بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 48 از 86
حدیث نمبر: 2778 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيُّ ، أَبَا نَضْرَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيُّ ، مِنْ أَنْفُسِهِمْ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مِنْ أَرْبَعٍ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتَنِ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْأَعْوَرِ الْكَذَّابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جامع بصرہ کے منبر پر رونق افروز تھے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے بعد چار چیزوں سے پناہ مانگتے تھے اور فرماتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْأَعْوَرِ الْكَذَّابِ» میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں اس کانے دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو بہت بڑا کذاب ہو گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2778]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4257، م: 1266
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4257، م: 1266
حدیث نمبر: 2779 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَوُادَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَوُادَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ظلم سے اپنی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2779]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، والد إبراهيم لم يسمع من ابن عباس
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، والد إبراهيم لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 2780 مسند احمد
مُوسَى ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى مَعَ رَجُلٍ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ، خَرَقَهُ , قَالَ: فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسری کے نام اپنا نامہ مبارک دے کر سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کے مطابق وہ خط کسری کے مقرر کردہ بحرین کے گورنر کو دیا تاکہ وہ اسے کسری کی خدمت میں (رواج کے مطابق) پیش کرے، چنانچہ گورنر بحرین نے کسری کی خدمت میں وہ خط پیش کر دیا، اس نے جب اس خط کو پڑھا تو اسے چاک کر دیا۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق سعید بن المسیب نے اس کے بعد یہ فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لئے بددعا فرمائی کہ اسے بھی اسی طرح مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2780]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 64
الحكم: إسناده صحيح، خ: 64
حدیث نمبر: 2781 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَدَبَّرْتُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُ مُخَوِّيًا، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سجدے کی حالت میں اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2781]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق
الحكم: صحيح لغيره، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق
حدیث نمبر: 2782 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا ، عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عُمْرَتِهِ، بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا , تَقُولُ: مَا يَتَبَاعَثُونَ مِنَ الْعَجَفِ , فَقَالَ أَصْحَابُهُ: لَوْ انْتَحَرْنَا مِنْ ظَهْرِنَا، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ، وَحَسَوْنَا مِنْ مَرَقِهِ، أَصْبَحْنَا غَدًا حِينَ نَدْخُلُ عَلَى الْقَوْمِ وَبِنَا جَمَامَةٌ؟ قَالَ:" لَا تَفْعَلُوا، وَلَكِنْ اجْمَعُوا لِي مِنْ أَزْوَادِكُمْ" , فَجَمَعُوا لَهُ، وَبَسَطُوا الْأَنْطَاعَ، فَأَكَلُوا حَتَّى تَوَلَّوْا، وَحَثَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي جِرَابِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَقَعَدَتْ قُرَيْشٌ نَحْوَ الْحِجْرِ، فَاضْطَبَعَ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ:" لَا يَرَى الْقَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً" , فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ دَخَلَ حَتَّى إِذَا تَغَيَّبَ بِالرُّكْنِ الْيَمَانِي، مَشَى إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ، فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: مَا يَرْضَوْنَ بِالْمَشْيِ، أَنَّهُمْ لَيَنْقُزُونَ نَقْزَ الظِّبَاءِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، فَكَانَتْ سُنَّةً , قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عمرہ کے لئے مر الظہران نامی جگہ کے قریب پہنچے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پتہ چلا کہ قریش ان کے متعلق یہ کہہ رہے ہیں کہ کمزوری کے باعث یہ لوگ کیا کر سکیں گے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ ہم اپنے جانور ذبح کرتے ہیں، اس کا گوشت کھائیں گے اور شوربہ پئیں گے، جب ہم مکہ مکرمہ میں مشرکین کے پاس داخل ہوں گے تو ہم میں توانائی آ چکی ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ تمہارے پاس جو کچھ بھی زاد سفر ہے، وہ میرے پاس لے کر آؤ، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنا اپنا توشہ لے آئے اور دستر خوان بچھا دیئے، سب نے مل کر کھانا کھایا (پھر بھی اس میں سے بچ گیا)، اور جب وہ وہاں سے واپس آگئے تو ان میں سے ہر ایک اپنے چمڑے کے برتنوں میں اسے بھر بھر کر بھی لے گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ مسجد حرام میں داخل ہو گئے، مشرکین حطیم کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی چادر سے اضطباع کیا (یعنی چادر کو دائیں کندھے کے نیچے سے گذار کر اسے بائیں کندھے پر ڈال لیا اور دائیں کندھے کو خالی کر لیا) اور فرمایا کہ یہ لوگ تم میں کمزوری محسوس نہ کرنے پائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا اور طواف شروع کر دیا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکن یمانی پر پہنچے تو حجر اسود والے کونے تک اپنی عام رفتار سے چلے، مشرکین یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ تو چلنے پر راضی ہی نہیں ہو رہے، یہ تو ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے ہیں، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چکروں میں کیا، اس اعتبار سے یہ سنت ہے۔ ابوالطفیل کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اس طرح کیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2782]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2783 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ ، أَبِي الْجَوْزَاءِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَتْ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَسْتَقْدِمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا، وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ، فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهَا وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ سورة الحجر آية 24".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک خوبصورت عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جس کی وجہ سے بعض لوگ تو اگلی صفوں میں جگہ تلاش کرتے تھے تاکہ اس پر نظر نہ پڑ جائے، اور بعض لوگ پچھلی صف میں جگہ تلاش کرتے تاکہ آخری صف میں جگہ مل جائے اور جب رکوع کریں تو بغلوں کے نیچے سے اسے بھی جھانک کر دیکھ سکیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ﴾ [الحجر: 24] » ہم تم لوگوں میں سے آگے بڑھنے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے رہنے والوں کو بھی جانتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2783]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف و متنه منكر، عمرو بن مالك الذكري لا يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان
الحكم: إسناده ضعيف و متنه منكر، عمرو بن مالك الذكري لا يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان
حدیث نمبر: 2784 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبَّادٌ ، هِلَالٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْيَهُودِ أَهْدَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَسْمُومَةً، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَقَالَ:" مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ؟" قَالَتْ: أَحْبَبْتُ أَوْ أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّ اللَّهَ سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَبِيًّا أُرِيحُ النَّاسَ مِنْكَ!. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، احْتَجَمَ. قَالَ:" فَسَافَرَ مَرَّةً، فَلَمَّا أَحْرَمَ، وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَاحْتَجَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی عورت نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بکری کا گوشت زہر ملا کر پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ایک آدھ لقمہ کھایا اور اسی وقت کھانا چھوڑ دیا اور) اس عورت کو بلا بھیجا، اور اس سے پوچھا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا؟ اس نے کہا کہ میرا یہ ارادہ اس لئے بنا کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو اللہ آپ کو اس پر مطلع کر دے گا اور اگر آپ نبی نہیں ہیں تو میرے ذریعے لوگوں کو آپ سے نجات مل جائے گی۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب بھی اس زہر کے اثرات محسوس ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سینگی لگوا لیتے، یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر پر روانہ ہوئے اور احرام باندھ لیا، تو اس کے کچھ اثرات محسوس ہوئے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2784]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2785 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ: جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا، وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ، وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ، وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ، أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ: جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا، وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ، وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ نامی گاؤں کی بالائی اور نشیبی کانیں اور قدس نامی پہاڑ کی قابل کاشت زمین بطور جاگیر کے عطا فرمائی اور یہ کسی مسلمان کا حق نہیں تھا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دے دیا ہو، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے یہ تحریر لکھوا دی جس کے شروع میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون ہے کہ یہ تحریر جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کے لئے لکھی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے بلال کو قبلیہ نامی گاؤں کی بالائی اور نشیبی کانیں اور قدس نامی پہاڑ کی قابل کاشت زمین جاگیر کے طور پر دے دی ہے اور انہیں کسی مسلمان کا حق (مار کر) نہیں دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2785]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو أويس فيه كلام من جهة حفظه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو أويس فيه كلام من جهة حفظه
حدیث نمبر: 2786 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ بْنِ بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2786]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو أويس ضعيف من جهة حفظه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو أويس ضعيف من جهة حفظه
حدیث نمبر: 2787 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، وَيُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ" اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ، فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا، وَمَشَوْا أَرْبَعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے چند صحابہ رضی اللہ عنہم نے جعرانہ سے عمرہ کیا، اور طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکر عام رفتار سے مکمل کئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2787]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2788 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَطَاءٍ الْعَطَّارِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْعَطَّارِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ديناراً، فَنِصْفُ دِينَارٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2788]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف جدا
الحكم: صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف جدا
حدیث نمبر: 2789 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَرْمَلَةَ ، كُرَيْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ " أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُوهُ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ. فَقَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا، وَصَامَ مُعَاوِيَةُ. فَقَالَ: لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكَمِّلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ. فَقُلْتُ: أَوَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ فَقَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں شام بھیجا، میں نے وہاں پہنچ کر اپنا کام کیا، ابھی میں شام ہی میں تھا کہ ماہ رمضان کا چاند نظر آ گیا، ہم نے شب جمعہ کو چاند دیکھا تھا، مہینہ کے آخر میں جب میں مدینہ منورہ واپس آیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کام کے متعلق پوچھا، پھر چاند کا تذکرہ چھڑ گیا، انہوں نے پوچھا کہ تم لوگوں نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: شب جمعہ کو، انہوں نے پوچھا: کیا تم نے خود بھی دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں! اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا تھا، لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس کے مطابق روزہ رکھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لیکن ہم نے تو ہفتہ کی رات کو چاند دیکھا ہے (اگلے دن ہفتہ تھا) اس لے ہم اس وقت تک مسلسل روزے رکھتے رہیں گے جب تک تیس روزے پورے نہ ہو جائیں یا چاند نظر نہ آ جائے، میں نے عرض کیا کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی رؤیت اور روزے پر آپ اکتفاء نہیں کر سکتے؟ فرمایا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے۔ (یہیں سے فقہاء نے اختلاف مطالع کا مسئلہ اخذ کیا ہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2789]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1087
الحكم: إسناده صحيح، م: 1087
حدیث نمبر: 2790 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ" مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کر لیتے ہیں، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2790]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2791 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، ثَوْرٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2791]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2792 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، وَيُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ، فَاضْطَبَعُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ". حَدَّثَنَا يُونُسُ: جَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ، قَالَ يُونُسُ: وَقَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمْ الْيُسْرَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے جعرانہ سے عمرہ کیا اور طواف کے دوران اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اضطباع کیا اور انہیں اپنے بائیں کندھوں پر ڈال لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2792]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2793 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، وَيُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ: إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي اعْتَمَرَ فِيهِ، قَالَ لِأَصْحَابِه:" ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا لِيَرَ الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَكُمْ" فَلَمَّا رَمَلُوا، قَالَتْ قُرَيْشٌ: مَا وَهَنَتْهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین استہزاء کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کو پہلے تین چکروں میں رمل کرنے کا حکم دے دیا، تاکہ مشرکین ان کی طاقت دیکھ سکیں، چنانچہ انہیں رمل کرتے ہوئے دیکھ کر مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر نہیں کیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2793]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2794 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ" إِنَّ جِبْرِيلَ ذَهَبَ بِإِبْرَاهِيمَ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَسَاخَ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَسَاخَ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَسَاخَ، فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ إِسْحَاقَ، قَالَ لِأَبِيهِ: يَا أَبَتِ، أَوْثِقْنِي لَا أَضْطَرِبُ، فَيَنْتَضِحَ عَلَيْكَ مِنْ دَمِي إِذَا ذَبَحْتَنِي. فَشَدَّهُ، فَلَمَّا أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ، نُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا سورة الصافات آية 53 - 105.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لے کر جمرہ عقبہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں شیطان ان کے سامنے آ گیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں دے ماریں اور وہ دور ہو گیا، جمرہ وسطی کے قریب وہ دوبارہ ظاہر ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے پھر سات کنکریاں ماریں، یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹایا تھا، جمرہ اخیرہ کے قریب بھی یہی ہوا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسحاق (صحیح قول کے مطابق اسماعیل) کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: اباجان! مجھے باندھ دیجئے تاکہ میں حرکت نہ کر سکوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ پر میرے خون کے چھینٹے پڑیں، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور جب چھری پکڑ کر انہیں ذبح کرنے لگے تو ان کے پیچھے سے کسی نے آواز لگائی: اے ابراہیم! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2794]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عطاء بن السائب اختلط
الحكم: إسناده ضعيف، عطاء بن السائب اختلط
حدیث نمبر: 2795 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ" الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حجر اسود جنت سے آیا ہے، یہ پتھر پہلے برف سے بھی زیادہ سفید تھا، مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2795]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاختلاط عطاء، وقوله: الحجر الأسود من الجنة صحيح بشواهده
الحكم: إسناده ضعيف لاختلاط عطاء، وقوله: الحجر الأسود من الجنة صحيح بشواهده
حدیث نمبر: 2796 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ" لَيُبْعَثَنَّ الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، وَيَشْهَدُ عَلَى مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا، اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا، اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2796]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2797 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ:" يُبْعَثُ الرُّكْنُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2797]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح