بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 65 از 86
حدیث نمبر: 3118 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ". قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ: أُرَهُ يَعْنِي الْيَهُودَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3118]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، دون قوله : والسرج وهذا إسناد ضعيف، أبو صالح باذام ضعيف عند الجمهور
الحكم: حسن لغيره، دون قوله : والسرج وهذا إسناد ضعيف، أبو صالح باذام ضعيف عند الجمهور
حدیث نمبر: 3119 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ :" كَيْفَ أُصَلِّي إِذَا كُنْتُ بِمَكَّةَ، إِذَا لَمْ أُصَلِّ مَعَ الْإِمَامِ؟ فَقَالَ: رَكْعَتَيْنِ، سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ جب میں مکہ مکرمہ میں ہوں اور امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکوں تو کتنی رکعتیں پڑھوں؟ انہوں نے فرمایا: دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3119]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 688
الحكم: إسناده صحيح، م: 688
حدیث نمبر: 3120 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَجْنَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ، فَاغْتَسَلَتْ مَيْمُونَةُ فِي جَفْنَةٍ، وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ اغْتَسَلْتُ مِنْهُ. فَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَيْسَتْ عَلَيْهِ جَنَابَةٌ" أَوْ قَالَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يَنْجُسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا پر غسل واجب تھا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک ٹب کے پانی سے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا چاہا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس سے تو میں نے غسل کیا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3120]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، واضطراب سماك فى عكرمة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، واضطراب سماك فى عكرمة
حدیث نمبر: 3121 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، الْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أُرَاهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". فَقَالَ: عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَنِ الْمُتْعَةِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا يَقُولُ عُرَيَّةُ؟ قَالَ: يَقُولُ: نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَنِ الْمُتْعَةِ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُرَاهُمْ سَيَهْلِكُونَ! أَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ: نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج تمتع کیا ہے، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہنے لگے کہ حضرات شیخین تو اس سے منع کرتے رہے ہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: عروہ کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ کہہ رہے ہیں: حضرات شیخین نے تو اس سے منع فرمایا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لگتا ہے کہ یہ لوگ ہلاک ہو کر رہیں گے، میں کہہ رہا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے منع کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3121]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 3122 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاق ، التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَنْزِلُ بِهِ عَلَيَّ قُرْآنٌ، أَوْ وَحْيٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے (اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3122]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول، وشريك بن عبدالله سيئ الحفظ، ولكنه توبع
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول، وشريك بن عبدالله سيئ الحفظ، ولكنه توبع
حدیث نمبر: 3123 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَمَضْمَضَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3123]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 211، م: 385
الحكم: إسناده صحيح، خ: 211، م: 385
حدیث نمبر: 3124 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: نَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59 فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيِّ،" إِذْ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّرِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ [النساء: 59] » اے اہل ایمان! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولی الامر کی۔ سیدنا عبداللہ بن حذافہ قیس بن عدی سہمی رضی اللہ عنہ کے بارے نازل ہوا ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک سرئیے میں روانہ فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3124]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4584، م : 1834
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4584، م : 1834
حدیث نمبر: 3125 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ جَمَعْتُ الْمُحْكَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" وَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ حِجَجٍ". قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: وَمَا الْمُحْكَمُ؟ قَالَ: الْمُفَصَّلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، در حقیقت وہ محکمات ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3125]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5036
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5036
حدیث نمبر: 3126 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ ، ابْنِ سِيرِينَ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: قَامَ، وَقَعَدَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیٹھے رہے، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو گئے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے رہنے لگے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3126]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فإن محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس ولا من الحسن بن علي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فإن محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس ولا من الحسن بن علي
حدیث نمبر: 3127 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَأْذَنُ لِأَهْلِ بَدْرٍ، وَيَأْذَنُ لِي مَعَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَأْذَنُ لِهَذَا الْفَتَى مَعَنَا، وَمِنْ أَبْنَائِنَا مَنْ هُوَ مِثْلُهُ؟! فَقَالَ: عُمَرُ إِنَّهُ ممَنْ قَدْ عَلِمْتُمْ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ، وَأَذِنَ لِي مَعَهُمْ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ هَذِهِ السُّورَةِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَقَالُوا:" أَمَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فُتِحَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ وَيَتُوبَ إِلَيْهِ". فَقَالَ لِي: مَا تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَيْسَتْ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُ أَخْبَرَ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بِحُضُورِ أَجَلِهِ، فَقَالَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 فَتْحُ مَكَّةَ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا سورة النصر آية 2 فَذَلِكَ عَلَامَةُ مَوْتِكَ، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا سورة النصر آية 3 فَقَالَ: لَهُمْ كَيْفَ تَلُومُونِي عَلَى مَا تَرَوْنَ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب اہل بدر کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتے تو ان کی موجودگی میں مجھے بھی شریک ہونے کی اجازت دے دیتے، بعض اصحاب بدر کہنے لگے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس نوجوان کو تو ہمارے ساتھ شریک ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں جبکہ اس جیسے تو ہمارے بیٹے بھی ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا: یہ سمجھدار ہے۔ ایک دن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اصحاب بدر کو اپنے پاس آنے کی اجازت دی اور مجھے بھی ان کے ساتھ اجازت مرحمت فرمائی، اور ان سے سورہ نصر کے متعلق دریافت کیا، وہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ جب انہیں فتح یابی ہو تو وہ استغفار اور توبہ کریں، پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اے ابن عباس! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے رائے یہ نہیں ہے، دراصل اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی موت کا وقت قریب آ جانے کی خبر دی ہے اور فرمایا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مدد آجائے اور مکہ مکرمہ فتح ہو جائے، اور آپ لوگوں کو دین الٰہی میں فوج در فوج شامل ہوتے ہوئے دیکھ لیں تو یہ آپ کے وصال کی علامت ہے، اس لئے آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کیجئے اور اس سے استغفار کیجئے، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب تم نے دیکھ لیا، پھر تم مجھے کس طرح ملامت کر سکتے ہو؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3127]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4294
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4294
حدیث نمبر: 3128 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلَمْ يُقَصِّرْ، وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ، وَأَنْ يَسْعَى، وَأَنْ يُقَصِّرَ أَوْ يَحْلِقَ، ثُمَّ يَحِلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج کی نیت سے احرام باندھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، لیکن ہدی کی وجہ سے بال کٹوا کر حلال نہیں ہوئے، اور ہدی اپنے ساتھ نہ لانے والوں کو حکم دیا کہ وہ طواف اور سعی کر کے قصر یا حلق کرنے کے بعد حلال ہو جائیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3128]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1239، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد
الحكم: حديث صحيح، م: 1239، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد
حدیث نمبر: 3129 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، رَجُلٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ؟ قَالَ:" الْحُلْوُ الْبَارِدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا مشروب سب سے عمدہ ہے؟ فرمایا: جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3129]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن عباس
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن عباس
حدیث نمبر: 3130 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي جَمْرَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3130]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1138، م: 764
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1138، م: 764
حدیث نمبر: 3131 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي جَمْرَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ خَلْفَ بَابٍ، فَدَعَانِي، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، ثُمَّ بَعَثَنِي إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گزر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، میں نے واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتادیا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3131]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 2604
الحكم: إسناده حسن، م: 2604
حدیث نمبر: 3132 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قَالَ: بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَهْدَى الصَّعْبُ، وَقَالَ: ابْنُ جَعْفَرٍ ابْنُ جَثَّامَةَ" إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَّةَ حِمَارٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ". قَالَ بَهْزٌ: عَجُزَ حِمَارٍ، أَوْ قَالَ: رِجْلَ حِمَارٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3132]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:1194
الحكم: إسناده صحيح، م:1194
حدیث نمبر: 3133 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا فِتْيَةٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، لَهُمْ كُلُّ خَاطِئَةٍ، قَالَ: فَغَضِبَ، وَقَالَ: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟، قَالَ: فَتَفَرَّقُوا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُمَثِّلُ بِالْحَيَوَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں میرا سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کے ساتھ گزر ہوا، دیکھا کہ کچھ نوجوانوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا ہے اور اس پر اپنا نشانہ درست کر رہے ہیں، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غصے میں آ گئے اور فرمانے لگے: یہ کون کر رہا ہے؟ اسی وقت سارے نوجوان دائیں بائیں ہو گئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو جانور کا مثلہ کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3133]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3134 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ ، الشَّعْبِيَّ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ:" أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ، فَأَمَّهُمْ، وَصَفُّوا خَلْفَهُ". فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو، مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک الگ تھلگ قبر پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ گزرنے والے صحابی رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ بڑھائی اور لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صف بستہ کھڑے ہو گئے۔ میں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے اس صحابی کا نام پوچھا تو انہوں نے بتایا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3134]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 857، م:954
الحكم: إسناده صحيح، خ: 857، م:954
حدیث نمبر: 3135 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، طَاوُسٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ، خَيْرٌ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ پیش کر دینا زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3135]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
حدیث نمبر: 3136 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ الْحَجَرِ، وَعِنْدَهُ مِحْجَنٌ يَضْرِبُ بِهِ الْحَجَرَ، وَيُقَبِّلُهُ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، لَوْ أَنَّ قَطْرَةً قُطِرَتْ مِنَ الزَّقُّومِ فِي الْأَرْضِ، لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعِيشَتَهُمْ، فَكَيْفَ بِمَنْ هُوَ طَعَامُهُ، وَلَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ؟!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حرم میں تشریف فرما تھے، ان کے پاس ایک چھڑی بھی تھی، وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے: « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 102] » اے اہل ایمان! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہو کر۔ فرمایا: اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین پر ٹپکا دیا جائے تو زمین والوں کی زندگی کو تلخ کر کے رکھ دے، اب سوچ لو کہ جس کا کھانا ہی زقوم ہو گا اس کا کیا بنے گا۔ فائدہ: زقوم جہنم کے ایک درخت کا نام ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3136]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3137 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: رَكِبَتْ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ، فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ، فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ،" فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت بحری سفر پر روانہ ہوئی، اس نے یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے خیریت سے واپس پہنچا دیا تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم واپس پہنچا دیا لیکن وہ مرتے دم تک روزے نہ رکھ سکی، اس کی بہن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ سارا واقعہ عرض کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم روزے رکھ لو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3137]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى يحيى، ثم هو موقوف
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى يحيى، ثم هو موقوف