بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 79 از 86
حدیث نمبر: 3398 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، وَبَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3398]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3399 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَقْرَأَ فِيهِ، وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَسْكُتَ فِيهِ" وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا سورة مريم آية 64، وَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ جن نمازوں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قراءت کا حکم دیا گیا، ان میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قراءت فرمائی، اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا وہاں خاموش رہے، « ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [مريم: 64] » اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ اور « ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الأحزاب: 21] » تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3399]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 774
الحكم: إسناده صحيح، خ: 774
حدیث نمبر: 3400 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3400]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3401 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى، أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر، یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3401]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2021
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2021
حدیث نمبر: 3402 مسند احمد
بَهْزٌ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، الْجَعْدُ الْحِلَى أَبُو عُثْمَانَ ، أَبُو رَجَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ الْحِلَى أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا، كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ هُوَ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا، كُتِبَتْ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے، اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3402]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6491، م: 131
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6491، م: 131
حدیث نمبر: 3403 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَسَ مِنْ كَتِفٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شانے کا گوشت ہڈی سے نوچ کر تناول فرمایا، پھر تازہ وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3403]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3404 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، عَزْرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، صَاحِبٍ لَهُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ . ح وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ صَاحِبٍ لَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِالْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن نماز جمعہ میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3404]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3405 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا، وَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا، قَالَ: فَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ: قَضَى أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَخَيَّرَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ قَالَ هَمَّامٌ مَرَّةً: عِدَّةَ الْحُرَّةِ، قَالَ: وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ، فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا جس کا نام مغیث تھا، میں اسے دیکھتا تھا کہ وہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے مدینہ منورہ کی گلیوں میں پھر رہا ہوتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے متعلق چار فیصلے فرمائے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا کہ ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں خیار عتق دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں عدت گزارنے کا حکم دیا، اور یہ کہ ایک مرتبہ کسی نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں کوئی چیز دی، انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بطور ہدیہ کے بھیج دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے (کیونکہ ملکیت تبدیل ہو گئی ہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3405]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3406 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهِمْ الْأَشَجُّ أَخُو بَنِي عَصَرٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارَ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ إِذَا عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ، وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا؟ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: أَمَرَهُمْ أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ يَصُومُوا رَمَضَانَ، وَأَنْ يَحُجُّوا الْبَيْتَ، وَأَنْ يُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغَانِمِ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، فَقَالُوا: فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِأَسْقِيَةِ الْأَدَمِ، الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بتایا کہ میرا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپ کی خدمت میں صرف اشہر حرم میں حاضر ہو سکتے ہیں اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتادیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اللہ ہی کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو بھجوانا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استمعال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گزر چکی ہے)، انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پھر ہم کن برتنوں میں پانی پیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چمڑے کے مشکیزوں میں جن کا منہ باندھا جا سکے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3406]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3407 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يَذْكُرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَعِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهِمْ الْأَشَجُّ أَخُو بَنِي عَصَرٍ... فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3407]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3408 مسند احمد
بَهْزٌ ، عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، ابْنَ عُمَرَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ. وحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: عَفَّانُ: أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوَتْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ"، قَالَ: وَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وتر کی ایک رکعت ہوتی ہے رات کے آخری حصے میں، پھر میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3408]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 753
الحكم: إسناده صحيح، م: 753
حدیث نمبر: 3409 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَخَذَهُ طَعَامًا لِأَهْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض - جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کے کھانے کے لئے لیے تھے - رہن رکھی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3409]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3410 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ زَمَنَ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَكَانَ يَزِيدُ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ. قَال ابْنُ عَبَّاسٍ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَقُولُ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي، فَمَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ، فَقَدْ رَآنِي" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي رَأَيْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، رَأَيْتُ رَجُلًا بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، جِسْمُهُ وَلَحْمُهُ، أَسْمَرُ إِلَى الْبَيَاضِ، حَسَنُ الْمَضْحَكِ، أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ، جَمِيلُ دَوَائِرِ الْوَجْهِ، قَدْ مَلَأَتْ لِحْيَتُهُ مِنْ هَذِهِ، إِلَى هَذِهِ حَتَّى كَادَتْ تَمْلَأُ نَحْرَهُ. قَالَ عَوْفٌ: لَا أَدْرِي مَا كَانَ مَعَ هَذَا مِنَ النَّعْتِ. قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْ رَأَيْتَهُ فِي الْيَقَظَةِ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَنْعَتَهُ فَوْقَ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید فارسی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حیات میں مجھے خواب میں حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، یاد رہے کہ یزید قرآن کے نسخے لکھا کرتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس سعادت کے حصول کا تذکرہ کیا، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے: شیطان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ میری شباہت اختیار کر سکے، اس لئے جسے خواب میں میری زیارت ہو، وہ یقین کر لے کہ اس نے مجھ ہی کو دیکھا ہے، کیا تم نے خواب میں جس ہستی کو دیکھا ہے ان کا حلیہ بیان کر سکتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! میں نے دو آدمیوں کے درمیان ایک ہستی کو دیکھا جن کا جسم اور گوشت سفیدی مائل گندمی تھا، خوبصورت مسکراہٹ، سرمگیں آنکھیں اور چہرے کی خوبصورت گولائی لئے ہوئے تھے، ان کی ڈاڑھی یہاں سے یہاں تک بھری ہوئی تھی اور قریب تھا کہ پورے سینے کو بھر دیتی، (عوف کہتے ہیں کہ مجھے معلوم اور یاد نہیں کہ اس کے ساتھ مزید کیا حلیہ بیان گیا تھا)، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تم نے بیداری میں ان کی زیارت سے اپنے آپ کو شاد کام کیا ہوتا تو شاید اس سے زیادہ ان کا حلیہ نہ بیان کر سکتے (کچھ فرق نہ ہوتا)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3410]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، يزيد الفارسي فى عداد المجاهيل
الحكم: إسناده ضعيف، يزيد الفارسي فى عداد المجاهيل
حدیث نمبر: 3411 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3411]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3412 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3412]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 1837، م: 1410
الحكم: إسناده قوي، خ: 1837، م: 1410
حدیث نمبر: 3413 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3413]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410
حدیث نمبر: 3414 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ، يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو ان کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3414]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق، وأبو إسحاق مختلط
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق، وأبو إسحاق مختلط
حدیث نمبر: 3415 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَجَّاجٌ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِليهِ مِنْ رَقِيقِ الْمُشْرِكِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا، جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ گئے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3415]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 3416 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، سَلْمٍ ، بَعْضِ أَصْحَابِهِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ سَلْمٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ، مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ أَلْحَقْتُهُ بِعَصَبَتِهِ، وَمَنْ ادَّعَى وَلَدَهُ مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ، فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی دوسرے کی باندی سے قربت کرنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے، جس شخص نے زمانہ جاہلیت میں ایسا کیا ہو، میں اس قربت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو اس کے عصبہ سے ملحق قرار دیتا ہوں اور جو شخص بغیر نکاح کے کسی بچے کو اپنی طرف منسوب کرنے کا دعوی کرتا ہے (اور یہ کہتا ہے کہ یہ میرا بچہ ہے، حالانکہ اس بچے کی ماں سے اس کا نکاح نہیں ہوا) تو وہ بچہ اس کا وارث بنے گا اور نہ ہی مورث (دونوں میں سے کسی کو دوسرے کی وراثت نہیں ملے گی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3416]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة راويه عن سعد بن جبير
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة راويه عن سعد بن جبير
حدیث نمبر: 3417 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، حَبِيبٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ، وَقَالَ:" لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ، لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا: ہم محرم ہیں، اگر ہم محرم نہ ہوتے تو اسے تم سے قبول کر لیتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3417]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1194
الحكم: إسناده صحيح، م: 1194