بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 28 از 86
حدیث نمبر: 2378 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكْيرٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكْيرٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرِهِ، فَكُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ، أَشَارَ إِلَيْهِ وَكَبَّرَ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، جب بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجر اسود کے قریب پہنچتے تو اشارہ کر کے اللہ اکبر کہتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2378]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1612
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1612
حدیث نمبر: 2379 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا خَتِينٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جس وقت وصال مبارک ہوا ہے، اس وقت تک میرے ختنے ہو چکے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2379]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6299، الحجاج ابن أرطاة مدلس وقد عنعن، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 6299، الحجاج ابن أرطاة مدلس وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2380 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ ، كُرَيْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَعَثَتْ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ، وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ، وَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ، وَكَانَ ضِمَامٌ رَجُلًا جَلْدًا أَشْعَرَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ" , قَالَ: مُحَمَّدٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , فَقَالَ: ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنِّي سَائِلُكَ وَمُغَلِّظٌ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلَا تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ، قَالَ:" لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي، فَسَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ" , قَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ، وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ، وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ بَعَثَكَ إِلَيْنَا رَسُولًا؟ فَقَالَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ" , قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ، وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ، وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْمُرَنَا أَنْ نَعْبُدَهُ وَحْدَهُ، لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ نَخْلَعَ هَذِهِ الْأَنْدَادَ الَّتِي كَانَتْ آبَاؤُنَا يَعْبُدُونَ مَعَهُ؟ قَالَ:" اللَّهُمَّ نَعَم" , قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ، وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ، وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ؟ قَالَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ" , قَالَ: ثُمَّ جَعَلَ يَذْكُرُ فَرَائِضَ الْإِسْلَامِ فَرِيضَةً فَرِيضَةً: الزَّكَاةَ، وَالصِّيَامَ، وَالْحَجَّ، وَشَرَائِعَ الْإِسْلَامِ كُلَّهَا، يُنَاشِدُهُ عِنْدَ كُلِّ فَرِيضَةٍ كَمَا يُنَاشِدُهُ فِي الَّتِي قَبْلَهَا، حَتَّى إِذَا فَرَغَ، قَالَ: فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَسَأُؤَدِّي هَذِهِ الْفَرَائِضَ، وَأَجْتَنِبُ مَا نَهَيْتَنِي عَنْهُ، ثُمَّ لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْقُصُ , قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى بَعِيرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَلَّى:" إِنْ يَصْدُقْ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ، يَدْخُلْ الْجَنَّةَ" , قَالَ: فَأَتَى إِلَى بَعِيرِهِ، فَأَطْلَقَ عِقَالَهُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَال: بِئْسَتِ اللَّاتُ وَالْعُزَّى , قَالُوا: مَهْ يَا ضِمَامُ، اتَّقِ الْبَرَصَ وَالْجُذَامَ، اتَّقِ الْجُنُونَ , قَالَ وَيْلَكُمْ، إِنَّهُمَا وَاللَّهِ لَا يَضُرَّانِ وَلَا يَنْفَعَانِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ بَعَثَ رَسُولًا، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ كِتَابًا اسْتَنْقَذَكُمْ بِهِ مِمَّا كُنْتُمْ فِيهِ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وإِنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِهِ بِمَا أَمَرَكُمْ بِهِ، وَنَهَاكُمْ عَنْهُ , قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَمْسَى مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَفِي حَاضِرِهِ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَّا مُسْلِمًا , قَال: يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَا سَمِعْنَا بِوَافِدِ قَوْمٍ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے بھیجا، وہ آئے، اپنا اونٹ مسجد نبوی کے دروازے پر بٹھایا، اسے باندھا اور مسجد میں داخل ہو گئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے، ضمام ایک مضبوط آدمی تھے، ان کے سر پر بال بہت زیادہ تھے جس کی انہوں نے دو مینڈھیاں بنا رکھی تھیں، وہ چلتے ہوئے آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچ کر رک گئے اور کہنے لگے کہ آپ میں سے ابن عبدالمطلب کون ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں ہوں، انہوں نے پوچھا: کیا آپ ہی کا نام محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا۔ ضمام نے کہا کہ اے ابن عبدالمطلب! میں آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں، ہو سکتا ہے اس میں کچھ تلخی یا سختی ہو جائے اس لئے آپ برا نہ منائیے گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں برا نہیں مناتا، آپ جو پوچھنا چاہتے ہیں، پوچھ لیں، ضمام نے کہا کہ میں آپ کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جو آپ کا اور آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آنے والوں کا معبود ہے، کیا اللہ ہی نے آپ کو ہماری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! پھر ضمام نے کہا کہ میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جو آپ کا، آپ سے پہلوں کا اور آپ کے بعد آنے والوں کا معبود ہے، کیا اللہ نے آپ کو ہمیں یہ حکم دینے کے لئے فرمایا کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ان تمام معبودوں اور شرکاء کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے آبا و اجداد پوجا کرتے تھے؟ فرمایا ہاں! پھر ضمام نے مذکورہ قسم دے کر پوچھا کہ کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم یہ پانچ نمازیں ادا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! پھر ضمام نے ایک ایک کر کے فرائض اسلام مثلا زکوۃ، روزہ، حج اور دیگر تمام شرائع کے بارے سوال کیا اور ہر مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مذکورہ الفاظ میں قسم دیتا رہا، یہاں تک کہ جب ضمام فارغ ہوگئے تو کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں یہ فرائض ادا کرتا رہوں گا، اور جن چیزوں سے آپ نے مجھے منع کیا ہے میں ان سے بچتا رہوں گا، اور اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کروں گا۔ پھر وہ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر چلے گئے، ان کے جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس دو چوٹیوں والے نے اپنی بات سچ کر دکھائی تو یہ جنت میں داخل ہو گا، ضمام نے یہاں سے روانہ ہوتے ہی اپنے اونٹ کی رسی ڈھیلی چھوڑ دی یہاں تک کہ وہ اپنی قوم میں پہنچ گئے، لوگ ان کے پاس اکٹھے ہو گئے، ضمام نے سب سے پہلی بات جو کی، وہ یہ تھی: لات اور عزی بہت بری چیزیں ہیں، لوگ کہنے لگے: ضمام! رکو، برص اور جذام سے بچو، پاگل پن سے ڈرو، (ان بتوں کو برا بھلا کہنے سے کہیں تمہیں یہ چیزیں لاحق نہ ہو جائیں)، انہوں نے فرمایا: افسوس! واللہ! یہ دونوں چیزیں نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ ہی نفع، اللہ نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرما دیا ہے، اس پر اپنی کتاب نازل کر کے تمہیں ان چیزوں سے بچا لیا ہے جن میں تم پہلے مبتلا تھے، میں تو اس بات کی گواہی دے آیا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور پیغمبر ہیں، اور میں تمہارے پاس ان کی طرف سے کچھ احکامات لے کر آیا ہوں اور کچھ ایسی چیزیں جن سے وہ تمہیں منع کرتے ہیں، واللہ! شام ہونے سے پہلے ان کے قبیلے کا ہر مرد اور ہر عورت اسلام قبول کر چکے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی قوم کا نمائندہ افضل نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2380]
حکم دارالسلام
حديث حسن، محمد بن الوليد قد توبع
الحكم: حديث حسن، محمد بن الوليد قد توبع
حدیث نمبر: 2381 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اختصار کے ساتھ اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2381]
حکم دارالسلام
حديث حسن، راجع ما قبله
الحكم: حديث حسن، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 2382 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا كَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ إِلَّا كَصَلَاةِ أَحْرَاسِكُمْ , هؤلاء الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ، إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ عُقْبًا، قَامَتْ طَائِفَةٌ وَهُمْ جَمْعٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ، فَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ، وَقَامَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا سَجَدُوا مَعَهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِمْ، سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ جَلَسُوا، فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صلوۃ الخوف اسی طرح ہوتی تھی جیسے آج کل تمہارے چوکیدار تمہارے ائمہ کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، البتہ ہوتا یہ تھا کہ فوج گھاٹیوں میں ہوتی تھی، لوگوں کا ایک گروہ کھڑا ہو جاتا، ہوتے وہ سب ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جب سجدہ کر چکتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور جو گروہ کھڑا ہوتا وہ خود سجدہ کر لیتا، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوتے تو سب ہی کھڑے ہو جاتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع کرتے، تمام لوگ بھی رکوع کرتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سجدہ میں وہ لوگ شریک ہو جاتے جو پہلی مرتبہ کھڑے ہوئے تھے اور پہلی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرنے والے کھڑے ہو جاتے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ جاتے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آخر میں سجدہ کیا ہوتا، تو وہ لوگ سجدہ کر لیتے جو کھڑے تھے، پھر وہ بیٹھ جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سب کو اکٹھا لے کر سلام پھیرتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2382]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2383 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيُّ ، طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُونَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ، وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا، وَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ" , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَّا الطِّيبُ، فَلَا أَدْرِي، وَأَمَّا الْغُسْلُ، فَنَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو، اور اپنا سر دھویا کرو، اور خوشبو لگایا کرو؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ خوشبو کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ غسل کی بات صحیح ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2383]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2384 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ الْحَضْرَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ ، كُرَيْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ الْحَضْرَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، كِلَاهُمَا حَدَّثَنِي، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي بُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ مُتَوَشِّحَاً به، مَا عَلَيْهِ غَيْرُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رات کے وقت ایک حضرمی چادر میں اچھی طرح لپٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم مبارک پر اس کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2384]
حکم دارالسلام
حديث حسن، محمد بن الوليد لم يرو عنه غير ابن إسحاق، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، محمد بن الوليد لم يرو عنه غير ابن إسحاق، وقد توبع
حدیث نمبر: 2385 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عِكْرِمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ وَهُوَ" يَتَّقِي الطِّينَ إِذَا سَجَدَ بِكِسَاءٍ عليه، يَجْعَلُهُ دُونَ يَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ إِذَا سَجَدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک مرتبہ بارش کے دن دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں جاتے تو زمین کے کیچڑ سے بچنے کے لئے اپنی چادر کو زمین پر بچھا لیتے، پھر اس پر ہاتھ رکھتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2385]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف، لضعف حسين بن عبدالله
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف، لضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 2386 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، بَعْضِ أَهْلِهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيْهِ قَبْلَ الْفَجْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَالْآيَتَيْنِ مِنْ خَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِفَاتِحَةِ الْقُرْآنِ، وَبِالْآيَةِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ: قُلْ يَأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ سورة آل عمران آية 64 , حَتَّى يَخْتِمَ الْآيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی سنتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ پہلی رکعت میں سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی تلاوت فرماتے تھے، اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورہ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرماتے: «‏‏‏‏ ﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ . . . . .﴾ [آل عمران: 64] » یہاں تک کہ اس آیت کو مکمل فرما لیتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2386]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لجهالة الراوي عن ابن عباس
الحكم: إسناده ضعيف، لجهالة الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2387 مسند احمد
سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: طَلَّقَ رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ أَخُو بني مُطَّلِبِ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ، فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا، قَالَ: فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ طَلَّقْتَهَا؟" , قَالَ: طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا , قَالَ: فَقَالَ:" فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ" , قَالَ: فَرَجَعَهَا , فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَى أَنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رکانہ بن عبد یزید - جن کا تعلق بنو مطلب سے تھا - نے ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، بعد میں انہیں اس پر انتہائی غم ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے کس طرح طلاق دی تھی؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسے تین طلاقیں دے دی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں دے دی تھیں؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: پھر یہ ایک ہوئی، اگر چاہو تو تم اس سے رجوع کر سکتے ہو۔ چنانچہ انہوں نے رجوع کر لیا، اسی وجہ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ طلاق ہر طہر کے وقت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2387]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، رواية داود بن الحصين عن عكرمة فيها شيء
الحكم: إسناده ضعيف، رواية داود بن الحصين عن عكرمة فيها شيء
حدیث نمبر: 2388 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ، جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ، تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ، وَحُسْنَ مُنْقَلَبِهِمْ، قَالُوا: يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ بِمَا صَنَعَ اللَّهُ لَنَا، لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ، وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ" , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ عَلَى رَسُولِهِ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا سورة آل عمران آية 169.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب غزوہ احد کے موقع پر تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹوں میں رکھ دیا جو جنت کی نہروں پر اترتے، اس کے پھلوں کو کھاتے اور عرش کے سائے میں سونے کی قندیلوں میں رہتے تھے، جب انہوں نے اپنے کھانے پینے کی چیزوں کی یہ عمدگی، اور آرام کے لئے ایسا بہترین ٹھکانہ دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ کاش! ہمارے بھائیوں کو بھی کسی طریقے سے پتہ چل جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے، تاکہ وہ بھی جہاد سے بےرغبتی نہ کریں اور لڑائی سے منہ نہ پھیریں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارا یہ پیغام ان تک میں پہنچاؤں گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر سورہ آل عمران کی یہ آیات نازل فرما دیں: « ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [آل عمران: 169] » ۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2388]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، أبو الزبير المكي لم يسمع من أبن عباس، وبينهما فى هذا الحديث سعيد بن جبير
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، أبو الزبير المكي لم يسمع من أبن عباس، وبينهما فى هذا الحديث سعيد بن جبير
حدیث نمبر: 2389 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عبد الله، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2389]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2390 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقِ نَهَرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ، فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ، يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شہداء کرام باب جنت پر موجود ایک نہر کے کنارے پر سبز رنگ کے خیمے میں رہتے ہیں، جہاں صبح و شام جنت سے ان کے پاس رزق پہنچتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2390]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2391 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَشَى مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، ثُمَّ وَجَّهَهُمْ، وَقَالَ:" انْطَلِقُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ" , وقال:" اللَّهُمَّ أَعِنْهُمْ" , يَعْنِي: النَّفَرَ الَّذِينَ وَجَّهَهُمْ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بقیع غرقد تک پیدل چل کر گئے، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ، اور فرمایا: اے اللہ! ان کی مدد فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد اس سے وہ لوگ تھے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کعب بن اشرف کی طرف بھیجا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2391]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2392 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَفَرِهِ , وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ حُصَيْنِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ خَلَفٍ الْغِفَارِيَّ، وَخَرَجَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ، فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ مَاءٍ بَيْنَ عُسْفَانَ وَأَمْجٍ أَفْطَرَ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى نَزَلَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ سفر پر روانہ ہوئے، اور مدینہ منورہ میں اپنا نائب سیدنا ابورہم کلثوم بن حصین رضی اللہ عنہ کو بنا دیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دس رمضان کو نکلے تھے، اس لئے خود بھی روزے سے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی روزے سے تھے، جب کدید نامی جگہ پر - جو عسفان اور امج کے درمیان پانی کی ایک جگہ ہے - پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا، پھر روانہ ہو گئے یہاں تک کہ مر الظہران پر پہنچ کر پڑاؤ کیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ دس ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2392]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2393 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نجيج ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَمُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نجيج , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَمُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فِي سَفَرِهِ وَهُوَ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوران سفر حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2393]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2394 مسند احمد
حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورٍ ، الْحَكَمِ ، ابْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ:" كَفِّنُوهُ وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُلَبِّي , أَوْ وَهُوَ يُهِلُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے کفن نہ دو، اور نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2394]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206
حدیث نمبر: 2395 مسند احمد
أَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، بِإِسْنَادِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو یہاں مذکور ہوئی، البتہ اس میں سر کے بجائے چہرہ ڈھانپنے سے ممانعت کی گئی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2395]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206، وعند مسلم : ولا تغطوا وجهه
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206، وعند مسلم : ولا تغطوا وجهه
حدیث نمبر: 2396 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مَنْصُورٌ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ:" لَا هِجْرَةَ، يَقُولُ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِنْ اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہیں رہا، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے، لہذا اگر تم سے کوچ کا مطالبہ کیا جائے تو کوچ کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2396]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، تكلم فى زياد بن عبدالله
الحكم: حديث صحيح، تكلم فى زياد بن عبدالله
حدیث نمبر: 2397 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى كَتِفِي أَوْ عَلَى مَنْكِبِي شَكَّ سَعِيدٌ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور فرمایا: اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2397]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 143، م: 2477 بدون لفظ : وعلمه التأويل
الحكم: إسناده قوي، خ: 143، م: 2477 بدون لفظ : وعلمه التأويل