآخَرُ، فَقَالَ: أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حصین بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے فرمایا: تم میں سے کسی نے رات کو ستارہ ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا ہے، میں اس وقت نماز میں نہیں تھا، البتہ مجھے ایک بچونے ڈس لیا تھا، انہوں نے پوچھا: پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے اسے جھاڑ لیا، انہوں نے پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے عرض کیا: اس حدیث کی وجہ سے جو ہمیں امام شعبی رحمہ اللہ نے سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نظر بد یا ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کی جھاڑ پھونک صحیح نہیں ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہنے لگے کہ جو شخص اپنی سنی ہوئی روایات کو اپنا منتہی بنا لے، یہ سب سے اچھی بات ہے، پھر فرمایا کہ ہم سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ مجھ پر مختلف امتیں پیش کی گئیں، میں نے کسی نبی کے ساتھ پورا گروہ دیکھا، کسی نبی کے ساتھ ایک دو آدمیوں کو دیکھا اور کسی نبی کے ساتھ ایک آدمی بھی نہ دیکھا، اچانک میرے سامنے ایک بہت بڑا جم غفیر پیش کیا گیا، میں سمجھا کہ یہ میری امت ہے لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، البتہ آپ افق کی طرف دیکھئے، وہاں ایک بڑی جمعیت نظر آئی، پھر مجھے دوسری طرف دیکھنے کا حکم دیا گیا، وہاں بھی ایک بہت بڑا جم غفیر دکھائی دیا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھے اور اپنے گھر میں داخل ہو گئے اور لوگ یہ بحث کرنے لگے کہ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہونے والے یہ لوگ کون ہوں گے؟ بعض کہنے لگے کہ ہو سکتا ہے، یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ ہوں، بعض نے کہا کہ شاید اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے ہوں اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کبھی شرک نہ کیا ہو، اسی طرح کچھ اور آراء بھی لوگوں نے دیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے تو فرمایا کہ تم لوگ کس بحث میں پڑے ہوئے ہو؟ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی بحث کے بارے بتایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بد شگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! تم ان میں شامل ہو، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں شامل ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2448]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6541، م : 220
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6541، م : 220
حدیث نمبر: 2449 مسند احمد
شُجَاعٌ ، هُشَيْمٌ
حَدَّثَنَا عبد الله , حدثنا شُجَاعٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھری مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2449]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6541، م: 220
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6541، م: 220
حدیث نمبر: 2450 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ، غَيْرَ رَمَضَانَ، وَإِنْ كَانَ لَيَصُومُ إِذَا صَامَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ، وَإِنْ كَانَ لَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: وَاللَّهِ لَا يَصُومُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے، البتہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2450]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1971، م: 1157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1971، م: 1157
حدیث نمبر: 2451 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَطَعَ الْأَوْدِيَةَ وَجَاءَ بِهَدْيٍ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنْ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ، وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَبْلَ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ، فَأَمَّا أَنْتُمْ يَا أَهْلَ مَكَّةَ، فَأَخِّرُوا طَوَافَكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو وادیوں کو طے کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہدی کا جانور بھی لے کر آئے تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وقوف عرفہ سے پہلے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کئے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا، لیکن اے اہل مکہ! تم اپنے طواف کو اس وقت تک مؤخر کر دیا کرو جب تم واپس لوٹ کر آؤ۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2451]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف عبدالله بن مؤمل
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف عبدالله بن مؤمل
حدیث نمبر: 2452 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصْحَابُنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہو گیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے پیتے تھے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ [المائدة: 93] » ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھا لیا (یا پی لیا)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2452]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2453 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ، لَقِيَ اللَّهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مستقل شراب نوشی کرنے والا جب مرے گا تو اللہ سے اس کی ملاقات اس شخص کی طرح ہوگی جو بتوں کا پجاری تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2453]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لجهالة الواسطة بين محمد بن المنكدر و بين ابن عباس
الحكم: إسناده ضعيف، لجهالة الواسطة بين محمد بن المنكدر و بين ابن عباس
حدیث نمبر: 2454 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانُ ، عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ يُمْنَ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گھوڑوں کی برکت اس نسل میں ہے جو سرخ اور زرد رنگ کے ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2454]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2455 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ يَعْنِي: عَرَفَةَ , فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا، فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا، قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ سورة الأعراف آية 172 - 173".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں موجود تمام اولاد سے میدان عرفات میں عہد لیا تھا، چنانچہ اللہ نے ان کی صلب سے ان کی ساری اولاد نکالی جو اس نے پیدا کرنا تھی اور اسے ان کے سامنے چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی شکل میں پھیلا دیا، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے کلام کیا اور فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، (ارشاد ہوا) ہم نے تمہاری گواہی اس لئے لے لی تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم تو اس سے بےخبر تھے، یا تم یہ کہنے لگو کہ ہم سے پہلے ہمارے آبا و اجداد نے بھی شرک کیا تھا، ہم ان کے بعد ان ہی کی اولاد تھے، تو کیا آپ ہمیں باطل پر رہنے والوں کے عمل کی پاداش میں ہلاک کر دیں گے؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2455]
حکم دارالسلام
مرفوعه ضعيف، وأكثر الرواة رووه موقوفا على ابن عباس
الحكم: مرفوعه ضعيف، وأكثر الرواة رووه موقوفا على ابن عباس
حدیث نمبر: 2456 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: الم تَنْزِيلُ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2456]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، وأبو الأحوص رواه مرسلا
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، وأبو الأحوص رواه مرسلا
حدیث نمبر: 2457 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2457]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع