جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" هَذِهِ مَيْمُونَةُ، إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ لِيَقْسِمَ لَهَا , قَالَ عَطَاءٌ: الَّتِي لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سرف نامی مقام پر ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: یہ میمونہ ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو چار پائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں، (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ واللہ اعلم)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2044]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1465.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1465.