وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، وَقَدْ مَاتَتْ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ، أَكُنْتَ تَقْضِيهِ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی منت مانی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی، اس کا بھائی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ! اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گے یا نہیں؟“ اس نے اثبات میں جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اور وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق اور حقدار ہے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3224]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6699
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6699