بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 82 از 86
حدیث نمبر: 3458 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، وَأَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَأَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں، اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3458]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6834
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6834
حدیث نمبر: 3459 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ مَعَهُ عَلَى يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، حَزَرْتُ قَدْرَ قِيَامِهِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ" يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے کسی حصے میں نماز کے لئے کھڑے ہو گئے، میں بائیں جانب آ کر کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیرہ رکعتیں پڑھیں جن میں سے ہر رکعت میں میرے اندازے کے مطابق سورہ مزمل کے بقدر قیام کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3459]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3460 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَصَامَ حتى بَلَغَ الكَدِيدَ، أَفْطَر".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3460]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1944، م : 1113
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1944، م : 1113
حدیث نمبر: 3461 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يَعْنِي عَطَاءً، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كَانَتْ شَاةٌ أَوْ دَاجِنَةٌ لِإِحْدَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَاتَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا، أَوْ مَسْكِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3461]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1992، م: 364
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1992، م: 364
حدیث نمبر: 3462 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، خُصَيْفٌ ، مِقْسَمًا ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ ، أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَنَا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ سَأَلَهُ سَعْدٌ وَابْنُ عُمَرَ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ فَقَضَى عُمَرُ لِسَعْدٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُلْتُ: يَا سَعْدُ، قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، وَلَكِنْ أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ، أَمْ بَعْدَهَا؟ قَالَ: فَقَالَ رَوْحٌ أَوْ بَعْدَهَا؟ قَالَ: لَا يُخْبِرُكَ أَحَدٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهِمَا بَعْدَمَا أُنْزِلَتْ الْمَائِدَةُ، فَسَكَتَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مسح علی الخفین کے متعلق سوال کیا تو میں اس وقت وہیں موجود تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ دیا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سعد! یہ تو ہم جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا ہے، لیکن سورہ مائدہ کے نزول سے پہلے یا بعد میں؟ آپ کو یہ بات کوئی بھی نہیں بتائے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا ہے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3462]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف خصيف بن عبدالرحمن الجزري
الحكم: إسناده ضعيف لضعف خصيف بن عبدالرحمن الجزري
حدیث نمبر: 3463 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ:" بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ عَرْقًا، أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَوَضَعَهُ وَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہڈی والا گوشت کھا رہے تھے کہ مؤذن آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے رکھا اور تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3463]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3464 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَرَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أُبَالِي مِمَّا تَوَضَّأْتَ،" أَشْهَدُ لَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ لَحْمٍ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ". قَالَ: وَسُلَيْمَانُ حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْهُمَا جَمِيعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں کس بناء پر وضو کر رہا ہوں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نفی میں جواب دیا، انہوں نے بتایا کہ میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھا لئے تھے، اب ان کی وجہ سے وضو کر رہا ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ آپ جس بناء پر وضو کر رہے ہیں میں تو اس کی پرواہ نہیں کرتا، کیونکہ میں اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دستی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور وضو نہیں فرمایا۔ راوی حدیث سلیمان بن یسار مذکورہ دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3464]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 207، م: 354
الحكم: إسناده صحيح، خ: 207، م: 354
حدیث نمبر: 3465 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَبَا الشَّعْثَاءِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، فقَالَ: عِلْمِي، وَالَّذِي يَخْطِرُ عَلَى بَالِي، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَنِي، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِفَضْلِ مَيْمُونَةَ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَذَلِكَ أَنِّي سَأَلْتُهُ عَنْ إِخْلَاءِ الْجُنُبَيْنِ جَمِيعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے چھوڑے ہوئے پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے، راوی حدیث عبدالرزاق کہتے ہیں کہ دراصل میں نے اپنے استاذ سے دو جنبی مرد و عورت کے ایک ہی پانی سے غسل کرنے کا مسئلہ پوچھا تھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنا دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3465]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3466 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، لِعَطَاءٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَطَاءٍ أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ إِمَامًا أَوْ خِلْوًا؟، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ، حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ. قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعٌ يَدَهُ عَلَى شَقِّ رَأْسِهِ، فَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ عشا کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ لوگ دو مرتبہ سوئے اور جاگے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! نماز، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے، وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ سر پر رکھا اور فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ عشا کی نماز اسی وقت پڑھا کریں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3466]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 571، م: 642
الحكم: إسناده صحيح، خ: 571، م: 642
حدیث نمبر: 3467 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَبَا الشَّعْثَاءِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ:" صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں، اور (مغرب و عشا کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3467]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1174، م: 705
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1174، م: 705
حدیث نمبر: 3468 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، طَاوُسًا ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ، فَذَكَرَ نَحْوَ دُعَاءِ سُفْيَانَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" ووَعْدُكَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ"، وَقَالَ" وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے، پھر راوی نے مکمل دعا ذکر کی اور یہ بھی کہا: آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ میرے معبود ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3468]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7699، م: 769
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7699، م: 769
حدیث نمبر: 3469 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ الْبَشَرِ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ يَدْخُلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَيُدَارِسَهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَهُوَ أَجْوَدُ مِنَ الرِّيحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، وہ ہر رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، اور تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3469]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6، م: 3308
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6، م: 3308
حدیث نمبر: 3470 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَشَفَ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى عَلَيْهِ، فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ، فَقَبَّلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو وہاں پہنچ کر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رخ زبیا سے دھاری دار چادر کو ہٹایا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ڈال دی گئی تھی، اور رخ انور کو دیکھتے ہی اس پر جھک کر اسے بوسے دینے لگے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3470]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3471 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ"، قَالَ طَاوُسٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: وَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ؟ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو، اور تیل خوشبو لگایا کرو؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مجھے علم نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3471]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 885، م: 848
الحكم: إسناده صحيح، خ: 885، م: 848
حدیث نمبر: 3472 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي خِدَاشٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي خِدَاشٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَقْبُرَةِ، وَهِيَ عَلَى طَرِيقِهِ الْأُولَى، أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرِ أَوْ قَالَ: وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ، شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَقَالَ:" نِعْمَ الْمَقْبُرَةُ هَذِهِ". فَقُلْتُ لِلَّذِي أَخْبَرَنِي: أَخَصَّ الشِّعْبَ؟ قَالَ: هَكَذَا قَالَ، فَلَمْ يُخْبِرْنِي أَنَّهُ خَصَّ شَيْئًا إِلَّا لَذَلِكَ، أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ أَوْ الضَّفِيرِ، وَكُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَّ الشِّعْبَ الْمُقَابِلَ لِلْبَيْتِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک مقبرہ پر ہوا جو اس پہلے راستے پر واقع تھا (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہاتھ سے ریت کے تودے کے پیچھے کی طرف اشارے سے فرمایا) اور فرمایا کہ یہ بہترین قبرستان ہے، میں نے اس شخص سے پوچھا جنہوں نے مجھے یہ بات بتائی کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے کسی گوشے کی تخصیص فرمائی تھی؟ لیکن وہ مجھے یہ نہ بتا سکے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس جگہ کو خاص کیا تھا، سوائے اس کے کہ وہ ہاتھ سے اشارہ کرتے رہے، لیکن ہم یہ بات سنتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس حصے کو خاص کیا جو بیت اللہ کے سامنے تھا۔ فائدہ: بظاہر اس قبرستان سے مراد جنت المعلی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3472]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف إبراهيم بن أبي خداش
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف إبراهيم بن أبي خداش
حدیث نمبر: 3473 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ الْكَرِيمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ وَغَيْرُهُ، عَنْ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ فِي الْحَائِضِ نِصَابَ دِينَارٍ، فَإِنْ أَصَابَهَا، وَقَدْ أَدْبَرَ الدَّمُ عَنْهَا وَلَمْ تَغْتَسِلْ، فَنِصْفُ دِينَارٍ. كُلُّ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایام والی عورت سے ہمبستری میں ایک دینار کا نصاب مقرر کیا ہے، اور اگر مرد نے اس سے اپنی خواہش اس وقت پوری کی جبکہ خون تو منقطع ہو چکا تھا لیکن ابھی اس نے غسل نہیں کیا تھا تو اس صورت میں قربت پر نصف دینار واجب ہوگا، اور یہ سب تفصیل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3473]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالكريم بن أبى المخارق
الحكم: صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالكريم بن أبى المخارق
حدیث نمبر: 3474 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُنْكِرُ أَنْ يُتَقَدَّمَ فِي صِيَامِ رَمَضَانَ إِذَا لَمْ يُرَ هِلَالُ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَيَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا لَمْ تَرَوْا الْهِلَالَ، فَاسْتَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ لَيْلَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں پر تعجب ہوتا تھا جو پہلے ہی سے مہینہ منا لیتے ہیں، خواہ چاند نظر نہ آیا ہو، اور وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3474]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن جبير وهو خطأ، صوابه محمد بن حنين وهو مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن جبير وهو خطأ، صوابه محمد بن حنين وهو مجهول
حدیث نمبر: 3475 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ يَبْتَغِي فَضْلَهُ عَلَى غَيْرِهِ، إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ لِيَوْمِ عَاشُورَاءَ، أَوْ رَمَضَانَ، قَالَ رَوْحٌ: أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشورہ کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3475]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2006، م: 1132
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2006، م: 1132
حدیث نمبر: 3476 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ : دَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" لَا تَصُمْ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٌ فِيهِ لَبَنٌ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَشَرِبَ مِنْهُ، فَلَا تَصُمْ، فَإِنَّ النَّاسَ مُسْتَنُّونَ بِكُمْ". قَالَ ابْنُ بَكْرٍ وَرَوْحٌ إِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آج کے دن کا (احرام کی حالت میں) روزہ نہ رکھا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس دن دودھ دوہ کر ایک برتن میں پیش کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا، اور لوگ تمہاری اقتدا کرتے ہیں (تمہیں روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر کہیں وہ اسے اہمیت نہ دینے لگیں)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3476]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين ابن جريج وبين عطاء
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين ابن جريج وبين عطاء
حدیث نمبر: 3477 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، زَكَرِيَّا بْنُ عُمَرَ ، عَطَاءً ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ عَطَاءً أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ دَعَا الْفَضْلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3477]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زكرياء بن عمر لم يوثقه غير ابن حبان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زكرياء بن عمر لم يوثقه غير ابن حبان