بَهْزٌ ، عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، ابْنَ عُمَرَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ. وحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: عَفَّانُ: أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوَتْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ"، قَالَ: وَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”وتر کی ایک رکعت ہوتی ہے رات کے آخری حصے میں“، پھر میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3408]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 753
الحكم: إسناده صحيح، م: 753