أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: لَقِيَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: تَزَوَّجْتَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: تَزَوَّجْ، ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: تَزَوَّجْتَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ:" تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَكْثَرُهَا نِسَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، فرمایا: شادی کر لو، اس بات کو کچھ عرصہ گزر گیا، دوبارہ ملاقات ہونے پر انہوں نے پھر یہی پوچھا کہ اب شادی ہوگئی؟ میں نے پھر نفی میں جواب دیا، اس پر انہوں نے فرمایا کہ شادی کر لو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ان کی بیویاں زیادہ تھیں (تو تم کم از کم ایک سے ہی شادی کر لو، چار سے نہ سہی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2048]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 5069.
الحكم: صحيح لغيره، خ: 5069.