بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 10 از 86
حدیث نمبر: 2018 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٌ ، الْحَسَنِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ كَذَا وَكَذَا، وَنِصْفَ صَاعٍ بُرًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فلاں فلاں چیز کا فطرانہ یہ مقرر فرمایا اور گندم کا نصف صاع مقرر فرمایا۔ فائدہ: اس حدیث کی مزید و ضاحت کے لئے حدیث نمبر 3291 دیکھئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2018]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس وقد عنعن.
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس وقد عنعن.
حدیث نمبر: 2019 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، أَبِي جَمْرَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو 13 رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2019]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1138، م: 764.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1138، م: 764.
حدیث نمبر: 2020 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، أَبُو جَمْرَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي جَمْرَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مِمَّنْ الْوَفْدُ، أَوْ قَالَ الْقَوْمُ؟" , قَالُوا: رَبِيعَةُ، قَالَ:" مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ قَالَ: الْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْنَاكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَلَسْنَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَنُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَسَأَلُوهُ عَنْ أَشْرِبَةٍ، فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ، قَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟" , قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ"، وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ: وَالْمُقَيَّرِ، قَالَ:" احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ان کا تعارف پوچھا، انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کو ہماری طرف سے خوش آمدید، یہاں آکر آپ رسوا ہوں گے اور نہ ہی شرمندہ، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لوگ دور دراز سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپ کی خدمت میں صرف اشہر حرم میں ہی حاضر ہو سکتے ہیں اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتا دیں؟ نیز انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شراب کے حوالے سے بھی سوال کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے پغمبر ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو بھجوانا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استعمال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گزر چکی ہے)، اور فرمایا کہ ان باتوں کو یاد رکھو اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی بتاؤ۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2020]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 53، م: 17 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 53، م: 17 .
حدیث نمبر: 2021 مسند احمد
يَحْيَى ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبُو جَمْرَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ، وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مبارک میں سرخ رنگ کی ایک چادر بچھائی گئی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2021]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 967.
الحكم: إسناده صحيح، م: 967.
حدیث نمبر: 2022 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ، عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ، قَالَ: فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ، قَالَ:" وَلِمَ" , قَالَ: لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے - جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے - پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2022]
حکم دارالسلام
رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب، ومع ذلك فقد قال الترمذي: حديث حسن صحيح. وقال الحاكم: صحيح الإسناد، وجود إسناده ابن كثير. قلنا: لعل هذا الحديث من صحيح احاديث سماك عن عكرمة.
الحكم: رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب، ومع ذلك فقد قال الترمذي: حديث حسن صحيح. وقال الحاكم: صحيح الإسناد، وجود إسناده ابن كثير. قلنا: لعل هذا الحديث من صحيح احاديث سماك عن عكرمة.
حدیث نمبر: 2023 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ بِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسُوقُ غَنَمًا لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا سَلَّمَ عَلَيْنَا إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنَّا، فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَأَتَوْا بِغَنَمِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ الْآيَةُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا سورة النساء آية 94".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچا لے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا، اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَتَبَيَّنُوا﴾ [النساء: 94] » اے ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو خوب چھان بین کر لو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2023]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 4591، م: 3025. رواية سماك عن عكرمة مضطربة، لكن سماكة قد توبع.
الحكم: صحيح لغيره، خ: 4591، م: 3025. رواية سماك عن عكرمة مضطربة، لكن سماكة قد توبع.
حدیث نمبر: 2024 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، طَاوُسٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، طَاوُسًا ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ , وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَال: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا ، يَقُولُ:" سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ , الْمَعْنَى عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: قَرَابَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : عَجِلْتَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ، إِلَّا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ قَرَابَةٌ، فَنَزَلَتْ: قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23 إِلَّا أَنْ تَصِلُوا قَرَابَةَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کا مطلب پوچھا: « ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ [الشورى: 23] » تو ان کے جواب دینے سے پہلے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ بول پڑے کہ اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم نے جلدی کی، قریش کے ہر خاندان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرابت داری تھی، جس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ میں اپنی اس دعوت پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر تم اتنا تو کرو کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اسے جوڑے رکھو اور اسی کا خیال کر لو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2024]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 3497.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 3497.
حدیث نمبر: 2025 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَنَسِيتُ اسْمَهَا:" مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا الْعَامَ؟" , قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّمَا كَانَ لَنَا نَاضِحَانِ فَرَكِبَ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا نَاضِحًا وَتَرَكَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي فِيهِ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کی ایک عورت سے - جس کا نام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا تھا لیکن راوی بھول گئے - فرمایا کہ اس سال ہمارے ساتھ حج پر جانے سے آپ کو کس چیز نے روکا؟ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارے پاس پانی لانے والے دو اونٹ تھے، ایک پر میرا شوہر اور بیٹا سوار ہو کر حج کے لئے چلے گئے تھے اور ایک اونٹ ہمارے لئے چھوڑ گئے تھے تاکہ ہم اس پر پانی بھر سکیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آئے گا تو آپ اس میں عمرہ کر لینا کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2025]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1782، م: 1256 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1782، م: 1256 .
حدیث نمبر: 2026 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، أن أبا بكر" قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وصال کے بعد بوسہ دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2026]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4455.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4455.
حدیث نمبر: 2027 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، مُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُحْشَرُ النَّاسُ عُرَاةً حُفَاةً غُرْلًا، فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھائے جائیں گے، اور سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنایا جائے گا وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ﴾ [الأنبياء: 104] » ہم نے جس طرح مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا، اسی طرح ہم اسے دوبارہ بھی پیدا کریں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2027]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3349، م: 2860.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3349، م: 2860.
حدیث نمبر: 2028 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، أَبَا الْحَكَمِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟ فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، وَالدُّبَّاءِ، وقَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالحکم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ اور کدو کی تونبی سے منع فرمایا ہے، اس لئے جو شخص اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ نبیذ کو حرام سمجھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2028]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2029 مسند احمد
يَحْيَى ، فِطْرٍ ، أَبُو الطُّفَيْلِ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ فِطْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ، وَأَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: كَيْفَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قَالَ:" قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ، قدم رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى جَبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ بِهِمْ هَزْلًا، فَأَمَرَ بِهِمْ أَنْ يَرْمُلُوا لِيُرِيَهُمْ أَنَّ بِهِمْ قُوَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے، فرمایا: اس میں آدھا سچ ہے اور آدھاجھوٹ، میں نے عرض کیا: وہ کیسے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمل تو فرمایا ہے لیکن یہ سنت نہیں ہے، اور رمل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لائے تو مشرکین جبل قعیقعان نامی پہاڑ پر سے انہیں دیکھ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا کہ یہ لوگ آپس میں مسلمانوں کے کمزور ہونے کی باتیں کر رہے ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ مشرکین کو اپنی طاقت دکھا سکیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2029]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1649، م: 1266.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1649، م: 1266.
حدیث نمبر: 2030 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَوَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، أَبَا صَالِحٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَوَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ بَعْدَمَا كَبِرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" زَائِرَاتِ الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2030]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، دون ذكر السرج، وهذا إسناد ضعيف، أبو صالح بادام ضعيف عند الجمهور.
الحكم: حسن لغيره، دون ذكر السرج، وهذا إسناد ضعيف، أبو صالح بادام ضعيف عند الجمهور.
حدیث نمبر: 2031 مسند احمد
يَحْيَى ، عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ ، أَبَا حَسَنٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى أَبِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ عَتَقَا، هَلْ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَخْطُبَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمربن معتب کہتے ہیں کہ ابونوفل کے آزاد کردہ غلام ابوحسن نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی غلام کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے دو طلاقیں دے کر آزاد کر دے تو کیا وہ دوبارہ اس کے پاس پیغام نکاح بھیج سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2031]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عمر بن معتب ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف، عمر بن معتب ضعيف.
حدیث نمبر: 2032 مسند احمد
يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ؟" , قَالَ عَبْدِ اللهِ: قَالَ أَبِي: وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَلَا بَهْزٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2032]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفاً.
الحكم: صحيح موقوفاً.
حدیث نمبر: 2033 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَكَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا، وَالَّذِي يَقُولُ لَهُ: أَنْصِتْ لَيْسَ لَهُ جُمُعَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران بات چیت کرے تو اس کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس نے بہت سا بوجھ اٹھا رکھا ہو، اور جو اس بولنے والے سے کہے کہ خاموش ہو جاؤ، اس کا کوئی جمعہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2033]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مجالد ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف، مجالد ضعيف.
حدیث نمبر: 2034 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الثُّلُثُ كَثِيرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کاش! لوگ وصیت کرنے میں تہائی سے کمی کر کے چوتھائی کو اختیار کر لیں، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تہائی کو بھی زیادہ قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2034]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2743، م: 1629.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2743، م: 1629.
حدیث نمبر: 2035 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرًا بِمَكَّةَ، وَعَشْرًا بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: مَنْ يَقُولُ ذَلِكَ،" لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ عَشْرًا، وَخَمْسًا وَسِتِّينَ وَأَكْثَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر مکہ مکرمہ میں دس سال تک وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ منورہ میں بھی دس سال تک، انہوں نے فرمایا: کون کہتا ہے؟ یقینا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر مکہ مکرمہ وحی کا نزول دس سال ہوا ہے اور 65 یا اس سے زیادہ (سال انہوں نے عمر پائی ہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2035]
حکم دارالسلام
لعل هذا الحديث من منكرات العلاء بن صالح.
الحكم: لعل هذا الحديث من منكرات العلاء بن صالح.
حدیث نمبر: 2036 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" , قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ، قَالَ: أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ قَالُوا: بَلَدٌ حَرَامٌ، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" , قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ، قَالَ:" إِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، ثُمَّ أَعَادَهَا مِرَارًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ مِرَارًا" , قَالَ: يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللَّهِ إِنَّهَا لَوَصِيَّةٌ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرما: لوگو! یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ حرمت والا دن، پھر پوچھا کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: حرمت والا شہر، پھر پوچھا کہ یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: حرمت والا مہینہ، فرمایا: یاد رکھو! تمہارا مال و دولت، تمہاری جان اور تمہاری عزت ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسے اس دن کی حرمت، اس حرمت والے شہر اور اس حرمت والے مہینے میں، اس بات کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کئی مرتبہ دہرایا، پھر اپنا سر مبارک آسمان کی طرف بلند کر کے کئی مرتبہ فرمایا کہ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ واللہ! یہ ایک مضبوطی تھی پروردگار کی طرف، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یاد رکھو جو موجود ہے، وہ غائب تک یہ پیغام پہنچا دے، میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2036]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1739.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1739.
حدیث نمبر: 2037 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ الطَّحَّانُ الصَّغِيرُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ الطَّحَّانُ الصَّغِيرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ فِيمَا أُرَى إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلَبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص سانپوں کو اس ڈر سے چھوڑ دے کہ وہ پلٹ کر ہمارا پیچھا کریں گے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے، ہم نے جب سے ان کے ساتھ جنگ شروع کی ہے، اس وقت سے اب تک ان کے ساتھ صلح نہیں کی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2037]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.