بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 11 از 86
حدیث نمبر: 2038 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ سورة البقرة آية 136 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 52".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی پہلی رکعت میں « ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ [البقرة: 136] » آخر آیت تک اور دوسری رکعت میں « ﴿آمَنَّا بِاللّٰهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 52] » کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2038]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 727.
الحكم: إسناده صحيح، م: 727.
حدیث نمبر: 2039 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا مُتَرَسِّلًا، فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ لَمْ يَخْطُبْ كَخُطْبَتِكُمْ هَذِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح (نماز استسقاء پڑھانے کے لئے) باہر نکلے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خشوع و خضوع اور عاجزی و زاری کرتے ہوئے، کسی قسم کی زیب و زینت کے بغیر، آہستگی اور وقار کے ساتھ چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو دو دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے لیکن تمہاری طرح خطبہ ارشاد نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2039]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 2040 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَجَّاجٌ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ عَلِيٌّ بِابْنَةِ حَمْزَةَ، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَجَعْفَرٌ وَزَيْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَلِيٌّ ابْنَةُ عَمِّي وَأَنَا أَخْرَجْتُهَا، وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا عِنْدِي، وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي , وَكَانَ زَيْدٌ مُؤَاخِيًا لِحَمْزَةَ آخَى، بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ:" أَنْتَ مَوْلَايَ وَمَوْلَاهَا"، وَقَالَ لِعَلِيٍّ:" أَنْتَ أَخِي وَصَاحِبِي"، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ:" أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَهِيَ إِلَى خَالَتِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ سے نکلنے لگے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو بھی لے آئے، جب مدینہ منورہ پہنچے تو اس بچی کی پرورش کے سلسلے میں سیدنا علی، سیدنا جعفر اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم کا جھگڑا ہو گیا۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں ہیں، لہٰذا اس کی پرورش میرا حق ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ میری بھتیجی ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ اسے میں لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: جعفر! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں، علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں، اور زید! آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہیں، بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی کیونکہ خالہ بھی ماں کے مرتبہ میں ہوتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2040]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف، حجاج مدلس وقد عنعن والحكم لم يسمع من مقسم سوي خمسة أحاديث ليس هذا منها.
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف، حجاج مدلس وقد عنعن والحكم لم يسمع من مقسم سوي خمسة أحاديث ليس هذا منها.
حدیث نمبر: 2041 مسند احمد
يَعْلَى ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ؟ فَقَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدِيقٌ مِنْ ثَقِيفٍ أَوْ مِنْ دَوْسٍ فَلَقِيَهُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ بِرَاوِيَةِ خَمْرٍ يُهْدِيهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا فُلَانٍ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا؟" , فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلَى غُلَامِهِ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَبِعْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا فُلَانٍ، بِمَاذَا أَمَرْتَهُ؟" , قَالَ: أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا، قَالَ:" إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا، فَأَمَرَ بِهَا فَأُفْرِغَتْ فِي الْبَطْحَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن وعلہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے شراب کی تجارت کے متعلق مسئلہ دریافت کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ قبیلہ ثقیف یا دوس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک دوست رہتا تھا، وہ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کے لئے شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے ابوفلاں! کیا تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ اللہ نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے؟ یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اے ابوفلاں! تم نے اسے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے، چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو وادی بطحاء میں بہا دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2041]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1579. فى سنده محمد بن اسحاق مدلس ولكنه توبع.
الحكم: حديث صحيح، م: 1579. فى سنده محمد بن اسحاق مدلس ولكنه توبع.
حدیث نمبر: 2042 مسند احمد
يَعْلَى ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَعْرِضُ الْكِتَابَ عَلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فِي كُلِّ رَمَضَانَ، فَإِذَا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلَةِ الَّتِي يَعْرِضُ فِيهَا مَا يَعْرِضُ أَصْبَحَ وَهُوَ أَجْوَدُ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ، لَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعْطَاهُ، فَلَمَّا كَانَ فِي الشَّهْرِ الَّذِي هَلَكَ بَعْدَهُ عَرَضَ عَلَيْهِ عَرْضَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو بھی مانگا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ عطاء فرما دیتے، اور جس سال رمضان کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا، اس سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دو مرتبہ قرآن کریم سنایا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2042]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6، م: 2308.
الحكم: حديث صحيح، خ: 6، م: 2308.
حدیث نمبر: 2043 مسند احمد
يَعْلَى ، عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، أَبِيهِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ:" مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلا بِأَمْرِ رَبِّكَ سورة مريم آية 64 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (فترت وحی کا زمانہ گزرنے کے بعد) حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ ہمارے پاس ملاقات کے لئے اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے جتنا اب آتے ہیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی: « ﴿وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ﴾ [مريم: 64] » ہم تو اسی وقت زمین پر اترتے ہیں جب آپ کے رب کا حکم ہوتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2043]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3218.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3218.
حدیث نمبر: 2044 مسند احمد
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" هَذِهِ مَيْمُونَةُ، إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ لِيَقْسِمَ لَهَا , قَالَ عَطَاءٌ: الَّتِي لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سرف نامی مقام پر ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: یہ میمونہ ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو چار پائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں، (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ واللہ اعلم)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2044]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1465.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1465.
حدیث نمبر: 2045 مسند احمد
يَعْلَى ، عُثْمَانُ ، سَعِيدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ" أَكْثَرُ مَا يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ سورة البقرة آية 136 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَالْأُخْرَى آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی پہلی رکعت میں « ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ [البقرة: 136] » اور دوسری رکعت میں « ﴿آمَنَّا بِاللّٰهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 52] » کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2045]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 727.
الحكم: إسناده صحيح، م: 727.
حدیث نمبر: 2046 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ، كَيْفَ تَرَى فِيهِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2046]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2047 مسند احمد
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ، يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے جو آنکھوں کی بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2047]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 2048 مسند احمد
أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: لَقِيَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: تَزَوَّجْتَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: تَزَوَّجْ، ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: تَزَوَّجْتَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ:" تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَكْثَرُهَا نِسَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، فرمایا: شادی کر لو، اس بات کو کچھ عرصہ گزر گیا، دوبارہ ملاقات ہونے پر انہوں نے پھر یہی پوچھا کہ اب شادی ہوگئی؟ میں نے پھر نفی میں جواب دیا، اس پر انہوں نے فرمایا کہ شادی کر لو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ان کی بیویاں زیادہ تھیں (تو تم کم از کم ایک سے ہی شادی کر لو، چار سے نہ سہی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2048]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 5069.
الحكم: صحيح لغيره، خ: 5069.
حدیث نمبر: 2049 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ الْكَلْبَ فَأَكَلَ مِنَ الصَّيْدِ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا أَرْسَلْتَهُ فَقَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى صَاحِبِهِ" , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَضَرَبَ عَلَيْهِ أَبِي كَذَا، قَالَ: أَسْبَاطٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم شکاری کتا شکار پر چھوڑو اور وہ شکار میں سے کچھ کھا لے تو تم اسے نہ کھاؤ، کیونکہ اس نے وہ شکار اپنے لئے روک رکھا ہے، اور اگر تم شکاری کتا چھوڑو اور وہ جا کر شکار کو مار ڈالے لیکن خود کچھ نہ کھائے، تو تم اسے کھا لو کیونکہ اب اس نے وہ شکار اپنے مالک کے لئے کیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2049]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم نخعي لم يسمع من ابن عباس.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم نخعي لم يسمع من ابن عباس.
حدیث نمبر: 2050 مسند احمد
شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ وَهُنَّ لَكُمْ، تَطَوُّعٌ الْوَتْرُ، وَالنَّحْرُ، وَصَلَاةُ الضُّحَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو مجھ پر تو فرض ہیں لیکن تمہارے لئے وہ نفل ہیں، ایک وتر، دوسرے (صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود) قربانی اور تیسرے چاشت کی نماز۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2050]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو جناب الكلبي ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف، أبو جناب الكلبي ضعيف.
حدیث نمبر: 2051 مسند احمد
أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، الْأَعْمَشَ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَفَاضَ مِنْ مُزْدَلِفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مزدلفہ سے طلوع آفتاب سے قبل روانہ ہوئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2051]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2052 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى، أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2052]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2021.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2021.
حدیث نمبر: 2053 مسند احمد
حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا حَتَّى يَدْعُوَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی قوم سے اس وقت تک قتال شروع نہیں کیا جب تک انہیں دعوت نہ دے لی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2053]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، لكنه توبع.
الحكم: حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 2054 مسند احمد
حَفْصٌ ، حَجَّاجٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُ بَنَاتَهُ وَنِسَاءَهُ أَنْ يَخْرُجْنَ فِي الْعِيدَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی صاحبزادیوں اور ازواج مطہرات کو عیدین میں نکلنے کا حکم دیتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2054]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن.
الحكم: صحيح لغيره، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن.
حدیث نمبر: 2055 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبِي ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ وَجَدَ خِفَّةً فَخَرَجَ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ أَرَادَ أَنْ يَنْكُصَ , فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْآيَةِ الَّتِي انْتَهَى إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی بیماری میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکلے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آہٹ محسوس ہوئی تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا اور خود ان کے پہلو میں بائیں جانب تشریف فرما ہو گئے، اور وہیں سے تلاوت شروع فرما دی جہاں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2055]
حکم دارالسلام
صحيح، رواية زكريا بن أبى زائدة عن أبى إسحاق بعد التغيير، لكنه توبع.
الحكم: صحيح، رواية زكريا بن أبى زائدة عن أبى إسحاق بعد التغيير، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 2056 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَجَّاجٌ ، الْحَكَمِ ، أَبِي الْقَاسِمِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَمَى الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر فرمائی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2056]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن.
الحكم: صحيح لغيره، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن.
حدیث نمبر: 2057 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَا تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ فِي السَّفَرِ، وَلَا عَلَى مَنْ أَفْطَرَ،" قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سفر میں جو شخص روزہ رکھے یا جو شخص روزہ نہ رکھے، کسی میں کیڑے مت نکا لو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور چھوڑا بھی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2057]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1113 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1113 .