حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسُوقُ غَنَمًا لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ، فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ، وَأَخَذُوا غَنَمَهُ، فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا سورة النساء آية 94 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچا لے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا، اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا . . . . .﴾ [النساء: 94] » ”ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو خوب چھان بین کر لو اور جو تمہیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں . . . . .۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2462]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة