بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 47 از 86
حدیث نمبر: 2758 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" فَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، أَقَامَ فِيهَا سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سترہ دن تک ٹھہرے رہے لیکن نماز دو دو رکعت کر کے ہی پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2758]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2759 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَنْ وَلَدَتْ مِنْهُ أَمَتُهُ، فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ" , أَوْ قَالَ:" بَعْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آزاد ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2759]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع وحسين بن عبدالله ضعيف
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع وحسين بن عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 2760 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، حُسَيْنٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ، يَتَّقِي بِفُضُولِهِ بَرْدَ الْأَرْضِ وَحَرَّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کپڑے میں - اسے اچھی طرح لپیٹ کر - نماز پڑھی، اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2760]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وحسين ضعيف
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وحسين ضعيف
حدیث نمبر: 2761 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2761]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2762 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: إِنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ، فَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى، وَنَائِلَةَ وَإِسَافٍ لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا، لَقَدْ قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ , فَأَقْبَلَتْ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا تَبْكِي، حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ، قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ، لَوْ قَدْ رَأَوْكَ، لَقَدْ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ، فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ , فَقَالَ:" يَا بُنَيَّةُ، أَرِينِي وَضُوءًا" , فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: هَا هُوَ ذَا، وَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ، وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ، وَعَقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ بَصَرًا، وَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ مِنْهُمْ رَجُلٌ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ، فَقَالَ:" شَاهَتْ الْوُجُوهُ" , ثُمَّ حَصَبَهُمْ بِهَا، فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةٌ إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سرداران قریش ایک مرتبہ حطیم میں جمع ہوئے اور لات، عزی، منات، نائلہ اور اساف نامی اپنے معبودان باطلہ کے نام پر یہ عہد و پیمان کیا کہ اگر ہم نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ لیا تو ہم سب اکٹھے کھڑے ہوں گے اور انہیں قتل کئے بغیر ان سے جدا نہ ہوں گے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سن لی، وہ روتی ہوئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ سرداران قریش آپ کے متعلق یہ عہد و پیمان کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ آگے بڑھ کر آپ کو قتل کر دیں گے، اور ان میں سے ہر ایک آپ کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: بیٹی! ذرا وضو کا پانی تو لاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد حرام میں تشریف لے گئے، ان لوگوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: وہ یہ رہے، لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ انہوں نے اپنی نگاہیں جھکا لیں، اور ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں پر لٹک گئیں، اور وہ اپنی اپنی جگہ پر حیران پریشان بیٹھے رہ گئے، وہ نگاہ اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ سکے اور نہ ہی ان میں سے کوئی آدمی اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف بڑھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف چلتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں کے پاس پہنچ کر کھڑے ہو گئے اور ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور فرمایا: یہ چہرے بگڑ جائیں اور وہ مٹی ان پر پھینک دی، جس جس شخص پر وہ مٹی گری، وہ جنگ بدر کے دن کفر کی حالت میں مارا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2762]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2763 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ ، قَيْسَ بْنَ الْحَجَّاجِ ، حَنَشًا ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ الْحَجَّاجِ حَدَّثَهُ، أَنَّ حَنَشًا حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" يَا غُلَامُ، إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا، احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إِذَا سَأَلْتَ، فَاسْأَلْ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، فَقَدْ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ، وَجَفَّتْ الْكُتُبُ، فَلَوْ جَاءَتْ الْأُمَّةُ يَنْفَعُونَكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ، لَمَا اسْتَطَاعَتْ، وَلَوْ أَرَادَتْ أَنْ تَضُرَّكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ لَكَ، مَا اسْتَطَاعَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھا رہا ہوں، اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی) اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو، اور جان رکھو کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2763]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ لكن رواه عنه ابن المقرئ، وهو ممن روى عنه قبل احتراق كتبه ، ثم هو متابع
الحكم: حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ لكن رواه عنه ابن المقرئ، وهو ممن روى عنه قبل احتراق كتبه ، ثم هو متابع
حدیث نمبر: 2764 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، حَنَشٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، قَالَ يَحْيَى , عَنِ الْأَعْرَجِ، وَلَمْ يَقُلْ مُوسَى , عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فَيُهَرِيقُ الْمَاءَ , فَيَتَمَسَّحُ بِالتُّرَابِ، فَأَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ , قَالَ:" مَا أَدْرِي، لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ". قَالَ يَحْيَى مَرَّةً أُخْرَى: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ، فَأُهْرَاقَ الْمَاءَ، فَتَيَمَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ الْمَاءَ مِنَّا قَرِيبٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے نکلتے ہیں، پانی بہاتے ہیں اور تیمم کر لیتے ہیں، میں عرض کرتا ہوں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پانی آپ کے قریب موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: مجھے کیا پتہ تھا؟ شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2764]
حکم دارالسلام
حسن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواه عنه ابن المبارك، وراويته عنه صالحة
الحكم: حسن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواه عنه ابن المبارك، وراويته عنه صالحة
حدیث نمبر: 2765 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو كُدَيْنَةَ ، الْأَعْمَشِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِمِنًى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منیٰ میں پانچ نمازیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2765]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2766 مسند احمد
أَسْوَدُ ، هُرَيْمٌ ، لَيْثٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ، وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اچھا نام پسند آتا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2766]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف ليث بن أبى سليم
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 2767 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، أخبرني عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَامَ وَرَاءَهُ وَجَعَلَ يَحُلُّهُ، وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا، كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جنہوں نے پیچھے سے اپنے سر کے بالوں کا جوڑا بنا رکھا تھا، وہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہوئے اور ان بالوں کو کھولنے لگے، عبداللہ نے انہیں وہ بال کھولنے دیئے، نماز سے فارغ ہو کر وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ آپ کو میرے سر سے کیا غرض ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس طرح نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2767]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 492. رشدين ضعيف، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 492. رشدين ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2768 مسند احمد
مُعَاوِيةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي مُعَاوِيةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حدثنا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اجْتَنِبُوا أَنْ تَشْرَبُوا فِي الْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَاشْرَبُوا فِي السِّقَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حنتم، دباء اور مزفت میں پانی پینے سے اجتناب کرو اور مشکیزوں میں پیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2768]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2769 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ، لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ فَارِسُ عَلَى الرُّومِ، لِأَنَّهُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ لِأَبِي بَكْرٍ، فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهُمْ سَيَهْزِمُونَ" , فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لَهُمْ، فَقَالُوا: اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا، فَإِنْ ظَهَرُوا، كَانَ لَكَ كَذَا وَكَذَا، وَإِنْ ظَهَرْنَا، كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا , فَجَعَلَ بَيْنَهُمْ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ، فَلَمْ يَظْهَرُوا، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَا جَعَلْتَهُ، أُرَاهُ، قَالَ: دُونَ الْعَشْرِ" , قَالَ: وَقَالَ سَعِيدٌ: الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ، قَالَ: فَظَهَرَتْ الرُّومُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ سورة الروم آية 1 - 4 , قَالَ: فَغُلِبَتْ الرُّومُ، بَعْدُ ثُمَّ غَلَبَتْ بَعْدُ، قَالَ: لِلَّهِ الأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ سورة الروم آية 4 - 5 , قَالَ: يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ مشرکین کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ اہل فارس اہل روم پر غالب آ جائیں، کیونکہ اہل فارس بت پرست تھے، جبکہ مسلمانوں کی خواہش یہ تھی کہ رومی فارسیوں پر غالب آ جائیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے، انہوں نے یہ بات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ذکر کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رومی ہی غالب آئیں گے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قریش کے سامنے یہ پیشین گوئی ذکر کر دی، وہ کہنے لگے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کر لیں، اگر ہم یعنی ہمارے خیال کے مطابق فارسی غالب آ گئے تو آپ ہمیں اتنا اتنا دیں گے، اور اگر آپ یعنی آپ کے خیال کے مطابق رومی غالب آ گئے تو ہم آپ کو اتنا اتنا دیں گے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پانچ سال کی مدت مقرر کر لی، لیکن اس دوران رومی غالب ہوتے ہوئے دکھائی نہ دیئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ نے دس سال کے اندر اندر کی مدت کیوں نہ مقرر کی۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ در اصل قرآن میں «بضع» کا جو لفظ آیا ہے اس کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے، چنانچہ اس عرصے میں رومی غالب آ گئے اور سورہ روم کی ابتدائی آیات کا یہی پس منظر ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2769]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2770 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، دُوَيْدٌ ، سَلْمِ بْنِ بَشِيرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا دُوَيْدٌ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْتَقَى مُؤْمِنَانِ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مُؤْمِنٌ غَنِيٌّ، وَمُؤْمِنٌ فَقِيرٌ، كَانَا فِي الدُّنْيَا، فَأُدْخِلَ الْفَقِيرُ الْجَنَّةَ , وَحُبِسَ الْغَنِيُّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُحْبَسَ، ثُمَّ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، فَلَقِيَهُ الْفَقِيرُ، فَيَقُولُ: أَيْ أَخِي، مَاذَا حَبَسَكَ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ احْتُبِسْتَ حَتَّى خِفْتُ عَلَيْكَ , فَيَقُولُ: أَيْ أَخِي، إِنِّي حُبِسْتُ بَعْدَكَ مَحْبِسًا فَظِيعًا كَرِيهًا، وَمَا وَصَلْتُ إِلَيْكَ حَتَّى سَالَ مِنِّي الْعَرَقُ، مَا لَوْ وَرَدَهُ أَلْفُ بَعِيرٍ، كُلُّهَا آكِلَةُ حَمْضٍ، لَصَدَرَتْ عَنْهُ رِوَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو مسلمانوں کی جنت کے دروازے پر ملاقات ہوئی، دنیا میں ان میں سے ایک مالدار تھا اور دوسرا غریب، فقیر تو جنت میں داخل ہو گیا اور مالدار کو روک لیا گیا، اور جب تک اللہ کو منظور ہوا، اسے روکے رکھا گیا، پھر وہ بھی جنت میں داخل ہو گیا، وہاں اس کی ملاقات اس غریب سے ہوئی، اس غریب آدمی نے اس سے پوچھا کہ بھائی! آپ کو کس وجہ سے اتنی دیر ہوگئی؟ واللہ! آپ نے تو اتنی دیر کر دی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا، اس نے جواب دیا کہ بھائی! آپ کے بعد مجھے اس طرح روکا گیا جو انتہائی سخت اور ناگوار مرحلہ تھا، اور آپ تک پہنچنے سے پہلے میرے جسم سے اتنا پسینہ بہا ہے کہ اگر ایک ہزار بھوکے پیاسے اونٹ بھی ہوتے اور وہ اس پسینے کو پانی کی جگہ پیتے تو سیراب ہو جاتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2770]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، دويد مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، دويد مجهول
حدیث نمبر: 2771 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجْعَلُ نَبِيذَهُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ كَأَنَّهَا قَارُورَةٌ، غُدْوةً، وَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ: لَا، انْتَهُوا عَمَّا نَهَاكُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت کے استعمال سے، نیز اس بات سے منع فرمایا کہ وہ کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں، راوی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی صبح کے وقت شیشی جیسے سبز مٹکے میں نبیذ رکھے اور رات کو پی لے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم اس چیز سے باز نہیں آؤگے جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا ہے؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2771]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف يزيد بن عطاء وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف يزيد بن عطاء وقد توبع
حدیث نمبر: 2772 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَدْ اشْتَكَى فَطَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ، وَمَعَهُ مِحْجَنٌ , كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ اسْتَلَمَهُ بِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ، أَنَاخَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی تکلیف کی بنا پر اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طواف سے فارغ ہو کر اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور دوگانہ طواف کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2772]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، لضعف يزيد بن عطاء ويزيد بن أبى زياد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، لضعف يزيد بن عطاء ويزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 2773 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُبَاشِرْ الرَّجُلُ الرَّجُلَ، وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی مرد برہنہ جسم کے ساتھ دوسرے برہنہ جسم مرد کے ساتھ مت لیٹے، اسی طرح کوئی برہنہ جسم عورت کسی برہنہ جسم عورت کے ساتھ نہ لیٹے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2773]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، رواية سماك عن عكرمة مضطربة، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، رواية سماك عن عكرمة مضطربة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2774 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ؟ فَنَزَلَتْ: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہو گیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے پیتے تھے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ [المائدة: 93] » ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھا لیا (یا پی لیا)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2774]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2775 مسند احمد
خَلَفٌ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ [البقرة: 143] » اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2775]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2776 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، شَرِيكٌ ، مُخَوَّلٍ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُخَوَّلٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوتِرُ بِثَلَاثٍ ب ِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و َقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورہ اعلی، سورہ کافرون اور سورہ اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2776]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2777 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ: الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ، وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ، وَأَطْرَافِ الْأَصَابِعِ، وَلَا أَكُفَّ الثِّيَابَ، وَلَا الشَّعَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، پھر انہوں نے ناک، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کی طرف اشارہ کیا، نیز کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2777]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
الحكم: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490