بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2333
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2333
حدیث نمبر: 2333 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِير ، الْأَعْمَشِ ، جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا جَرِير ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ لَهُمْ الصَّفَا ذَهَبًا، وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنْهُمْ، فَيَزَْرعُوا، فَقِيلَ لَهُ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تَسْتَأْنِيَ بِهِمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤْتِيَهُمْ الَّذِي سَأَلُوا، فَإِنْ كَفَرُوا أُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ , قَالَ:" لَا، بَلْ أَسْتَأْنِي بِهِمْ" , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ: وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً سورة الإسراء آية 59.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے، اور دوسرے پہاڑوں کو ہٹا دے تاکہ ہم کھیتی باڑی کر سکیں، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی تم ایمان لے آؤ گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرما دی، حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ) اگر آپ چاہتے ہیں تو انتظار کر لیں، اور اگر چاہیں تو ان کے لئے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں انہیں پہلوں کی طرح ہلاک کر دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں انتظار کر لوں گا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً﴾ [الإسراء: 59] » ہمیں معجزات بھیجنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، لیکن پہلے لوگ بھی انہیں جھٹلاتے ہی رہے ہیں، چنانچہ ہم نے قوم ثمود کو راہ دکھانے کے لئے اونٹنی دی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2333]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2332) باب پر واپس اگلی حدیث (2334) →