بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 70 از 86
حدیث نمبر: 3218 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ حِمَارٍ يَقْطُرُ دَمًا، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، جس میں سے خون ٹپک رہا تھا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3218]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1194
الحكم: إسناده صحيح، م: 1194
حدیث نمبر: 3219 مسند احمد
وَكِيعٌ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، سَمِعْتُ مِنْهُ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ الضَّبُّ، فَقَالَ رَجُلٌ: مِنْ جُلَسَائِهِ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُحِلَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهُ. فَقَالَ: بِئْسَ مَا تَقُولُونَ، إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحِلًّا، وَمُحَرِّمًا، جَاءَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ تَزُورُ أُخْتَهَا مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، وَمَعَهَا طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ ضَبٍّ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا اغْتَبَقَ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ فِيهِ لَحْمَ ضَبٍّ. فَكَفَّ يَدَهُ، فَأَكَلَهُ مَنْ عِنْدَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا نَهَاهُمْ عَنْهُ، وَقَالَ:" لَيْسَ بِأَرْضِنَا، وَنَحْنُ نَعَافُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم کہتے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے گوہ کا تذکرہ ہوا تو ان کی مجلس میں شریک ایک آدمی نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حلال قرار دیا اور نہ ہی حرام، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ تم نے غلط کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تو بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ حلال و حرام کی تعیین کردیں۔ پھر فرمایا: دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، وہاں سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا اپنی بہن سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لئے آئی ہوئی تھیں، ان کے ساتھ کھانا بھی تھا جس میں گوہ کا گوشت تھا، شام کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب اسے تناول فرمانے کا ارادہ کیا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ گوہ کا گوشت ہے، یہ سنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا لیکن وہاں موجود لوگوں نے اسے کھایا، اگر یہ حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ انہیں منع فرما دیتے، البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: یہ ہمارے علاقے میں نہیں ہوتا اس لئے ہم اس سے بچتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3219]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1948
الحكم: إسناده صحيح، م: 1948
حدیث نمبر: 3220 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ" ضَمَّ بَيْنَ إِبْهَامِهِ وَخِنْصَرِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انگوٹھا اور چھوٹی انگلی دونوں برابر ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3220]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6895
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6895
حدیث نمبر: 3221 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3221]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
حدیث نمبر: 3222 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا"، قَالَ:" وَصُمَاتُهَا إِقْرَارُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی، اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3222]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1421
الحكم: إسناده صحيح، م: 1421
حدیث نمبر: 3223 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، سَلَمَةَ ، عِمْرَانَ أَبِي الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَتْ: قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُصْبِحْ لَنَا الصَّفَا ذَهَبَةً، فَإِنْ أَصْبَحَتْ ذَهَبَةً اتَّبَعْنَاكَ، وَعَرَفْنَا أَنَّ مَا قُلْتَ. كَمَا قُلْتَ: فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَتْ لَهُمْ هَذِهِ الصَّفَا ذَهَبَةً، فَمَنْ كَفَرَ مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ، عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، وَإِنْ شِئْتَ، فَتَحْنَا لَهُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَةِ. قَالَ:" يَا رَبِّ، لَا، بَلْ افْتَحْ لَهُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی تم ایمان لے آؤ گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرما دی، حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو ان کے لئے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں اسے ایسی سزا دوں گا کہ دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہ دی ہوگی، اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دیا جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3223]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3224 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، وَقَدْ مَاتَتْ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ، أَكُنْتَ تَقْضِيهِ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی منت مانی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی، اس کا بھائی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ بتاؤ! اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گے یا نہیں؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اور وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق اور حقدار ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3224]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6699
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6699
حدیث نمبر: 3225 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" فَبَدَءُوا بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود رہا ہوں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے (بغیر اذان و قامت کے) نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3225]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 979، م: 884
الحكم: إسناده صحيح، خ: 979، م: 884
حدیث نمبر: 3226 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَابِسٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَابِسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ، مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، فَأَتَى دَارَ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ،" فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ خَطَبَ وَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ". قَالَ: وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا، وَلَا إِقَامَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عابس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ میرا تعلق نہ ہوتا تو اپنے بچپن کی وجہ سے میں اس موقع پر کبھی موجود نہ ہوتا، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور دار کثیر بن الصلت کے قریب دو رکعت نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا اور صدقہ کا حکم دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس میں اذان یا اقامت کا کچھ ذکر نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3226]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3227 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَطَبَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، فِي الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3227]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3228 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، سُلَيْمَانُ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حدثني سُلَيْمَانُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنَ الْأَيَّامِ أَيَّامٌ الْعَمَلُ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ"، قِيلَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عشرہ ذی الحجہ کے علاوہ کسی دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے محبوب نہیں جتنے ان دس دنوں میں محبوب ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ فرمایا: ہاں! البتہ وہ آدمی جو اپنی جان مال کو لے کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ لایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3228]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3229 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ، قَالَ:" بَعَثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِي ثَقَلِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ سے مجھے کچھ سامان کے ساتھ سحری کے وقت ہی بھیج دیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3229]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1678، م: 1294
الحكم: حديث صحيح، خ: 1678، م: 1294
حدیث نمبر: 3230 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ دابَّتِه، فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3230]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206
حدیث نمبر: 3231 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ"، وَجَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ. قَالَ:" فَارْجِعْ، فَحُجَّ مَعَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ میری بیوی حج کے لئے جا رہی ہے جبکہ میرا نام فلاں لشکر میں جہاد کے لئے لکھ لیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، جا کر اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3231]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1862، م: 1341
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1862، م: 1341
حدیث نمبر: 3232 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَبَا مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ رَوْحٌ:" فَاحْجُجْ مَعَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3232]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3233 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٌ ، عِكْرِمَةُ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور حالت احرام میں سینگی لگوائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3233]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1836، 1837
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1836، 1837
حدیث نمبر: 3234 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ، حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے تولیے سے نہ پونچھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5456، م: 2031
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5456، م: 2031
حدیث نمبر: 3235 مسند احمد
يَحْيَى ، دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، صَالِحٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي، غَيْرِ مَطَرٍ وَلَا سَفَرٍ. قَالُوا: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، مَا أَرَادَ بِذَلِكَ؟ قَالَ: التَّوَسُّعَ عَلَى أُمَّتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشا کو جمع فرمایا، اس وقت نہ کوئی سفر تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے اور اس کے لئے کشادگی ہو جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3235]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م:705
الحكم: حديث صحيح، م:705
حدیث نمبر: 3236 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، حَبِيبُ بْنُ ثَابِتٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ فِي كُسُوفٍ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، قَالَ: وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت جو نماز پڑھائی اس میں آٹھ رکوع اور چار سجدے کئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3236]
حکم دارالسلام
ضعيف، قد تقدم الكلام فيه برقم: 1975
الحكم: ضعيف، قد تقدم الكلام فيه برقم: 1975
حدیث نمبر: 3237 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَزَوَّجْتَ بِنْتَ حَمْزَةَ؟، قَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔ (در اصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447