عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ، أَوْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ. فَقَالَ" لَا حَرَجَ" قَالَ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَبَضَ بِكَفَّيْهِ كَأَنَّهُ يَرْمِي بِهَا، وَيَقُولُ:" لَا حَرَجَ، لَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ ”کوئی حرج نہیں“، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں“، اس دن تقدیم و تاخیر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا: ”کوئی حرج نہیں۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2832]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307
الحكم: إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307