بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 86 از 86
حدیث نمبر: 3538 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَضْمَضَ مِنْ لَبَنٍ، وَقَالَ:" إِنَّ لَهُ دَسَمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3538]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 211، م: 358
الحكم: إسناده صحيح، خ: 211، م: 358
حدیث نمبر: 3539 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَجْوَدِ النَّاسِ، وَأَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ يُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، أَجْوَدَ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے، اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ان کی ملاقات ہوتی، اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3539]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6، م: 2308
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6، م: 2308
حدیث نمبر: 3540 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3540]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900
حدیث نمبر: 3541 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، حُصَيْنٍ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَلَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَخَذَ سِوَاكَهُ، فَاسْتَاكَ بِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة البقرة آية 164، حَتَّى قَرَأَ هَذِهِ الْآيَاتِ، وَانْتَهَى عِنْدَ آخِرِ السُّورَةِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، حَتَّى سَمِعْتُ نَفْخَ النَّوْمِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، فَاسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ، وَهُوَ يَقُولُ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَهُوَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ أَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں رات گزاری، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے تو مسواک فرمائی، وضو کیا اور سورہ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جن میں طویل قیام اور رکوع و سجود کیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، پھر بیدار ہو کر وہی عمل دہرایا اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ نماز پڑھانے کے لئے چلے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں یہ دعا کرنے لگے: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ أَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا اَللّٰهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا» اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے، میرے کان، میری آنکھ، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے آگے، میرے پیچھے، میرے اوپر اور میرے نیچے نور پیدا فرما اور مجھے زیادہ سے زیادہ نور عطا فرما۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3541]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 763
الحكم: إسناده صحيح، م: 763
حدیث نمبر: 3542 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بَلْجٍ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ خَدِيجَةَ عَلِيٌّ". وَقَالَ مَرَّةً: أَسْلَمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد بچوں میں سب سے پہلے نماز پڑھنے والے یا اسلام قبول کرنے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3542]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، انظر برقم: 3061
الحكم: إسناده ضعيف، انظر برقم: 3061
حدیث نمبر: 3543 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3543]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5035
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5035
حدیث نمبر: 3544 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْحَكَمُ ، وَأَبُو بِشْرٍ ، مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ وَأَبُو بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3544]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1934
الحكم: إسناده صحيح، م: 1934
حدیث نمبر: 3545 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَابِتٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ثَابِتٌ ، هِلَالٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ . وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيتُ اللَّيَالِيَ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: الْمُتَتَابِعَةَ، طَاوِيًا، وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً، وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کئی کئی راتیں مسلسل اس طرح خالی پیٹ گزار دیتے تھے کہ اہل خانہ کو رات کا کھانا نہیں ملتا تھا، اور اکثر انہیں کھانے کے لئے جو کی روٹی ملتی تھی وہ جو کی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3545]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3546 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَسَنٌ ، ثَابِتٌ ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، هِلَالٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ حَسَنٌ أَبُو زَيْدٍ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ لَيْلَتِهِ، فَحَدَّثَهُمْ بِمَسِيرِهِ، وَبِعَلَامَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَبِعِيرِهِمْ، فَقَالَ نَاسٌ، قَالَ حَسَنٌ: نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا يَقُولُ؟! فَارْتَدُّوا كُفَّارًا، فَضَرَبَ اللَّهُ أَعْنَاقَهُمْ مَعَ أَبِي جَهْلٍ، وَقَال أَبُو جَهْلٍ: يُخَوِّفُنَا مُحَمَّدٌ بِشَجَرَةِ الزَّقُّومِ! هَاتُوا تَمْرًا وَزُبْدًا، فَتَزَقَّمُوا. وَرَأَى الدَّجَّالَ فِي صُورَتِهِ رُؤْيَا عَيْنٍ، لَيْسَ رُؤْيَا مَنَامٍ، وَعِيسَى، وَمُوسَى، وَإِبْرَاهِيمَ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ؟ فَقَالَ:" أَقْمَرُ هِجَانًا، قَالَ حَسَنٌ: قَالَ: رَأَيْتُهُ فَيْلَمَانِيًّا أَقْمَرَ هِجَانًا، إِحْدَى عَيْنَيْهِ قَائِمَةٌ، كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ، كَأَنَّ شَعْرَ رَأْسِهِ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ، وَرَأَيْتُ عِيسَى شَابًّا أَبْيَضَ، جَعْدَ الرَّأْسِ، حَدِيدَ الْبَصَرِ، مُبَطَّنَ الْخَلْقِ، وَرَأَيْتُ مُوسَى أَسْحَمَ آدَمَ، كَثِيرَ الشَّعْرِ، قَالَ حَسَنٌ الشَّعَرَةِ، شَدِيدَ الْخَلْقِ، وَنَظَرْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَلَا أَنْظُرُ إِلَى إِرْبٍ مِنْ آرَابِهِ، إِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ مِنِّي، كَأَنَّهُ صَاحِبُكُمْ، فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام سَلِّمْ عَلَى مَالِكٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شب معراج بیت المقدس کی سیر کرائی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی رات واپس بھی آگئے اور قریش کو اپنے جانے کے متعلق اور بیت المقدس کی علامات اور ان کے ایک قافلے کے متعلق بتایا، کچھ لوگ یہ کہنے لگے کہ کیا محمد کی اس بات کی ہم تصدیق کر سکتے ہیں، یہ کہہ کر وہ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، اللہ تعالیٰ نے ابوجہل کے ساتھ ان کی گردنیں بھی مار دیں۔ ایک مرتبہ ابوجہل نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں تھوہڑ کے درخت سے ڈراتے ہیں، تم میرے پاس کھجور اور جھاگ لے کر آؤ، میں تمہیں تھوہڑ بنا کر دکھاتا ہوں۔ اسی شب معراج میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دجال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا - جو خواب میں دیکھنا نہ تھا - نیز حضرت عیسی، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام کی بھی زیارت فرمائی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے دجال کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے بڑے ڈیل ڈول کا اور سبزی مائل سفید رنگ والا پایا، اس کی ایک آنکھ قائم تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کوئی چمکتا ہوا موتی ہو اور اس کے سر کے بال کسی درخت کی ٹہنیوں کی طرح تھے۔ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ سفید رنگ کے جوان تھے، ان کے سر کے بال گھنگھریالے تھے، نگاہیں تیز تھیں، جسمانی اعتبار سے پتلے پیٹ والے تھے، میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ انتہائی گندمی رنگ اور گھنے بالوں والے تھے اور جسمانی اعتبار سے بڑے مضبوط تھے، نیز میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، ان کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہ تھا جو میں نے ان میں دیکھا ہو اور اپنے آپ میں وہ عضو اسی طرح نہ دیکھا ہو، گویا وہ ہو بہو تمہارے پیغمبر کی طرح ہیں، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: مالک کو - جو داروغہ جہنم ہے - سلام کیجئے، چنانچہ میں نے انہیں سلام کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3546]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3547 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَسَنٌ ، ثَابِتٌ ، هِلَالٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ أَن عِكْرِمَةَ سُئِلَ، قَالَ حَسَنٌ: سَأَلْتُ عِكْرِمَةَ عَنِ الصَّائِمِ، أَيَحْتَجِمُ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا كُرِهَ لِلضَّعْفِ، وَحَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ حَسَنٌ ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، مِنْ أَكْلَةٍ أَكَلَهَا مِنْ شَاةٍ مَسْمُومَةٍ، سَمَّتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی اور اس کی وجہ زہریلی بکری کا وہ لقمہ تھا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھا لیا تھا اور خیبر کی ایک عورت نے اس میں زہر ملا دیا تھا۔
تنبیہ: یہاں آ کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مرویات مکمل ہو گئیں، آگے مسند کو عبداللہ بن احمد رحمہ اللہ سے نقل کرنے والے ابوبکر القطیعی رحمہ اللہ کی کچھ احادیث آرہی ہیں جو جزء ثامن کے آخر میں تھیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3547]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح