بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 32 از 86
حدیث نمبر: 2458 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، خُصَيْفٍ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ:" يَتَصَدَّقُ بِنِصْفِ دِينَارٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ وہ آدھا دینار صدقہ کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2458]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وكذا خصيف بن عبدالرحمن
الحكم: صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وكذا خصيف بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 2459 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، لَيْثٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" عَجَّلَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَجَّلَ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأَنَا مَعَهُمْ، مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَأَمَرَنَا أَنْ لا نَرْمِيَهَا حتى تَطْلُعُ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں یا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو - اور ان کے ساتھ میں بھی تھا - مزدلفہ سے منی کی طرف جلدی بھیج دیا تھا اور ہمیں حکم دیا تھا کہ طلوع آفتاب سے قبل جمرہ عقبہ کی رمی نہ کریں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2459]
حکم دارالسلام
حديث حسن، خ: 1677، م: 1293، وهذا إسناد ضعيف، شريك ضعيف، وكذا ليث
الحكم: حديث حسن، خ: 1677، م: 1293، وهذا إسناد ضعيف، شريك ضعيف، وكذا ليث
حدیث نمبر: 2460 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَمْرٍو ، عَطَاءٌ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ ثَقَلَةِ وَضَعَفَةِ أَهْلِهِ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَصَلَّيْنَا الصُّبْحَ بِمِنًى، وَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنے سامان اور کمزور افراد خانہ کے ساتھ مزدلفہ کی رات ہی کو منی کی طرف روانہ کر دیا تھا، چنانچہ ہم نے فجر کی نماز منی میں ہی پڑھی اور جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2460]
حکم دارالسلام
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2461 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْقُرَشِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ:" دَخَلْنَا بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْنَا فِيهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَذَكَرْنَا الْوُضُوءَ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْكُلُ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ" , فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا: أَنْتَ رَأَيْتَهُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ، فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنَيَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مل گئے۔ چنانچہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آگ پر پکے ہوئے کھانے کے بعد وضو کا حکم دریافت کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، ہم میں سے کسی نے پوچھا کہ واقعی آپ نے یہ دیکھا ہے؟ انہوں نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا - اس وقت وہ نابینا ہوچکے تھے - اور فرمایا کہ میں نے اپنی ان دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2461]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 354 ،359
الحكم: إسناده حسن، م: 354 ،359
حدیث نمبر: 2462 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسُوقُ غَنَمًا لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ، فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ، وَأَخَذُوا غَنَمَهُ، فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا سورة النساء آية 94 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچا لے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا، اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا . . . . .﴾ [النساء: 94] » ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو خوب چھان بین کر لو اور جو تمہیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں . . . . .۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2462]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2463 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ سورة آل عمران آية 110 , قَالَ:" هُمْ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ" , قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ « ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ . . . . .﴾ [آل عمران: 110] » والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2463]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2464 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، مَنْ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ , سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" لَمْ يَنْزِلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِيُهَرِيقَ الْمَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف اس لئے منزل کی تھی تاکہ پانی بہا سکیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2464]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن ابن عباس
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2465 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا , وَسَبْعًا جَمِيعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں، اور (مغرب و عشا کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2465]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 562، م: 705
الحكم: إسناده صحيح، خ: 562، م: 705
حدیث نمبر: 2466 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهْدَى فِي بُدْنِهِ بَعِيرًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ، فِي أَنْفِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سو) اونٹوں کی قربانی دی، جن میں ابوجہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2466]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لتدليس جرير بن حازم
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لتدليس جرير بن حازم
حدیث نمبر: 2467 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، جَرِيرٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" انْتَهَسَ عَرْقًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2467]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 207
الحكم: إسناده صحيح، خ: 207
حدیث نمبر: 2468 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، جَرِيرٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا قَذَفَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ امْرَأَتَهُ، قِيلَ لَهُ: وَاللَّهِ لَيَجْلِدَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً , قَالَ: اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَضْرِبَنِي ثَمَانِينَ ضَرْبَةً، وَقَدْ عَلِمَ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ، وَسَمِعْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ، لَا وَاللَّهِ لَا يَضْرِبُنِي أَبَدًا , قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگایا تو لوگ ان سے کہنے لگے کہ اب تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں اسی کوڑے ضرور ماریں گے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بڑا عادل ہے، وہ مجھے ان اسی کوڑوں سے بچا لے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں نے دیکھا یہاں تک کہ مجھے یقین ہو گیا اور میں نے اپنے کانوں سے سنا یہاں تک کہ مجھے یقین ہو گیا، واللہ! اللہ مجھے سزا نہیں ہونے دے گا، اس پر آیت لعان نازل ہوئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2468]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2469 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، جَرِيرٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ جاريةً بِكْراً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح ایسی جگہ کر دیا ہے جو اسے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2469]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2470 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، ابْنِ جُبَيْرٍ ، أَحْمَدُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ أَحْمَدُ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَكُونُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ، قَالَ حُسَيْنٌ: كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ، لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آخر زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے جو کالا خضاب لگائیں گے، یہ لوگ جنت کی بو بھی نہ پا سکیں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2470]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2471 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُا، لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ , فَكَانَ فِيمَا سَأَلُوهُ، أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ؟ قَالَ:" فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَام مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا فَطَالَ سَقَمُهُ، فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ مِنْ سَقَمِهِ، لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ، وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ، فَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ، وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا؟" فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم آپ سے چند باتیں پوچھنا چاہتے ہیں، آپ ہمیں ان کا جواب دیجئے کیونکہ انہیں کوئی نبی ہی جان سکتا ہے، اس کے بعد انہوں نے جو سوالات کئے، ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ تورات کے نازل ہونے سے پہلے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر کون سا کھانا حرام کر لیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات کو نازل کیا تھا، کیا تم نہیں جانتے کہ ایک مرتبہ حضرت یعقوب علیہ السلام بہت شدید بیمار ہوگئے تھے، ان کی بیماری نے جب طول پکڑا تو انہوں نے اللہ کے نام کی منت مان لی کہ اگر اللہ نے انہیں ان کی اس بیماری سے شفا عطا فرما دی تو وہ اپنی سب سے محبوب پینے کی چیز اور سب سے محبوب کھانے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیں گے، اور انہیں کھانوں میں سب سے زیادہ اونٹ کا گوشت پسند تھا، اور پینے کی چیزوں میں اس کا دودھ سب سے مرغوب تھا؟ انہوں نے کہا: واللہ! ایسا ہی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2471]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالحميد بن بهرام تكلم فى روايته عن شهر، وشهر بن حوشب مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالحميد بن بهرام تكلم فى روايته عن شهر، وشهر بن حوشب مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
حدیث نمبر: 2472 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، زَمْعَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عَلَى بِسَاطٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2472]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف زمعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف زمعة
حدیث نمبر: 2473 مسند احمد
الْفَضْلُ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ سِحْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2473]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف شريك، وسماك روايته عن عكرمة فيها اضطراب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف شريك، وسماك روايته عن عكرمة فيها اضطراب
حدیث نمبر: 2474 مسند احمد
الْفَضْلُ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: مَرَّ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى أُنَاسٍ قَدْ وَضَعُوا حَمَامَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُتَّخَذَ الرُّوحُ غَرَضًاً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک کبوتر کو پکڑا ہوا تھا اور وہ اس پر اپنا نشانہ صحیح کر رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2474]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة خاصة مضطربة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة خاصة مضطربة
حدیث نمبر: 2475 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بْنَتاً لَهُ تَقْضِي فَاحْتَضَنَهَا، فَوَضَعَهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ , فَمَاتَتْ وَهِيَ بَيْنَ ثَدْيًيْه، فَصَاحَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَقِيلَ: أَتَبْكِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: أَلَسْتُ أَرَاكَ تَبْكِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَسْتُ أَبْكِي، إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ بِكُلِّ خَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ، إِنَّ نَفْسَهُ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں، کسی نے ان سے کہا: کیا تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی رو رہے ہیں تو میں کیوں نہ روؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں رو نہیں رہا، یہ تو رحمت ہے، مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2475]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2476 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ، قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْجَرِّ الْأَبْيَضِ، وَالْجَرِّ الْأَخْضَرِ، وَالْجَرِّ الْأَحْمَرِ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَقَالُوا: إِنَّا نُصِيبُ مِنَ الثُّفْلِ، فَأَيُّ الْأَسْقِيَةِ؟ َقَالَ:" لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ , وَالْمُزَفَّتِ , وَالنَّقِيرِ , وَالْحَنْتَمِ، وَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ" , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ، أَوْ حَرَّمَ الْخَمْرَ , وَالْمَيْسِرَ , وَالْكُوبَةَ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" , قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ: مَا الْكُوبَةُ؟ قَالَ: الطَّبْلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس بن حبتر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سفید، سبز اور سرخ مٹکے کے بارے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے پہلے بنو عبدالقیس کے وفد نے سوال کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں یہ تلچھٹ حاصل ہوتا ہے، ہمارے لئے کون سے برتن حلال ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دباء، مزفت، نقیر اور حنتم میں کچھ بھی نہ پیو، البتہ مشکیزوں میں پی سکتے ہو۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے شراب، جوا اور کوبہ کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ سفیان کہتے ہیں کہ میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا معنی طبل بتایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2476]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وقصة وفد عبدالقيس عند خ: 53، م: 17
الحكم: إسناده صحيح، وقصة وفد عبدالقيس عند خ: 53، م: 17
حدیث نمبر: 2477 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، رَجُلٍ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَيْنُ حَقٌّ، تَسْتَنْزِلُ الْحَالِقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نظر کا لگ جانا برحق ہے، اور یہ حلق کرانے والے کو بھی نیچے اتار لیتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2477]
حکم دارالسلام
قوله : العين حق صحيح، وبقيته حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لإبهام الراوي عن جابر بن زيد
الحكم: قوله : العين حق صحيح، وبقيته حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لإبهام الراوي عن جابر بن زيد