بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 74 از 86
حدیث نمبر: 3298 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجُ ، الْمِنْهَالِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ، فَيَدْخُلَ عَلَيْهِ وَلَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَ فُلَانًا مِنْ وَجَعِهِ، سَبْعًا، إِلَّا شَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے کہ میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے، تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3298]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، لكنه متابع
حدیث نمبر: 3299 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، الزُّهْرِيِّ ، يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، وَهَلْ كُنَّ النِّسَاءُ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ: وَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ، كَتَبَ إِلَيْهِ: كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، وَتَقُولُ: إِنَّ الْعَالِمَ صَاحِبَ مُوسَى قَدْ قَتَلَ الْغُلَامَ! فَلَوْ كُنْتَ تَعْلَمُ مِنَ الْوِلْدَانِ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ الْعَالِمُ، قَتَلْتَ، وَلَكِنَّكَ لَا تَعْلَمُ، فَاجْتَنِبْهُمْ،" فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ قَتْلِهِمْ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ النِّسَاءِ، هَلْ كُنَّ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ وَقَدْ كُنَّ يَحْضُرْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا أَنْ يَضْرِبَ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، فَلَمْ يَفْعَلْ، وَقَدْ كَانَ يَرْضَخُ لَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا، نیز یہ کہ کیا خواتین نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتی تھیں؟ اور کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کا حصہ مقرر فرماتے تھے؟ اس خط کا جواب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے لکھوایا تھا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا، اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا، تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)۔ نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا کوئی حصہ معین نہیں کیا ہے، البتہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3299]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1812
الحكم: حديث صحيح، م: 1812
حدیث نمبر: 3300 مسند احمد
يَزِيدُ ، مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت اور نقیر نامی برتنوں سے منع فرمایا ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [الحشر: 7] » پیغمبر تمہیں جو دے دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3300]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1995
الحكم: إسناده صحيح، م: 1995
حدیث نمبر: 3301 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، أَبِي هَاشِمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا، وَكَانَتْ لَيْلَتَهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْفَتَلَ، فَقَالَ:" أَنَامَ الْغُلَامُ؟" وَأَنَا أَسْمَعُهُ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ قَالَ فِي مُصَلَّاهُ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رکا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشا کی نماز پڑھ کر ان کے پاس آ گئے، کیونکہ اس دن رات کی باری انہی کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر لیٹ گئے، کچھ دیر بعد فرمانے لگے: کیا بچہ سو گیا؟ حالانکہ میں سن رہا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مصلی پر یہ کہتے ہوئے سنا: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میرے کانوں، آنکھوں اور زبان میں نور پیدا فرما اور مجھے زیادہ سے زیادہ نور عطا فرما۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3301]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 763
الحكم: إسناده صحيح، م: 763
حدیث نمبر: 3302 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، أَبِي بِشْرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ أَرَادَتْ الْحَجَّ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِطِي عِنْدَ إِحْرَامِكِ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي، فَإِنَّ ذَلِكِ لَكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور) عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں، (آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم احرام باندھتے وقت شرط لگا لو کہ میں وہیں حلال ہو جاؤں گی جہاں اے اللہ! آپ نے مجھے روک دیا کہ تمہیں اس کی اجازت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3302]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1208
الحكم: إسناده صحيح، م: 1208
حدیث نمبر: 3303 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سِنَانٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَأَلَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَرَّةً الْحَجُّ، أَوْ فِي كُلِّ عَامٍ؟ قَالَ:" لَا، بَلْ مَرَّةً، فَمَنْ زَادَ، فَتَطَوُّعٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائدجو ہو گا وہ نفلی حج ہو گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3303]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3304 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى أَهْلِهِ إِلَى مِنًى لَيْلَةَ النَّحْرِ، فَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے گھر والوں کے ساتھ دس ذی الحجہ کی رات ہی کو منیٰ کی طرف روانہ کر دیا تھا اور ہم نے فجر کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کر لی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3304]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شعبة بن دينار الهاشمي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شعبة بن دينار الهاشمي
حدیث نمبر: 3305 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: رَأَى ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا سَاجِدًا، قَدْ ابْتَسَطَ ذِرَاعَيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَكَذَا يَرْبِضُ الْكَلْبُ،" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے سجدہ کرتے ہوئے اپنے بازو زمین پر بچھا دیئے، انہوں نے فرمایا: اس طرح تو کتا بیٹھتا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3305]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شبعة مولى ابن عباس سيئ الحفظ
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شبعة مولى ابن عباس سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 3306 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَحَمَّادٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . وَحَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَعْنَى، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ: الْخَيَّاطُ، يَعْنِي حَمَّادًا فِي فَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ فَمَرَرْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَنَحْنُ عَلَيْهِ، حَتَّى جَاوَزْنَا عَامَّةَ الصَّفِّ، فَمَا نَهَانَا وَلَا رَدَّنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر گزر رہے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحرا میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم اپنی سواری سے اترے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں منع کیا اور نہ واپس بھیجا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3306]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شعبة مولي ابن عباس
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شعبة مولي ابن عباس
حدیث نمبر: 3307 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: دَخَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ، فَرَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَ إِسْتَبْرَقٍ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَانُونٌ عَلَيْهِ تَمَاثِيلُ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، مَا هَذَا الثَّوْبُ الَّذِي عَلَيْكَ؟ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: إِسْتَبْرَقٌ، قَالَ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ" وَمَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ، وَالتَّكَبُّرِ، وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ". قَالَ: فَمَا هَذَا الْكَانُونُ الَّذِي عَلَيْهِ الصُّوَرُ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا تَرَى كَيْفَ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عیادت کے لئے تشریف لائے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی، اور ان کے سامنے ایک انگیٹھی پڑی تھی جس میں کچھ تصویریں تھیں، سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابوالعباس! یہ کیا کپڑا ہے؟ انہوں نے پوچھا کیا مطلب؟ فرمایا: یہ تو استبرق (ریشم) ہے، انہوں نے کہا: واللہ! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پہننے سے تکبر اور ظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمد للہ ہم ایسے نہیں ہیں۔ پھر سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3307]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شعبة مولي ابن عباس
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شعبة مولي ابن عباس
حدیث نمبر: 3308 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بَرَّةَ، فَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا، فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ، فَمَرَّ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هِيَ فِي مُصَلَّاهَا تُسَبِّحُ اللَّهَ وَتَدْعُوهُ، فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَقَالَ:" يَا جُوَيْرِيَةُ، مَا زِلْتِ فِي مَكَانِكِ؟!" قَالَتْ: مَا زِلْتُ فِي مَكَانِي هَذَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ تَكَلَّمْتُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، أَعُدُّهُنَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، هُنَّ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتِ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس نام کو بدل کر جویریہ رکھ دیا، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے بعد نکلے اور سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کے جانے کے بعد میں مستقل یہیں پر بیٹھی رہی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چند کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر وزن کیا جائے تو تمہاری تمام تسبیحات سے ان کا وزن زیادہ نکلے اور وہ کلمات یہ ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ زِنَةَ عَرْشِهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ مِثْلُ ذَلِكَ» ۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3308]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2140
الحكم: حديث صحيح، م: 2140
حدیث نمبر: 3309 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ أَوْضَعَ النَّاسُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ" فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میدان عرفات سے روانہ ہوئے تو لوگ اپنی سواریاں تیزی سے دوڑانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر ایک شخص نے یہ منادی کی کہ لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے تم سکون کو اپنے اوپر لازم کر لو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو اپنے ہاتھ اٹھائے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3309]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3310 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، مَنْ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: قَالَ: مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ الَّذِي أَسَرَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَبُو الْيَسَرِ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو، أَحَدُ بَنِي سَلِمَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ أَسَرْتَهُ يَا أَبَا الْيَسَرِ؟" قَالَ: لَقَدْ أَعَانَنِي عَلَيْهِ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ وَلَا قَبْلُ، هَيْئَتُهُ كَذَا، هَيْئَتُهُ كَذَا. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ أَعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ"، وَقَالَ لِلْعَبَّاسِ:" يَا عَبَّاسُ، افْدِ نَفْسَكَ وَابْنَ أَخِيكَ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ، وَحَلِيفَكَ عُتْبَةَ بْنَ جَحْدَمٍ". أَحَدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ، قَالَ: فَأَبَى، وَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ مُسْلِمًا قَبْلَ ذَلِكَ، وَإِنَّمَا اسْتَكْرَهُونِي. قَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِشَأْنِكَ، إِنْ يَكُ مَا تَدَّعِي حَقًّا، فَاللَّهُ يَجْزِيكَ بِذَلِكَ، وَأَمَّا ظَاهِرُ أَمْرِكَ، فَقَدْ كَانَ عَلَيْنَا، فَافْدِ نَفْسَكَ" وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ مِنْهُ عِشْرِينَ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْسُبْهَا لِي مِنْ فِدَايَ. قَالَ:" لَا، ذَاكَ شَيْءٌ أَعْطَانَاهُ اللَّهُ مِنْكَ"، قَالَ: فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ. قَالَ:" فَأَيْنَ الْمَالُ الَّذِي وَضَعْتَهُ بِمَكَّةَ، حَيْثُ خَرَجْتَ، عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ، وَلَيْسَ مَعَكُمَا أَحَدٌ غَيْرَكُمَا، فَقُلْتَ: إِنْ أُصِبْتُ فِي سَفَرِي هَذَا، فَلِلْفَضْلِ كَذَا، وَلِقُثَمَ كَذَا، وَلِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا؟"، قَالَ: فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا عَلِمَ بِهَذَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ غَيْرِي وَغَيْرُهَا، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر میرے والد عباس کو قیدی بنا کر گرفتار کرنے والے صحابی کا نام سیدنا ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ تھا، جن کا تعلق بنو سلمہ سے تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ابوالیسر! تم نے انہیں کیسے قید کیا؟ انہوں نے کہا کہ اس کام میں میری مدد ایک ایسے آدمی نے کی تھی جسے میں نے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں، اس کی ہیئت ایسی ایسی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کام میں تمہاری مدد ایک فرشتے نے کی تھی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! اپنا، اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث اور اپنے حلیف عتبہ بن جحدم - جس کا تعلق بنو فہر سے تھا - کا فدیہ ادا کرو، انہوں نے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ میں تو بہت پہلے کا مسلمان ہو چکا ہوں، مجھے تو قریش نے زبردستی روک رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ کا اصل معاملہ اللہ جانتا ہے، اگر آپ کا دعوی برحق ہے تو اللہ آپ کو اس کا بدلہ دے گا، لیکن ہم تو ظاہر کے ذمہ دار ہیں اس لئے کم از کم اپنی جان کا فدیہ ادا کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے جو فدیہ لیا تھا، وہ بیس اوقیہ سونا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درخواست کی کہ میرا فدیہ آپ الگ کر کے میرے لئے رکھ لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا: یہ تو اللہ نے ہمیں آپ سے دلوایا ہے، وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرے پاس کچھ بھی مال و دولت نہیں رہا، فرمایا: وہ مال - جو تم نے مکہ مکرمہ سے نکلتے وقت ام الفضل کے پاس رکھوایا تھا، اور اس وقت تم دونوں کے ساتھ کوئی تیسرا نہ تھا - کہاں جائے گا؟ اور تم نے کہا تھا کہ اگر میں اس سفر میں کام آ گیا تو اتنا فضل کا ہے، اتنا قثم کا اور اتنا عبداللہ کا، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میرے اور میری بیوی کے علاوہ کسی شخص کو بھی اس کا کچھ پتہ نہ تھا، اور میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3310]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن عكرمة
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن عكرمة
حدیث نمبر: 3311 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: قَالَ: مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: حَلَقَ رِجَالٌ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَقَصَّرَ آخَرُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ:" وَالْمُقَصِّرِينَ" قَالُوا: فَمَا بَالُ الْمُحَلِّقِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ظَاهَرْتَ لَهُمْ الترحُّمَ؟ قَالَ:" لَمْ يَشُكُّوا" قَالَ: فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر کچھ لوگوں نے حلق کروایا اور کچھ نے قصر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! حلق کرانے والوں کو معاف فرما دے، ایک صاحب نے عرض کیا: قصر کرانے والوں کے لئے بھی تو دعا فرمائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ قصر کرانے والوں کے لئے فرمایا کہ اے اللہ! قصر کرانے والوں کو بھی معاف فرما دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! حلق کرانے والوں میں ایسی کون سی بات ہے کہ آپ ان پر اتنی شفقت فرما رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ شک میں نہیں پڑے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس چلے گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3311]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 3312 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَرَّقَ كَتِفًا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3312]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 3313 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجُ ، عَطَاءٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَطَاءٍ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُحْرِمَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ مَصْبُوغٍ بِزَعْفَرَانٍ قَدْ غُسِلَ، لَيْسَ فِيهِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حجاج کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم زعفران سے رنگے ہوئے اس کپڑے کو پہن لے جسے دھو دیا گیا ہو اور اس میں زعفران کا کوئی ذرہ یا نشان باقی نہ رہا ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3313]
حکم دارالسلام
هذا ليس بحديث، بل هو أثر عن عطاء، وإنما ذكره ليروي بعده حديث ابن عباس مرفوعا مثله
الحكم: هذا ليس بحديث، بل هو أثر عن عطاء، وإنما ذكره ليروي بعده حديث ابن عباس مرفوعا مثله
حدیث نمبر: 3314 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجُ ، الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عن الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مرفوعا مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3314]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج بن أرطاة، وضعف الحسين بن عبدالله
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج بن أرطاة، وضعف الحسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 3315 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ فِي يَوْمِ الْعِيدِ أَنْ يُخْرِجَ أَهْلَهُ، قَالَ: فَخَرَجْنَا، فَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَ الرِّجَالَ، ثُمَّ أَتَى الْقِتَانَ فَخَطَبَهُنَّ، ثُمَّ أَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَرْأَةَ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا، تُعْطِيهِ بِلَالًا يَتَصَدَّقُ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ اپنے اہل خانہ کو بھی عید گاہ لے کر جائیں، ایک مرتبہ ہم لوگ روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس جمع کرانے لگیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3315]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، إلا أنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، إلا أنه قد توبع
حدیث نمبر: 3316 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَيْرُ يَوْمٍ تَجْتَمِعُونَ فِيهِ، سَبْعَ عَشْرَةَ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ:" وَمَا مَرَرْتُ بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، إِلَّا قَالُوا: عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ يَا مُحَمَّدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ بہترین دن جس میں تم سینگی لگوا سکتے ہو، سترہ، انیس اور اکیس تاریخ ہے، اور فرمایا کہ شب معراج میرا ملائکہ کے جس گروہ پر بھی گزر ہوا، اس نے مجھ سے یہی کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! سینگی لگوانے کو اپنے اوپر لازم کر لیجئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3316]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عباد ابن منصور ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، عباد ابن منصور ضعيف
حدیث نمبر: 3317 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" سِرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَنَحْنُ آمِنُونَ لَا نَخَافُ شَيْئًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کیا، اس وقت ہم حالت امن میں تھے، کسی چیز کا قطعا کوئی خوف نہ تھا، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3317]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح