حُسَيْنٌ ، دُوَيْدٌ ، سَلْمِ بْنِ بَشِيرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا دُوَيْدٌ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْتَقَى مُؤْمِنَانِ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مُؤْمِنٌ غَنِيٌّ، وَمُؤْمِنٌ فَقِيرٌ، كَانَا فِي الدُّنْيَا، فَأُدْخِلَ الْفَقِيرُ الْجَنَّةَ , وَحُبِسَ الْغَنِيُّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُحْبَسَ، ثُمَّ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، فَلَقِيَهُ الْفَقِيرُ، فَيَقُولُ: أَيْ أَخِي، مَاذَا حَبَسَكَ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ احْتُبِسْتَ حَتَّى خِفْتُ عَلَيْكَ , فَيَقُولُ: أَيْ أَخِي، إِنِّي حُبِسْتُ بَعْدَكَ مَحْبِسًا فَظِيعًا كَرِيهًا، وَمَا وَصَلْتُ إِلَيْكَ حَتَّى سَالَ مِنِّي الْعَرَقُ، مَا لَوْ وَرَدَهُ أَلْفُ بَعِيرٍ، كُلُّهَا آكِلَةُ حَمْضٍ، لَصَدَرَتْ عَنْهُ رِوَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو مسلمانوں کی جنت کے دروازے پر ملاقات ہوئی، دنیا میں ان میں سے ایک مالدار تھا اور دوسرا غریب، فقیر تو جنت میں داخل ہو گیا اور مالدار کو روک لیا گیا، اور جب تک اللہ کو منظور ہوا، اسے روکے رکھا گیا، پھر وہ بھی جنت میں داخل ہو گیا، وہاں اس کی ملاقات اس غریب سے ہوئی، اس غریب آدمی نے اس سے پوچھا کہ بھائی! آپ کو کس وجہ سے اتنی دیر ہوگئی؟ واللہ! آپ نے تو اتنی دیر کر دی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا، اس نے جواب دیا کہ بھائی! آپ کے بعد مجھے اس طرح روکا گیا جو انتہائی سخت اور ناگوار مرحلہ تھا، اور آپ تک پہنچنے سے پہلے میرے جسم سے اتنا پسینہ بہا ہے کہ اگر ایک ہزار بھوکے پیاسے اونٹ بھی ہوتے اور وہ اس پسینے کو پانی کی جگہ پیتے تو سیراب ہو جاتے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2770]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، دويد مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، دويد مجهول