عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، قَابُوسَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج کی عظیم سعادت عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت میں داخل ہوئے اور اس کی ایک جانب ہلکی سی آہٹ سنی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کیا ہے؟“ عرض کیا: یہ آپ کا مؤذن بلال ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واپسی کے بعد لوگوں سے فرمایا تھا کہ ”بلال کامیاب ہو گئے، میں نے ان کے لئے فلاں فلاں چیز دیکھی ہے۔“ بہرحال! شب معراج نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ملاقات حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا: «مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْاُمِّيِّ»، وہ گندمی رنگ کے طویل القامت آدمی تھے جن کے بال سیدھے تھے اور کانوں تک یا اس سے اوپر تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کون ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں، کچھ اور آگے چلے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوش آمدید کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کون ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کچھ اور آگے چلے تو ایک بارعب اور جلیل القدر بزرگ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوش آمدید کہا اور سلام کیا جیسا کہ سب ہی نے سلام کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کون ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کے والد (جد امجد) حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اسی سفر معراج میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جہنم کو بھی دیکھا، وہاں ایک گروہ نظر آیا جو مردار لاشیں کھا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) ہیں، وہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سرخ رنگت کا آدمی بھی دیکھا جس کے گھنگھریالے بال تھے، اور اگر تم اسے دیکھو تو وہ پراگندہ معلوم ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل یہ کون ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت صالح کی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا بدنصیب ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد اقصی میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم متوجہ ہوئے تو وہاں سارے نبی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے، ایک دائیں طرف سے اور ایک بائیں طرف سے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ والا برتن لے کر دودھ پی لیا، وہ پیالہ لانے والا فرشتہ کہنے لگا کہ آپ نے فطرت سلیمہ کو اختیار کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2324]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، قابوس ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، قابوس ضعيف