سُرَيْجٌ ، وَيُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ: إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي اعْتَمَرَ فِيهِ، قَالَ لِأَصْحَابِه:" ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا لِيَرَ الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَكُمْ" فَلَمَّا رَمَلُوا، قَالَتْ قُرَيْشٌ: مَا وَهَنَتْهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین استہزاء کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کو پہلے تین چکروں میں رمل کرنے کا حکم دے دیا، تاکہ مشرکین ان کی طاقت دیکھ سکیں، چنانچہ انہیں رمل کرتے ہوئے دیکھ کر مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر نہیں کیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2793]
الحكم: إسناده صحيح