سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، هُشَيْمٌ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ، فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ، فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا، أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سنی سنائی بات دیکھی ہوئی بات کی طرح نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ ان کی قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تو انہوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، لیکن جب انہوں نے اپنی قوم کو اپنی آنکھوں سے اس طرح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو انہوں نے تورات کی تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2447]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، دلس فيه هشيم
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، دلس فيه هشيم