بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 25 از 86
حدیث نمبر: 2318 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ وَطِئَ حُبْلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو کسی حاملہ عورت سے ہم بستری کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2318]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2319 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُصِيبَ يَوْمِ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِنُّوهُ، فَقَالَ:" لَا، وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ" , قَالُوا: فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلًا , قَالَ:" وَذَلِكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کر دو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2319]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى، سيء الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى، سيء الحفظ
حدیث نمبر: 2320 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَرِيكٍ ، حُسَيْنٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ، يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کپڑے میں - اسے اچھی طرح لپیٹ کر - نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2320]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك، سيء الحفظ، وحسين، ضعيف
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك، سيء الحفظ، وحسين، ضعيف
حدیث نمبر: 2321 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، دَاوُدَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ دَاوُدَ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ: أَلَمْ أَنْهَكَ , فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ: لِمَ تَنْتَهِرُنِي يَا مُحَمَّدُ؟ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرُ نَادِيًا مِنِّي , قَالَ: فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سورة العلق آية 17 , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ , لَأَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ الْعَذَابِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گزرا اور کہنے لگا: کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے جھڑک دیا، وہ کہنے لگا: محمد! تم مجھے جھڑک رہے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس پورے شہر میں مجھ سے بڑی مجلس کسی کی نہیں ہوتی؟ اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ آیت لے کر اترے: « ﴿فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ﴾ [العلق: 17] » اسے چاہئے وہ اپنی مجلس والوں کو بلا لے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو اسے عذاب کے فرشتے زبانیہ پکڑ لیتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2321]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2322 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، الْحَجَّاجِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ" يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، پھر تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ جاتے اور دوبارہ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2322]
حکم دارالسلام
حسن، عبدالرحمن المحاربي والحجاج مدلسان وقد عنعنا، إلا أنهما قد توبعا
الحكم: حسن، عبدالرحمن المحاربي والحجاج مدلسان وقد عنعنا، إلا أنهما قد توبعا
حدیث نمبر: 2323 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، قَابُوسَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الشَّيَاطِينِ" , قَالُوا: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک ہم نشین شیاطین میں سے بھی لگایا گیا ہے، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے ساتھ بھی یہ معاملہ ہے؟ فرمایا: ہاں! لیکن اللہ نے میری مدد کی ہے اور میرا شیطان میرے تابع ہوگیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2323]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، قابوس بن أبى ظبيان ضعيف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، قابوس بن أبى ظبيان ضعيف
حدیث نمبر: 2324 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، قَابُوسَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج کی عظیم سعادت عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت میں داخل ہوئے اور اس کی ایک جانب ہلکی سی آہٹ سنی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: جبرئیل! یہ کیا ہے؟ عرض کیا: یہ آپ کا مؤذن بلال ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واپسی کے بعد لوگوں سے فرمایا تھا کہ بلال کامیاب ہو گئے، میں نے ان کے لئے فلاں فلاں چیز دیکھی ہے۔ بہرحال! شب معراج نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ملاقات حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا: «مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْاُمِّيِّ»، وہ گندمی رنگ کے طویل القامت آدمی تھے جن کے بال سیدھے تھے اور کانوں تک یا اس سے اوپر تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: جبرئیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں، کچھ اور آگے چلے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوش آمدید کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: جبرئیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کچھ اور آگے چلے تو ایک بارعب اور جلیل القدر بزرگ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوش آمدید کہا اور سلام کیا جیسا کہ سب ہی نے سلام کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: جبرئیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کے والد (جد امجد) حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اسی سفر معراج میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جہنم کو بھی دیکھا، وہاں ایک گروہ نظر آیا جو مردار لاشیں کھا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) ہیں، وہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سرخ رنگت کا آدمی بھی دیکھا جس کے گھنگھریالے بال تھے، اور اگر تم اسے دیکھو تو وہ پراگندہ معلوم ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: جبرئیل یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت صالح کی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا بدنصیب ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد اقصی میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم متوجہ ہوئے تو وہاں سارے نبی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے، ایک دائیں طرف سے اور ایک بائیں طرف سے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ والا برتن لے کر دودھ پی لیا، وہ پیالہ لانے والا فرشتہ کہنے لگا کہ آپ نے فطرت سلیمہ کو اختیار کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2324]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، قابوس ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، قابوس ضعيف
حدیث نمبر: 2325 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أنا مِنْهُ، قَالَ: ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَنْ شِمَالِهِ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2325]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2326 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2326]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2327 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِير ، لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا جَرِير ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَمَنْ وَرَدَ أَفْلَحَ، وَيُؤْتَى بِأَقْوَامٍ، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، فَيُقَالُ: مَا زَالُوا بَعْدَكَ يَرْتَدُّونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر اور تم سے پہلے موجود ہوں گا، جو شخص حوض کوثر پر پہنچ جائے گا وہ کامیاب ہو جائے گا، البتہ وہاں بھی کچھ لوگ لائے جائیں گے لیکن انہیں بائیں طرف سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا: پروردگار! (یہ تو میرے امتی ہیں)، ارشاد ہوگا کہ یہ لوگ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ کر مرتد ہوگئے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2327]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3349، م: 2860 ، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
الحكم: حديث صحيح، خ: 3349، م: 2860 ، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 2328 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ، وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اچھا نام پسند آتا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2328]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف ليث بن أبى سليم
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 2329 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، لَيْثٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ الْكَبِيرَ، وَيَرْحَمْ الصَّغِيرَ، وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2329]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2330 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، لَيْثٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَمْسٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ، وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْحَيَّةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانچ چیزیں ایسی ہیں جن میں سے ہر ایک فاسق ہے اور محرم بھی انہیں قتل کر سکتا ہے، اور حرم میں بھی انہیں قتل کیا جا سکتا ہے، چوہا، بچھو، سانپ، باؤلا کتا اور کوا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2330]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2331 مسند احمد
عُثْمَانُ ، جَرِيرٌ ، حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَمْسٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ" , مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2331]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2332 مسند احمد
عُثْمَانُ ، جَرِيرٌ ، حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا وَقَدْ عَلِمْتُهُ غَيْرَ ثَلَاثٍ: لَا أَدْرِي أكَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا؟ وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ: وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا سورة مريم آية 8 أَوْ 0 عُسُيًّا 0؟" , قَالَ حُصَيْنٌ: وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: سَمِعْتُهَا كُلَّهَا أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام سنتوں کو محفوظ کر لیا ہے لیکن مجھے تین باتیں معلوم نہیں ہیں، پہلی یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے یا نہیں؟ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس لفظ کو کس طرح پڑھتے تھے: «وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْكِبَرِ عُتِيًّا» (عین کے پیش اور تاء کے ساتھ) یا «عُسُيًّا» (عین کے پیش اور سین کے ساتھ)؟ تیسری بات راوی بھول گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2332]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2333 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِير ، الْأَعْمَشِ ، جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا جَرِير ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ لَهُمْ الصَّفَا ذَهَبًا، وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنْهُمْ، فَيَزَْرعُوا، فَقِيلَ لَهُ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تَسْتَأْنِيَ بِهِمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤْتِيَهُمْ الَّذِي سَأَلُوا، فَإِنْ كَفَرُوا أُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ , قَالَ:" لَا، بَلْ أَسْتَأْنِي بِهِمْ" , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ: وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً سورة الإسراء آية 59.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے، اور دوسرے پہاڑوں کو ہٹا دے تاکہ ہم کھیتی باڑی کر سکیں، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی تم ایمان لے آؤ گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرما دی، حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ) اگر آپ چاہتے ہیں تو انتظار کر لیں، اور اگر چاہیں تو ان کے لئے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں انہیں پہلوں کی طرح ہلاک کر دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں انتظار کر لوں گا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً﴾ [الإسراء: 59] » ہمیں معجزات بھیجنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، لیکن پہلے لوگ بھی انہیں جھٹلاتے ہی رہے ہیں، چنانچہ ہم نے قوم ثمود کو راہ دکھانے کے لئے اونٹنی دی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2333]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2334 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بَرَّةَ، فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ، فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ، كَرَاهَةَ أَنْ يُقَالَ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ، قَالَ: وَخَرَجَ بَعْدَ مَا صَلَّى، فَجَاءَهَا، فَقَالَتْ: مَا زِلْتُ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَائِبَةً , قَالَ: فَقَالَ لَهَا:" لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ كَلِمَاتٍ لَوْ وُزِنَّ، لَرَجَحْنَ بِمَا قُلْتِ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ، سُبْحَانَ اللَّه رِضَاءَ نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس نام کو اچھا نہ سمجھا اور ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا، اس بات کی ناپسندیدگی کی وجہ یہ ہے کہ یوں کہا جائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم برہ کے پاس سے نکل کر آ رہے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے بعد نکلے اور سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: یا رسول اللہ! آپ کے جانے کے بعد میں مستقل یہیں پر بیٹھی رہی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چند کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر وزن کیا جائے تو تمہاری تمام تسبیحات سے ان کا وزن زیادہ نکلے، اور وہ کلمات یہ ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ سُبْحَانَ اللّٰهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ.» [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2334]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2140
الحكم: إسناده صحيح، م: 2140
حدیث نمبر: 2335 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ دُونَهُ غَيَايَةٌ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ، وَالشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ" يَعْنِي: أَنَّهُ يكون نَاقِصٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید الفطر مناؤ، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو تیس کا عدد پورا کرو، البتہ بعض اوقات مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2335]
حکم دارالسلام
صحيح، دون قوله: الشهر تسع وعشرون فصحيح لغيره، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
الحكم: صحيح، دون قوله: الشهر تسع وعشرون فصحيح لغيره، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2336 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، سُلَيْمَانُ ، الْحَكَمُ ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، مُجَاهِدًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟ فَقَالَ:" لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى" , قَالَ سُلَيْمَانُ : فَقَالَ الْحَكَمُ ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ : وَنَحْنُ جَمِيعًا جُلُوسٌ، حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَا: سَمِعْنَا مُجَاهِدًا ، يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضا کر سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے یا نہیں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کے زیادہ مستحق ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2336]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1953 - تعليقا، م: 1148
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1953 - تعليقا، م: 1148
حدیث نمبر: 2337 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وُهَيْبٌ ، ابْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ , وَاسْتَعَطَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی اور ناک میں دوا چڑھائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2337]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2278، م: 1202
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2278، م: 1202