بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 50 از 86
حدیث نمبر: 2818 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال:" لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ. أَوْ إِلَّا أَبْغَضَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں کر سکتا، یا یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اسے مبغوض نہ رکھتے ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2818]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3783، م: 75
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3783، م: 75
حدیث نمبر: 2819 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، عَوْفٌ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي، وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ، فَظِعْتُ بِأَمْرِي، وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ". فَقَعَدَ مُعْتَزِلًا حَزِينًا، قَالَ: فَمَرَّ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ: هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" قَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ" إِنَّهُ أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ"، قَالَ: إِلَى أَيْنَ؟، قَالَ:" إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟"، قَالَ: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟!، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَلَمْ يُرِ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ، مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِذَا دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ تُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ". فَقَالَ: هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، حتي قَالَ: فَانْتَفَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ، وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا، قَالَ: حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ"، قَالُوا: إِلَى أَيْنَ؟ قال:" إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ"، قَالُوا: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟! قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ، وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ زَعَمَ!! قَالُوا: وَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ؟ وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ، وَرَأَى الْمَسْجِدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ، فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى الْتَبَسَ عَلَيَّ بَعْضُ النَّعْتِ"، قَالَ:" فَجِيءَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتَّى وُضِعَ دُونَ دَارِ عِقَالٍ أَوْ عُقَيْلٍ فَنَعَتُّهُ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ"، قَالَ" وَكَانَ مَعَ هَذَا نَعْتٌ لَمْ أَحْفَظْهُ"، قَالَ:" فَقَالَ الْقَوْمُ: أَمَّا النَّعْتُ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَصَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ شب معراج کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا: جس رات مجھے معراج ہوئی اور صبح کے وقت میں واپس مکہ مکرمہ بھی پہنچ گیا تو مجھے یہ اندیشہ لاحق ہو گیا کہ لوگ میری بات کو تسلیم نہیں کریں گے، اس لئے میں سب سے الگ تھلگ غمگین ہو کر بیٹھ گیا، اتفاقا وہاں سے اللہ کے دشمن ابوجہل کا گزر ہوا، وہ آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور استہزائیہ انداز میں پوچھنے لگا کہ کیا آپ کے ساتھ کچھ ہوگیا ہے؟ فرمایا: ہاں! اس نے پوچھا کیا ہوا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آج رات مجھے سیر کرائی گئی ہے، ابوجہل نے پوچھا: کس جگہ کی؟ فرمایا: بیت المقدس کی، اس نے کہا کہ پھر آپ صبح ہمارے درمیان واپس بھی پہنچ گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ ابوجہل نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فوری طور پر تکذیب کرنا مناسب نہ سمجھا تاکہ اگر وہ قریش کو بلا کر لائے تو وہ اپنی بات سے پھر ہی نہ جائیں اور کہنے لگا کہ اگر میں آپ کی قوم کو آپ کے پاس بلا کر لاؤں تو کیا آپ ان کے سامنے بھی یہ بات بیان کرسکیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! یہ سن کر اس نے آواز لگائی: اے گروہ بنو کعب بن لوئی! ابوجہل کی آواز پر لگی ہوئی مجلسیں ختم ہو گئیں اور سب لوگ ان دونوں کے پاس آکر بیٹھ گئے، ابوجہل انہیں دیکھ کر کہنے لگا کہ آپ نے مجھ سے جو بات بیان فرمائی ہے، وہ اپنی قوم کے سامنے بھی بیان کر دیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے آج رات سیر کرائی گئی ہے، لوگوں نے پوچھا: کہاں کی؟ فرمایا: بیت المقدس کی، لوگوں نے کہا کہ پھر آپ صبح کے وقت ہمارے درمیان واپس بھی پہنچ گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! یہ سن کر کوئی تالیاں بجانے لگا اور کوئی اپنے سر پر ہاتھ رکھنے لگا، کیونکہ ان کے خیال کے مطابق ایک جھوٹی بات پر انہیں تعجب ہو رہا تھا، پھر وہ کہنے لگا کہ کیا آپ ہمارے سامنے مسجد اقصی کی کیفیت بیان کر سکتے ہیں؟ دراصل اس وقت لوگوں میں ایک ایسا شخص موجود تھا جو وہاں کا سفر کر کے مسجد اقصی کو دیکھے ہوئے تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے مسجد اقصی کی کیفیت بیان کرنا شروع کی اور مسلسل بیان کرتا ہی چلا گیا، یہاں تک کہ ایک موقع پر مجھے کچھ التباس ہونے لگا تو مسجد اقصی کو میری نگاہوں کے سامنے کر دیا گیا اور ایسا محسوس ہوا کہ مسجد اقصی کو دار عقال یا دار عقیل کے پاس لا کر رکھ دیا گیا ہے، چنانچہ میں اسے دیکھتا جاتا اور بیان کرتا جاتا، اس میں کچھ چیزیں ایسی بھی تھیں جو میں پہلے یاد نہیں رکھ سکا تھا۔ لوگ یہ سن کر کہنے لگے کہ کیفیت تو واللہ! انہوں نے صحیح بیان کی ہے (لیکن اسلام قبول کرنے کے لئے کوئی بھی مائل نہ ہوا)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2819]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3886، م: 170
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3886، م: 170
حدیث نمبر: 2820 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا قَالَ فِرْعَوْنُ: آمَنْتُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ سورة يونس آية 90، قَالَ: قَالَ لِي جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، لَوْ رَأَيْتَنِي وَقَدْ أَخَذْتُ حَالًا مِنْ حَالِ الْبَحْرِ، فَدَسَّيْتُهُ فِي فِيهِ، مَخَافَةَ أَنْ تَنَالَهُ الرَّحْمَةُ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: کاش! آپ نے مجھے اس وقت دیکھا ہوتا جب میں سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں بھر رہا تھا تاکہ رحمت الہیہ اس کی دستگیری نہ کرتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2820]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، على بن زيد ضعيف، ويوسف بن مهران لم يرو عنه غير على بن زيد، وهو لين الحديث، والأصح وقفه
الحكم: إسناده ضعيف، على بن زيد ضعيف، ويوسف بن مهران لم يرو عنه غير على بن زيد، وهو لين الحديث، والأصح وقفه
حدیث نمبر: 2821 مسند احمد
أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الَّتِي أُسْرِيَ بِي فِيهَا، أَتَتْ عَلَيَّ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذِهِ الرَّائِحَةُ الطَّيِّبَةُ؟ فَقَالَ: هَذِهِ رَائِحَةُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلَادِهَا، قَالَ: قُلْتُ وَمَا شَأْنُهَا؟ قَالَ: بَيْنَا هِيَ تُمَشِّطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ ذَاتَ يَوْمٍ، إِذْ سَقَطَتْ الْمِدْرَى مِنْ يَدَيْهَا، فَقَالَتْ: بِسْمِ اللَّهِ. فَقَالَتْ لَهَا ابْنَةُ فِرْعَوْنَ: أَبِي؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ رَبِّي وَرَبُّ أَبِيكِ اللَّهُ. قَالَتْ: أُخْبِرُهُ بِذَلِكَ! قَالَتْ: نَعَمْ. فَأَخْبَرَتْهُ فَدَعَاهَا، فَقَالَ: يَا فُلَانَةُ، وَإِنَّ لَكِ رَبًّا غَيْرِي، قَالَتْ: نَعَمْ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ، فَأَمَرَ بِبَقَرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ فَأُحْمِيَتْ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا أَنْ تُلْقَى هِيَ وَأَوْلَادُهَا فِيهَا، قَالَتْ لَهُ: إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، قَالَ: وَمَا حَاجَتُكِ؟ قَالَتْ: أُحِبُّ أَنْ تَجْمَعَ عِظَامِي وَعِظَامَ وَلَدِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَتَدْفِنَنَا، قَالَ: ذَلِكَ لَكِ عَلَيْنَا مِنَ الْحَقِّ، قَالَ: فَأَمَرَ بِأَوْلَادِهَا فَأُلْقُوا بَيْنَ يَدَيْهَا وَاحِدًا وَاحِدًا، إِلَى أَنْ انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى صَبِيٍّ لَهَا مُرْضَعٍ، وَكَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ مِنْ أَجْلِهِ، قَالَ: يَا أُمَّهْ، اقْتَحِمِي، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ. فَاقْتَحَمَتْ". قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ صِغَارٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ، وَابْنُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس رات مجھے معراج ہوئی، مجھے دوران سفر ایک جگہ سے بڑی بہترین خوشبو آئی، میں نے پوچھا: جبریل! یہ کیسی خوشبو ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خادمہ اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے، میں نے پوچھا کہ اس کا قصہ تو بتائیے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یہ خادمہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی، اچانک اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی، اس نے بسم اللہ کہہ کر اسے اٹھا لیا، فرعون کی بیٹی کہنے لگی کہ اس سے مراد میرے والد صاحب ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ میرا اور تیرے باپ کا رب اللہ ہے، فرعون کی بیٹی نے کہا کہ میں اپنے والد کو یہ بات بتادوں گی؟ اس نے کہا کہ ضرور بتاؤ، فرعون کی بیٹی نے باپ تک یہ خبر پہنچائی، اس نے خادمہ کو طلب کر لیا۔ جب وہ خادمہ آئی تو فرعون کہنے لگا: اے فلانہ! کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے؟ اس نے کہا: ہاں! میرا اور تمہارا رب اللہ ہے، یہ سن کر فرعون نے تانبے کی ایک گائے بنانے کا حکم دیا اور اسے خوب دہکایا، اس کے بعد حکم دیا کہ اسے اور اس کی اولاد کو اس میں پھینک دیا جائے، خادمہ نے کہا: مجھے آپ سے ایک کام ہے، فرعون نے پوچھا: کیا کام ہے؟ اس نے کہا: میری خواہش ہے کہ جب ہم جل کر کوئلہ ہو جائیں تو میری اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں جمع کر کے دفن کر دینا، فرعون نے کہا کہ یہ تمہارا ہم پر حق ہے، (ہم ایساہی کریں گے)۔ اس کے بعد فرعون نے پہلے اس کے بچوں کو اس میں جھونکنے کا حکم دیا، چنانچہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس دہکتے ہوئے تنور میں ڈالا جانے لگا، یہاں تک کہ جب اس کے شیر خوار بچے کی باری آئی تو وہ اس کی وجہ سے ذرا ہچکچائی، یہ دیکھ کر اللہ کی قدرت اور معجزے سے وہ شیر خوار بچہ بولا: اماں جان! بےخطر اس میں کود جائیے کیونکہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے، چنانچہ اس نے اس میں چھلانگ لگا دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ چار بچوں نے بچپن (شیرخوارگی) میں کلام کیا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے، جریج کے واقعے والے بچے نے، حضرت یوسف علیہ السلام کے گواہ نے، اور فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خادمہ کے بیٹے نے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2821]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2822 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ مَرَّتْ بِهِ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ" فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2822]
حکم دارالسلام
إسناده حسن كسابقه
الحكم: إسناده حسن كسابقه
حدیث نمبر: 2823 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ، مَرَّتْ بِهِ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مَنْ رَبُّكِ؟ قَالَتْ: رَبِّي وَرَبُّكَ مَنْ فِي السَّمَاءِ. وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2823]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وانظر ما قبله وما بعده
الحكم: إسناده حسن، وانظر ما قبله وما بعده
حدیث نمبر: 2824 مسند احمد
هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2824]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2825 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، يَرْوِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ أَمْرًا فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَخْرُجُ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا، فَمَاتَ، إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2825]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7053، م: 1849
الحكم: حديث صحيح، خ: 7053، م: 1849
حدیث نمبر: 2826 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، أَبُو رَجَاءٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ.." فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2826]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1849
الحكم: إسناده صحيح، م: 1849
حدیث نمبر: 2827 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كَتَبَها اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ عَمِلَهَا، كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ، إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ أَوْ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُضَاعِفَ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا، كَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ اللہ نے نیکیاں اور گناہ لکھ دیئے ہیں، اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس کے لئے دس سے سات سو یا حسب مشیت الٰہی دوگنی چوگنی نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے، اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2827]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2828 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، شَرِيكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً؟ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكِ شَيْئًا، لِتَخْرُجْ رَاكِبَةً، وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری بہن نے پیدل حج کرنے کی منت مانی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری بہن کی اس سختی کا کیا کرے گا؟ اسے چاہیے کہ سواری پر سوار ہو کر حج کے لئے چلی جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2828]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 2829 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَسَعَى سَعياً، وَإِنَّمَا سَعَى أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے، اور سعی کے دوران بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2829]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4257، م: 1266
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4257، م: 1266
حدیث نمبر: 2830 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانَ يَكْرَهُ الْبُسْرَ وَحْدَهُ، وَيَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ عَنِ الْمُزَّاءِ، فَأَرْهَبُ أَنْ تَكُونَ الْبُسْرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما صرف کچی کھجور کھانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنوالقیس کے وفد کو مزاء سے منع کیا ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس سے مراد کچی کھجور ہی نہ ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2830]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 53، م: 17
الحكم: إسناده صحيح، خ: 53، م: 17
حدیث نمبر: 2831 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ لَهُمْ:" مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟" قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ" فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطا فرمائی تھی، جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری نسبت موسیٰ کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2831]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2004، م: 1130
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2004، م: 1130
حدیث نمبر: 2832 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ، أَوْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ. فَقَالَ" لَا حَرَجَ" قَالَ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَبَضَ بِكَفَّيْهِ كَأَنَّهُ يَرْمِي بِهَا، وَيَقُولُ:" لَا حَرَجَ، لَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں، اس دن تقدیم و تاخیر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا: کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2832]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307
الحكم: إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307
حدیث نمبر: 2833 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، عَطَاءٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ، فَقَامَ إِلَى كُلِّ سَارِيَةٍ، فَدَعَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، خانہ کعبہ میں اس وقت چھ ستون تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر ستون کے پاس کھڑے ہوئے اور دعا کی لیکن نماز نہیں پڑھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2833]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1331
الحكم: إسناده صحيح، م: 1331
حدیث نمبر: 2834 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ، لِتَرْكَبْ، وَلْتُهْدِ بَدَنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہو گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی اس منت سے بےنیاز ہے، اسے چاہئے کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2834]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2835 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سبعاً، وطاف سَعْياً، وَإِنَّمَا طَافَ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ"، وَقَالَ عَفَّانُ: وَلِذَا أَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے، اور سعی کے دوران بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2835]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1649، م: 1266
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1649، م: 1266
حدیث نمبر: 2836 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْوَتْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ". وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ؟ فَقَال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وتر کی ایک رکعت ہوتی ہے رات کے آخری حصے میں۔ پھر میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2836]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 753
الحكم: إسناده صحيح، م: 753
حدیث نمبر: 2837 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَبِيبُ بْنُ شِهَابٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ شِهَابٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ عِنْدَ بَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمَا؟ فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: انْطَلِقَا إِلَى نَاسٍ عَلَى تَمْرٍ وَمَاءٍ، إِنَّمَا يَسِيلُ كُلُّ وَادٍ بِقَدَرِهِ. قَالَ: قُلْنَا كَثُرَ خَيْرُكَ، اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ لَنَا فَسَمِعْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تَبُوكَ، فَقَالَ:" مَا فِي النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ، فَيُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَيَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ، وَمِثْلُ رَجُلٍ بَادٍ فِي غَنَمِهِ، يَقْرِي ضَيْفَهُ، وَيُؤَدِّي حَقَّهُ"، قَالَ: قُلْتُ: أَقَالَهَا؟ قَالَ: قَالَهَا. قَالَ: قُلْتُ: أَقَالَهَا؟ قَالَ: قَالَهَا. قَالَ: قُلْتُ: أَقَالَهَا؟ قَالَ: قَالَهَا. فَكَبَّرْتُ اللَّهَ، وَحَمِدْتُ اللَّهَ، وَشَكَرْتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شہاب عنبری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر کے دروازے پر ہی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے پوچھا: تم دونوں کون ہو؟ ہم نے انہیں اپنے متعلق بتایا، انہوں نے فرمایا کہ لوگ کھجوریں اور پانی کھا پی رہے ہیں، تم بھی وہاں چلے جاؤ، ہر وادی کا بہاؤ اس کی وسعت کے بقدر ہوتا ہے، ہم نے عرض کیا کہ آپ کی خیر میں اور اضافہ ہو، جب آپ اندر جائیں تو ہمارے لئے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اجازت لیجئے گا، چنانچہ انہوں نے ہمارے لئے بھی اجازت حاصل کی۔ اس موقع پر ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: لوگوں میں اس شخص کی مثال ہی نہیں ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے ہو، اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، اسی طرح وہ آدمی جو دیہات میں اپنی بکریوں میں مگن رہتا ہو، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتا ہو اور ان کا حق ادا کرتا ہو۔ میں نے تین مرتبہ ان سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے؟ اور انہوں نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے، اس پر میں نے اللہ اکبر کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2837]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح