بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2837
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2837
حدیث نمبر: 2837 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
رَوْحٌ ، حَبِيبُ بْنُ شِهَابٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ شِهَابٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ عِنْدَ بَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمَا؟ فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: انْطَلِقَا إِلَى نَاسٍ عَلَى تَمْرٍ وَمَاءٍ، إِنَّمَا يَسِيلُ كُلُّ وَادٍ بِقَدَرِهِ. قَالَ: قُلْنَا كَثُرَ خَيْرُكَ، اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ لَنَا فَسَمِعْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تَبُوكَ، فَقَالَ:" مَا فِي النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ، فَيُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَيَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ، وَمِثْلُ رَجُلٍ بَادٍ فِي غَنَمِهِ، يَقْرِي ضَيْفَهُ، وَيُؤَدِّي حَقَّهُ"، قَالَ: قُلْتُ: أَقَالَهَا؟ قَالَ: قَالَهَا. قَالَ: قُلْتُ: أَقَالَهَا؟ قَالَ: قَالَهَا. قَالَ: قُلْتُ: أَقَالَهَا؟ قَالَ: قَالَهَا. فَكَبَّرْتُ اللَّهَ، وَحَمِدْتُ اللَّهَ، وَشَكَرْتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شہاب عنبری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر کے دروازے پر ہی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے پوچھا: تم دونوں کون ہو؟ ہم نے انہیں اپنے متعلق بتایا، انہوں نے فرمایا کہ لوگ کھجوریں اور پانی کھا پی رہے ہیں، تم بھی وہاں چلے جاؤ، ہر وادی کا بہاؤ اس کی وسعت کے بقدر ہوتا ہے، ہم نے عرض کیا کہ آپ کی خیر میں اور اضافہ ہو، جب آپ اندر جائیں تو ہمارے لئے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اجازت لیجئے گا، چنانچہ انہوں نے ہمارے لئے بھی اجازت حاصل کی۔ اس موقع پر ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: لوگوں میں اس شخص کی مثال ہی نہیں ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے ہو، اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، اسی طرح وہ آدمی جو دیہات میں اپنی بکریوں میں مگن رہتا ہو، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتا ہو اور ان کا حق ادا کرتا ہو۔ میں نے تین مرتبہ ان سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے؟ اور انہوں نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے، اس پر میں نے اللہ اکبر کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2837]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2836) باب پر واپس اگلی حدیث (2838) →